اسلام آباد /مظفر آباد /بالا کوٹ (خصوصی رپورٹ)آٹھ اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلے کو12 سال مکمل ہو گئے ¾7.6کی شدت سے آنے والے زلزلے میں کشمیر اور خیبر پختون خوا میں 80ہزار کے قریب افراد جاں بحق اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف بالا کوٹ میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔شہداءزلزلہ کی یاد میں سب سے بڑی تقریب مظفرآباد میں ہوئی جس کے دوران 8 بجکر 52منٹ پر سائرن بجاکرایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی ¾آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی یاد میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں دعائیہ تقریب کا انعقاد ہوا، گورنمنٹ ہائی اسکول بالاکوٹ میں 8 اکتوبر کے زلزلے میں 63 طلبہ جاں بحق ہوئے تھے۔آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے آزادکشمیرمیں مجموعی طورپر2800 کے قریب سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہوئے ¾مظفرآباد ¾باغ اور راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی ¾3 لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔زلزلے کے دوران اسکولوں کی عمارتیں گرنے سے18ہزارسےزائدبچے شہید ہوئے تھے تاہم بارہ سال گزرنے کے باوجود آزادکشمیرمیں تعمیرنوکاپروگرام نامکمل ہے ¾تعمیرنوکے7835 منصوبوں میں سے2442 منصوبے تکمیل کے منتظر ہیں۔دوسری جانب مانسہرہ میں زلزلے سے تباہ 212 اسکولوں کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی ۔ 2005کے سانحے میں ضلع مانسہرہ کے 1132اسکول تباہ ہوئے جن میں تحصیل بالاکوٹ کے ہزاروں طلباءو طالبات بھی شہید ہوگئے اور جو بچ گئے وہ آج تک حصول علم کے لئے شیلٹرز یاکھلے آسمان تلے سخت موسم کا مقابلہ کرنے پرمجبور ہیں۔تحصیل ناظم رستم خان میں زیادہ تر اسکولز تعمیر نہیں ہوئے اور بچے شیلٹروں یا ٹینٹوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اورابھی سردی کا موسم آ رہا ہے تو اس میں وہ کیسے تعلیم حاصل کریں ۔مانسہرہ کے عوام12سالوں سے اسکولوں کی تعمیر کے حکومت کی راہ تک رہے ہیں آج بھی سینکڑوں تباہ شدہ اسکول ایسے ہیں جہاں فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیر کا کام شروع ہی نہ ہو سکا ۔ای ڈی او مانسہرہ ظفر عباسی کا کہنا ہے اسکولز پرکوئی کام شروع نہیں ہوا ان کی تعداد 212ہے اور یہ بہت بڑی تعداد ہے ۔ضلع مانسہرہ میں فنڈز کی کمی یا حکومت کی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کا مستقبل حکمرانوں کےلئے ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گا۔






































