اسلام آباد ( نعےم جدون ) ملک مےںحکومتی سطح پر جاری کشےدہ صورتحال کے پےش نظر غےر ملکی مالےاتی و امدای اداروں کی طرف سے پاکستان کےلئے منظور شدہ فنڈنگ روکنے سے متعدد ترقےاتی منصوبے سست روی کا شکار ہونے لگے ۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالےاتی اداروں نے رواں مالی سال کے دوران صرف وفاق کی سطح پر مختلف ترقےاتی منصوبوں کی مد مےں اےک کھرب 62 ارب روپے سے زائد کے فنڈ منظور کررکھے ہےں جبکہ صوبائی سطح کے بھی 32 ارب روپے کے منصوبے شامل ہےں تاہم رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ان ترقےاتی منصوبون کےلئے محض 2 ارب 93 کروڑ روپے جاری کئے جاسکے ہےں جو کہ منظور شدہ فنڈکا 1.8 فےصد بنتا ہے ۔ پاکستان کی حکمران جماعت کے سربراہ اور سابق وزےر اعظم نواز شرےف اور موجودہ وزےر خزانہ اسحاق ڈار پر کرپشن کےس کی وجہ سے آئی اےم اےف ، ورلڈ بنک کی طرف سے اگست کے آخر مےں ملنے والا قرضے کی قسط بھی ابھی تک جاری نہےں ہوسکی ۔ مالےاتی اداروں کی طرف سے فنڈنگ کا عمل بروقت نہ ہونے کی وجہ سے انرجی سمےت مختلف اہم شعبوں مےں جاری ترقےاتی منصوبے سست روی کا شکار ہورہے ہےں ۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالےاتی اداروں کی طرف سے نواز حکومت پر پہلے اعتماد کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران ترقےاتی منصوبوں کی مد مےں 2 کھر ب 10 روپے سے زائد کے منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی جبکہ صوبائی سطح پر بھی جاری ترقےاتی منصوبوں کےلئے50 ارب روپے سے زائد کے قرضے منظور کئے گئے تاہم اب ملک مےں حکومت کے سب سے بڑے عہدے وزےر اعظم پر کرپشن کےس سامنے آنے اور وزےر خزانہ پر بھی کرپشن کےس ہونے کے بعد عالمی مالےاتی اداروں نے تحفظات کا اظہار کےا ہے اس معاملے پر اقتصادی ماہرےن نے بھی خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالےاتی اداروں سے لئے گئے قرضے کی ادائےگی پاکستان مےں کوئی بھی حکومت آئے اس کی ادائےگی کی ذمہ دار ہے تاہمپاکستان مےں اس طرح کے حالات سے پاکستان کی معےشت پر منفی اثرات پڑتے ہےں جس سے قرضوں کی ادائےگی مےں دشواری پےدا ہوتی ہے مالےاتی ادارے کسی بھی ملک کو قرضہ وہاں کی اقتصادی اور سےاسی صورتحال کو مد نظر رکھ کر دئےے جاتے ہےں اور پاکستان کو غےر ملکی امداد اور قرضوں کے حصول مےں آئندہ زےادہ مشکلات کا سامنا رہے گا ۔





































