کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر اور اس کے اطراف میں پانچ تھانوں کی حدود میں خواتین و بچوں کو چھرے کے وار سے زخمی کرنے کے مسلسل واقعات نے کراچی پولیس کی عزت کا بھٹا بٹھا دیا ۔ تاہم پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس نے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شاطر چھری بازملزم کی گزشتہ 48گھنٹوں میں گرفتاری کیلئے انتہائی خفیہ اور اہم پلان تیار کر کے ہنگامی بنیادوں پر حفیہ پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اور اس خفیہ پلان کے بارے میں میڈیا کو ملزم کی گرفتاری تک کسی بھی قسم کی تفصیلات دینے سے گریز کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ملزم پولیس کے کسی بھی پلان سے ناواقف رہے اور ملزم کو با آسانی گرفتار کیا جا سکے۔ واضع رہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے اس وقت پولیس کے تقریباً تمام شعبے و سیل کام کر رہے ہیں۔ تاہم ملزم کی تا حال گرفتاری عمل میں نا آنے کے سبب کراچی پولیس کی نیندیں اُڑ گئیں ہیں۔ دوسری جانب گلستانِ جوہر و اس کے اطراف کے علاقوں گلشنِ اقبال، عزیز بھٹی ، پی آئی بی اور شارع فیصل تھانوں کی حدود میں چھرے وار سے خواتین کر زخمی کرنے کے واقعات پر سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور عوام کا شدید ردِ عمل بھی پولیس کے لیے پریشان کن بن گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کے دو سیل کسی حد تک تکنیکی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے خفیہ حکمتِ عملی سے قبل انتہائی سینیئر و جوبعض ریٹائرڈ تجربہ کار پولیس افسران اور بعض سینئر صحافیوں سے بھی صلاح مشورے کیے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 48گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری متوقع ہے۔ حفیہ پلان کو انتہائی حفیہ رکھا گیا ہے۔اُدھر پولیس اس امر کو بھی مدِ نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں ملزم پبلک کے ہتھے چڑھ گیا تو نا صرف مارا جائے گا بلکہ خدشہ ہے کہ مشتعل لوگ اسے زندہ جلا نہ دیں۔ اس صورتحال میں یہ بات منظرِ عام پر نہیں آسکے گی کہ ملزم ایسے واقعات کیوں کر رہا تھا۔ اس لیے پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے بلآخر اپنے اہم و خفیہ پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا اور آئندہ 48گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری متوقع ہے۔






































