اسلام آباد(آن لائن )مختلف دینی جماعتوں سے وابستہ علماءکرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے فارم سے حلف نامے کو نکالنے کی سازش کے ذمہ دار عناصر کو قوم کے سامنے پیش کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے بعض عناصرملک کوسیکولرسٹیٹ بنانے اورقادیانیوں کوخوش کرنے کے لیے ایسے اقدمات کر رہی ہے اس سے قبل بھی ختم نبوت کو چھیڑنے کی ساشیں ہوتی رہی ہیں مگر علماءنے ان سازشوں کو ناکام بنایا ہے ختم نبوت کی حفاظت اپنے خون کے اخری قطرے تک کریں گے ان خیالات کااظہارعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آبادکے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحیدقاسمی ،اسلام آبادعلماءکونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹرظفراقبال جلالی ،مرکزی جماعت اہل سنت اسلام آبادکے امیرمولانامیاں عبدالقادرسکندری ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آبادکے مبلغ مولانامحمدطیب فاروقی ،جمعیت علماءپاکستان ضلع اسلام آبادکے سیکرٹری جنرل علامہ تنویراحمداعوان ،مرکزی جماعت اہل سنت اسلام آبادکے ناظم اعلی مولانانصیب الحسن ہزاروی ،جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءقاری محمداسحق نورانی ،قاری زاہدجیلانی ،مفتی محمدندیم قاسمی ،مرکزی جماعت اہل سنت راولپنڈی ڈویژن کے ناظم اعلی مفتی فداحسین رضوی ،مولاناضیاءالحق چشتی ،قاری محمدسلیم چشتی ،قاری عبدالسلام جیلانی ،مولانامحمدافضل قادری،مرکزی جماعت اہل سنت ضلع راولپنڈی کے ناظم دعوت وتبلیغ مولاناوسیم اکرم کیلانی ،حافظ شعیب علی عطاری ،عبدمصطفی اور دیگر علما ءکرام نے خصوصی بات چیت کے دوران کیا انہوں نے کہاکہ حکومت اصلاحات کے نام بگاڑمت پیداکرے اس وقت پورے ملک کے علماءاورمذہبی جماعتوں میں اضطراب پایاجاتاہے کاغذات نامزدگی سے ”میں صدق دل سے قسم اٹھاتا ہوں“ کے الفاظ کو ”میں اقرار کرتا ہوں“ میں تبدیل کرنا محض ایک غلطی قرار نہیں دی جاسکتی ہے ایسے اقدامات کر کے حکومت نے اپنی بدنیتی ظاہر کی ہے انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی اساس پر کاری ضرب ہے ا س ملک کو سیکولر بنانے کی طرف اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں اس معاملے پر کوئی مسلمان خاموش نہیں بیٹھ سکتا حکومت نے یورپ ، امریکہ ، اورقادیانی لابی کی خوشنودی کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے پاکستان جن نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آیا ہے ان سے انحراف نہیں کرنے دیں گے یہ حکومتی اقدام شریعت سے متصادم ہے انہوں نے کہا ہے کہ کنڈکٹ جنرل الیکشن آرڈر 2002 میں قادیانی ، احمدی ، لاہوری اور دیگر گروپوں کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے پورا ایک صفحہ موجود تھا،ہم حکومت کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ جو قانون بنوا سکتے ہیں وہ اس کی حفاظت بھی جانتے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں کودیکھے جوآئے روز حکومت کے لیے مشکلات پیداکررہے ہیں،مزیدان کا کہناتھا کہ ختم نبوت کے حوالے سے کسی قسم کی لفظی ترمیم بھی مسلمان گوارا نہیں کرسکتے ہیںانہوں نے کہاکہ ہمارے اکابرین نے جوقانون 1974ءمیں منظورکروایا تھااس کے ساتھ چھیڑخوانی برداشت نہیں،اس کی مکمل طور پر حفاظت کریںگے اور کہا کہ نااہلی کو آئین کا لبادہ اوڑھنے کی بھی مذموم کی بھی بھر پور مذمت کرتے ہیں ،ن لیگ اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کے لئے ملک کے آئین کے ساتھ کھیل رہے ہیں قومی اسمبلی کے ممبران کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔





































