لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی ایک اہم ادارہ ہے وہاں پر سنجیدہ معاملات پر گفتگو ہوتی ہے کیپٹن (ر) صفدر کے حالیہ بیان کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہئے عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لانا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو جیسا آزاد خیال اور مغربی درسگاہوں سے تعلیم یافتہ شخص اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت کیوں قرار دیتا۔ کیپٹن صفدر نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ یہ اسی کا تسلسل ہے جو ن لیگ کے حلقوں میں فوج کے بارے میں رہی ہے۔ جب آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے 4 نام وزیراعظم کو بھجوائے گئے تھے تو اس وقت بھی ن لیگ کے سنیٹر ساجد میر نے ایک نام جو آرمی چیف کیلئے سلیکٹ ہوا کو قادیانی قرار دے دیا تھا۔ ساجد میر کی یہ شرارت سو فیصد سیاسی تھی جس طرح کانگریس نے شو بوائے کے طور پر ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین کو رکھا ہوا تھا اسی طرح ن لیگ نے بھی ساجد میر کو رکھا ہوا ہے۔ رانا ثناءاللہ نے جو بیان دیا ہے اس معاملے کی وضاحت کریں۔ کیپٹن (ر) صفدر نے پارلیمنٹ میں تقریر تو درست کی تاہم ان کا یہ دعویٰ غلط ہے ک ہ فوج میں قادیانی ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کئی سینئر فوجی افسران سے اس بارے بات کی تو پتہ چلا کہ آج کی فوج میں بریگیڈیئر کے عہدے سے اوپر عقیدہ ختم نبوت پر اقرار نامہ لیا جاتا ہے آج کوئی بھی میجر جنرل یا لیفٹیننٹ جنرل نہیں جس پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا جا سکے۔ کیپٹن (ر) صفدر نے شاید ن لیگ کے دامن پر آنے والی آلودگی کو دھونے کی کوشش کی ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب بنایا گیا 81 سال کی عمر میں کسی کا مکمل طور پر فعال ہو کر کام کرنا بڑا مشکل ہے۔ ان کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں کام کرنے کی ہمت اور طاقت دے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماﺅں پر نیب میں بے شمار کیسز ہیں ان کا جاوید اقبال پر اعتماد کا اظہار کرنا خود ایک سوالیہ نشان ہے کہ یا تو ان رہنماﺅں کی عقل جواب دے گئی ہے یا انہیں امید ہے کہ نئے چیئرمین نیب انہیں بچائیں گے۔ ان حالات میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بڑے کڑے امتحان سے گزرنا ہو گا۔ مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ ختم نبوت کوئی چھوٹی بات یا عام عقیدہ نہیں ہے یہ ہمارے ایمان کو مستحکم کرتا ہے اور دائرہ ایمان میں رکھتا ہے۔ جو اس پر یقین نہیں رکھتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ وہ قرآن اور احادیث کا بھی انکاری ہوتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر نے ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔ تمام اعلیٰ افسران سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف لیا جانا چاہئے۔ حلف اسی سے لیا جاتا ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے باقی لوگ تو اسلئے بھی بری الذمہ ہیں۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کا بیان پڑھ کر لگا کر وہ اپنے بزرگوں کے کئے پر صفائی کا برش پھیرنا چاہ رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی غیر مسلم جج صاحبان برے نامور رہے اور بڑا اچھا کام کر چکے ہیں۔ قادیانیوں کو بھی بطور پاکستانی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کے بیان سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا۔ نئے چیئرمین نیب بارے کم جانتا ہوں تاہم وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک مسلسل مصروف رہے ہیں۔ آصف زرداری اور نوازشریف کا ان کے نام پر تفاق کرنا اصل خطرے کی گھنٹی ہے جس کا انہیں احساس ہونا چاہئے کہ کہیں ان سے غیر مناسب امیدیں تو وابستہ نہیں کر لی گئیں۔ نئے چیئرمین نیب کو بڑی احتیاط سے کام کرنا ہو گا معمولی لرزش بھی بہت بڑی غلطی سمجھی جائے گی۔ جسٹس (ر) سعد سعود جان احمدی تھے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رہے کچھ عرصہ قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر بھی کام کیا تاہم حکومت نے انہیں ریگولر چیف جسٹس نہیں لگایا تھا۔ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر غضنفر نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر ایک حواس باختہ اور پاگل شخص ہے، وہ بھارت سے ملنے والے ٹاسک کو پاک فوج کو بدنام کرو کے تحت ایسی باتیں کر رہا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو بھی حقوق حاصل ہیں۔ پاک فوج میں پہلے دن سے عقیدہ ختم نبوت کا اقرار نامہ کیا جاتا ہے جب کرنل یا بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی ہوتی ہے تو دوبارہ اقرار نامہ کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ساجد میر نے بھی ایسا ہی شوشا چھوڑا تھا میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو جانتا ہوں وہ ہمارے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسے حالات بنا دیئے گئے ہیں کہ جس کے منہ میں جو آتا ہے بول دیتا ہے کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں جس طرح کی باتیں کی گئی وہ غلط ہیں کیپٹن (ر) صفدر کو فوج کی الف بے تک معلوم نہیں ہے۔ اٹامک انرجی کمیشن میں بھی سخت سکروٹنی کے بعد بندے رکھے جاتے ہیں۔





































