اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے قانون کے حوالے سے پارلیمنٹ نے اجتماعی گناہ کیا ہے اس کےلئے اجتماعی استغفار بھی کرناہو گا، وزیر خارجہ دیار غیر جا کر خارجی ہو گئے ہیں، دینی جماعتوں کے اتحاد ہوتے ہی جماعت اسلامی اور جے یو آئی حکومتی اتحاد سے باہر آجائیں گی، تحریک انصاف پہل کرئے تو انتخابی اتحاد کے سلسلے میں بات چیت ہو سکتی ہے، سود کے خلاف موجودہ حکومت نے عدالت سے حکم امتناعی لیا ہوا ہے کاش اس کو ختم کرا سکتے۔ کیپٹن (ر) صفدر بولنے سے پہلے تولا کریں کہ وہ اس پر عمل درآمد کروا بھی سکیں گے کہ نہیں۔ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرلیں پھر دوسروں سے آئین کی پاسداری کرانے کی باتیں کی جائیں۔ گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ حلف نامے میں ختم نبوت سے متعلق شق کو ختم کرنے میں حکومت کو بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتا، مولانا فضل الرحمن کہ چکے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ کا اجتماعی گناہ تھا، تو اب اس کی اجتماعی استغفار بھی کرنا ہوگی ۔ حلف میں ختم نبوت کے خلاف حلف نامہ تبدیل کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ راجہ ظفر الحق سے توقع تھی وہ اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کریں گے لیکن انہوں نے بھی مایوس کیا۔ ایم ایم اے بحالی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس نو نومبر کو لاہور میں منعقد ہو رہاہے جس میں جلد فیصلہ کر لیا جائےگا۔





































