تازہ تر ین

عمران خان، جہانگیر ترین نے بد دیانتی کی یا نہیں، سچ تلاش کرینگے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (کرائم رپورٹر+ آئی این پی) سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان نے لندن فلیٹ ظاہر کیا لیکن کبھی آف شور کمپنی ڈکلیئر نہیں کی، سچ کی تلاش کےلئے یہ سماعت کر رہے ہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ محفوظ فیصلہ کل آجائے گا۔ منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںعدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کےلئے الگ الگ دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں 3 سوال اٹھائے گئے تھے، سورس آف لندن پراپرٹی، کتنی قیمت پر بیچا گیا اور رقم کہاں خرچ ہوئی اور لندن پراپرٹی پاکستان میں کب ڈکلیئر کی گئی؟۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت لندن فلیٹ 2000ئ میں ظاہر کیا گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لندن فلیٹ ظاہر کیا گیا لیکن آف شور کمپنی کبھی ڈکلئیر نہیں کی گئی۔ اس موقع پر وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ عمران خان آف شور کمپنی کے نہ بینیفشل مالک تھے اور نہ شیئر ہولڈر اس لیے ظاہر نہیں کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان تسلیم کر چکے ہیں کہ لندن فلیٹ خریدنے کےلئے نیازی سروسز بنائی گئی، نیازی سروسز لمیٹڈ کی ٹرانزیکشنز بتاتی ہیں کہ اس کے اصل مالک عمران خان ہیں، نیازی سروسز کبھی بھی کھوکھلی کمپنی نہیں رہی جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کے کسی جواب میں تضاد نہیں اور انہوں نے کسی جواب سے یوٹرن نہیں لیا، جواب میں تبدیلی کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم کیس میں سوالات درخواست گزار نے نہیں عدالت نے اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ لندن فلیٹ کی منی ٹریل اور قیمت فروخت مانگی گئی اور ہم نے لندن فلیٹ ظاہر کرنے کی تفصیلات بھی عدالت کو دیں۔ عمران خان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل سے 2002 ءکے اثاثے بتاتے ہوئے غلطی ہوسکتی ہے غلط بیانی نہیں اور 2002 ءکی غلط بیانی پر موجودہ الیکشن پر نااہلی مانگی گئی ہے تاہم عمران خان نے کچھ چھپایا ہوتا تو ریٹرننگ آفیسر کاغذات مسترد کرسکتا تھا اور عمران خان کے ریٹرن پر الیکشن کمیشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ حنیف عباسی کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے عمران خان کو جواب میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی لیکن عمران خان نے سماعت میں 18 مرتبہ موقف بدلا اور 18 سچ بولے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ سچ بولنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو یاد نہیں رکھنا پڑتا کہ پہلے کیا کہا تھا، مجموعی تصویر سامنے رکھ کر دیکھنا ہے کہ بددیانتی ہوئی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سچ کی تلاش کے لیے ہی یہ سماعت کر رہے ہیں اور یہ نہ سمجھا جائے کہ محفوظ فیصلہ کل آجائے گا۔ اکرم شیخ نے دلائل میں کہا کہ پاناما کیس میں جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے موقف بدلے، منتخب نمائندوں کو رعایت نہیں دی جاسکتی جبکہ عمران خان کا رویہ بتاتا ہے کہ عدالت کے سامنے وہ صادق اور امین نہیں جبکہ اکتوبر 2012 ءکا یورو اکاو¿نٹ سے متعلق بیان بھی عدالت کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں نے مقدس اختیار استعمال کرنا ہوتا ہے، اقتدار اللہ کی امانت ہے اور آئین کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہے۔ عمران خان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس کا پاناما سے موازنہ کسی طور نہیں کیا جاسکتا، وہ وزیراعظم کا معاملہ تھا کہ تنخواہ اکاو¿نٹ میں آتی رہی لیکن نکلوائی نہیں گئی لیکن عمران خان کے کیس میں رقم پاکستان سے باہر نہیں گئی۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ عمران خان نے اپنا یورو اکاو¿نٹ کب اور کتنی رقم سے کھولا جس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ یہ اکاو¿نٹ تب کھولا گیا جب عمران خان ممبر قومی اسمبلی تھے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اثاثہ چھپانے اور غلطی میں فرق ہے، عمران خان نے اپنا یورو اکانٹ ظاہر نہیں کیا، ہمارے سامنے بے شمار دستاویزات آئیں اور ہم حقائق اور سچ کا تعین سوال پوچھ کر کر رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کےلئے درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند بشیرسے استفسار کیا کہ لندن ہائیڈ ہاوس کامالک کون ہے؟ اورہائیڈ ہاوس کی رجسٹری کس کے نام ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شائنی ویوکمپنی ہائیڈ ہاﺅس کی مالک ہے اورلینڈرجسٹری شائنی ویوکے نام پرہے،10 مئی کو جائیداد شائنی ویوکمپنی نے خریدی۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جائیدادخریدنے کی ہدایت کس نے دی؟،کیاٹرسٹ کوپیسے جہانگیرترین نے دیئے تھے؟ جہانگیر ترین کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کو پیسے جہانگیرترین نے دیئے لیکن میرے موکل نے قانونی آمدن سے رقم بھیجی، میرے موقف کےخلاف کوئی موادنہیں ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ تمام منی ٹریل جہانگیرترین نے بتائی ہے، ٹرسٹ میں جہانگیرترین تاحیات بینی فشری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جہانگیرترین نے براہ راست رقم آف شورکمپنی کوبھیجی،یہ رقم ٹرسٹ کونہیں بھیجی۔ وکیل صفائی سکندر بشیر نے کہا کہ ٹرسٹ خود ایک قانونی ادارہ ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے تحریری جواب اورٹرسٹ ڈیڈمیں تضاد ہے، جہانگیر ترین صوابدیدی نہیں، تاحیات بینی فشری ہیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ عدالت صوابدیدی کے لفظ کو نظرانداز نہ کرے،ٹرسٹی جہانگیرترین کاتاحیات ہوناختم کر سکتا ہے۔ جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کیا جہانگیر ترین کاٹرسٹ پرکنٹرول نہیں؟ جہانگیر ترین کے موقف میں تضادہے،کاغذات نامزدگی میں کسی کو بینی فشل نہیں بنایاگیا،بینی فشری ہیں، اسے بھی گوشواروں میں ظاہرکرناچاہیے تھا۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیرترین کے بچے ابھی بینی فشل بنے ہی نہیں۔ عدالت نے فریقین کے وکلاکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain