تازہ تر ین

آئندہ 24گھنٹے اہم، حکومت کو مشکلات کا سامنا

لاہور (خصوصی رپورٹ) تحریک لبیک کے دھرنے نے حکومت کو سخت امتحان میں ڈال دیا اور سینئر راجہ ظفر الحق کی رپورٹ سر درد بن چکی ہے۔ حکومت وعدے کے مطابق رپورٹ منظر عام پر لانے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی کیخلاف کارروائی کی پوزیشن میں ہے۔ رضا کارانہ طور پر اب کوئی قربانی کا بکرا بننے کو بھی تیار نہیں ہے۔ برطرفی کی صورت میں حکومت کے خلاف نیا محاذ کھلنے کا امکان ہے جبکہ دھرنے کے شرکاہ، ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کے مرتکب وزیر کے متعفی ہونے تک دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تحریک لبیک کے دھرنے کے دباﺅ کے ساتھ حکومت پر جڑواں شہروں کے عوام ہی نہیں لاہور سے پشاور تک سفر کرنے والوں کا بھی پریشر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ٹریفک کا دباﺅ نا قابل برداشت ہوتا جا رہا ہے اور انتظامیہ کے صبر کا پیمانہ بھی چھلکنے کو ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اس دوران حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ ماہرین کے خلاف کریک ڈاﺅن یا پھر متعلقہ وزیر کے استعفیٰ کا اعلان کیا جائے۔ تحریک لبیک کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور مظاہرین اپنے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف انتظامیہ کسی بھی کارروائی سے گریزاں ہے۔ وزیر مملکت پیر محمد امین الحسنات کے مختلف وفود کے ساتھ مذاکرات بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ حکومت کے پاس ایک آپشن متعلقہ وزیر کو استعفیٰ کیلئے راضی کرنا تھا مگر انہوں نے بھی مستفیٰ ہونے سے معذرت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مستفیٰ ہونے کا مطلب اعتراف جرم ہے۔ اس لئے اس اہم معاملے پر قربانی کا بکرا نہین بن سکتا۔ وزیر کے انکار کے بعد گزشتہ روز اہم اجلاس ہوا۔ بعض وزراءکا خیال تھا جس طرح اس سے پہلے تحریک کے دھڑے کو مطمئن کر کے واپس بھیجا گیا تھا دوسرے کو بھی راجی کر لیا جائیگا اور اسی خیال سے انہیں لاہور سے اسلام آباد آنے کا موقع فراہم کیا گیا مگر اب یہ معاملہ حکومت کیلئے آزمائش بن چکا ہے۔ اسے عقلمندی سے حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معاملات کنٹرول سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔

 


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain