صحافیوں پر بھی دفعہ 144کیوں لگی؟, دیکھئے خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ)محکمہ داخلہ پنجاب سیکشن 144کے تحت محرم الحرام کے دوران امن وامان کا قیام یقینی بنانے کے لئے صوبہ بھر میں فضا میں بغیر پائلٹ اڑنے والی مشینری کے استعمال ، ریموٹ کنٹرولڈ ماڈل ائیرکرافٹ ، ڈرون کیمروں، فضائی کیمروں ، کواڈ کاپٹرز، ہیلی کیمز اور غباروں کے ذریعے میڈیا ، سپورٹس ، کمرشل اور تفریح سرگرمیوں کی کوریج پر ایک ماہ کے لئے پابندی عائد کریگا۔

ذیا بیطس اور نیورو پیتھی

ڈاکٹرنوشین عمران
نیورو پیتھی اعصابی نظام کا نقصان ہے یعنی دماغ، نسوں میں ہونے والی خرابی نیوروپیتھی کہلاتی ہے۔ اس تکلیف میں دماغ سے نسوں (NERVES) اور پھر نسوں کے درمیان سگنل بھیجنے یا پیغام رسانی میں کمی اور سستی ہو جاتی ہے۔ دماغ سے براہ راست نسوں اور دماغ سے حرام مغز کے ذریعے نسوں کو سگنل جاتے اور آتے ہیں۔ نسوں کا یہ نیٹ ورک تمام جسم کے ہر حصے تک جاتا ہے اسی لیے جسم کے کسی بھی بیرونی یا اندرونی حصے میں ہونے والی حرکت، یا چوٹ اور اس کے ردعمل کیلئے دماغ سے ہر وقت سگنل جاری ہوتے ہیں۔ نیوروپیتھی کی کیفیت ذیابیطس میں بہت عام ہے کیونکہ ذیابیطس کے مریضوں میں خاص کر وہ جنہیں بہت لمبے عرصے سے مرض ہو یا وہ جن میں ذیابیطس کنٹرول اچھا نہ ہو خون کی نالیاں پوری طرح سے خلیوں اور نسوں کی آکسیجن اور غذائیت نہیں پہنچا سکتیں اس لیے نسوں کی سگنل آگے بھیجنے کی اہلیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
نیوروپیتھی سے پیروں، ٹانگوں، ہاتھوں میں بے حسی کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ہاتھوں، پیروں میں سردی، گرمی محسوس کرنے کی حس کم ہو جاتی ہے کیونکہ دماغ سے سب سے دور ہونے والے مقامات میں پیر ہیں اس لیے نیوروپیتھی سب سے پہلے پیروں میں ہوتی ہے پھر بڑھتے ہوئے ٹانگوں تک آ جاتی ہے۔ نیوروپیتھی کے باعث جسم کے پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ معدہ خالی ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے جس سے معدہ میں متلی، قے، پیٹ پھولنا، ڈکار، قبض، بے آرامی رہتی ہے۔ مثانہ میں کنٹرول کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ پیشاب کرنے کے بعد بھی حاجت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ اچانک بستر یا کرسی سے کھڑے ہوں تو سر چکرا جاتا ہے یا کمزوری ہوتی ہے۔ بلڈپریشر لو ہو سکتا ہے۔ پیروں اور ٹانگوں پر پسینہ کم آتا ہے جس سے یہ جگہیں خنک ہو جاتی اور بعض اوقات خارش ہو سکتی ہے۔ رفتہ رفتہ نسوں کی بے حسی درد کی شکل اختیار کر جاتی ہے ایسا ہونے لگے تو یہ ذیابیطس کی ایک پیچیدگی کی ابتداءہے۔
علاج کیلئے لازمی شوگر کنٹرول کریں۔ پیروں کو صاف رکھیں، پیروں کی ورزش یا واک کریں کیونکہ اس سے پیروں اور ٹانگوں کو خون کی گردش بہتر ہو گی اور نسیں بہتر کام کریں گی۔ روزانہ رات نیم گرم پانی کے ٹب میں پیر ڈبو کر بیٹھیں اس سے بھی خون کی گردش بہتر ہو گی اور درد کو آرام آئے گا۔ وٹامن B.6 اور B.12 کی گولیاں دو سے تین ماہ روزانہ لیں۔
٭٭٭

لاہور شہر کی آبادی میں اضافہ

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
لاہور شہر کی آبادی کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس میں ایک سو سولہ (116) فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے لئے جواز یہ پیش کیا جارہا ہے کہ 1998ءکی مردم شماری میں یہ باون لاکھ تھی جبکہ اب یہ ایک کروڑ گیارہ لاکھ ہے۔ لیکن 1998ءمیں باون لاکھ صرف لاہور شہر کی آبادی تھی یعنی اربن‘ ضلع لاہور کی رورل (دیہی) آبادی اس کے علاوہ تھی‘ جو گیارہ لاکھ اکتیس ہزار تھی۔ اب رورل اربن کو ملا کر تمام ضلع لاہور کو شہری علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے یہ باون لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ گیارہ لاکھ نہیں ہوئی بلکہ تریسٹھ لاکھ چالیس ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ گیارہ لاکھ ہوئی ہے۔ یوں یہ اضافہ 116 فیصد نہی‘ 75.3 فیصد ہوا ہے۔ یہی نہیں‘ ضلع لاہور کی دو یونین کونسلوں کو بھی قصور سے نکال کر لاہور میں شامل کردیا گیا ہے۔ مقصد غالباً وہی ہے یعنی وہاں اپنے حامی ووٹروں کو لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں شامل کرنا‘ یہ کام 2015ءمیں ہوا۔ کس علاقے کو اربن قرار دینا ہے اور کس کو رورل‘ جس طرح یہ اختیار نہ وفاقی حکومت کے پاس ہے‘ نہ مردم شماری کرنے والوں کے پاس۔ اسی طرح کس علاقے کو ایک ضلع سے نکال کر دوسرے میں شامل کرنا ہے‘ یہ اختیار بھی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ اس میں نہ مرکزی حکومت دخل دے سکتی ہے‘ نہ مردم شماری کرنے والے۔ وہ صرف مردم شماری کرسکتے ہیں۔ اس وقت میرے سامنے ان دو یونین کونسلوں کی آبادی کے اعدادوشمار نہیں ورنہ اضافے کا درست فیصد نکالا جاسکتا تھا لیکن ان دو یونین کونسلوں کی آبادی کچھ نہ کچھ تو ہے۔ اس کا مطلب ہے لاہور شہر کی آبادی میں اضافہ 75.3 فیصد سے بھی کم ہوا ہے۔ لیکن لاہور کی آبادی ایک کروڑ ہو یا دس کروڑ‘ اس کا کراچی یا سندھ سے کیا تعلق واسطہ؟ اس کا تعلق پنجاب کے دوسرے شہروں سے تو ہوسکتا ہے لیکن کسی دوسرے صوبے سے نہیں۔ دو یونین کونسلوں کو قصور سے نکال کر لاہور میں شامل کرنے پر احتجاج قصور کو کرنا چاہئے؟ نہ کہ سینکڑوں کلو میٹر دور واقع کراچی جو شہر ہی کسی اور صوبے کا ہے‘ دوسرے صوبے سے تعلق صرف پورے صوبہ پنجاب کی آبادی کا تو ہوسکتا ہے جیسا کہ بیان کیا گیا‘ اس کی شرح پورے ملک کی آبادی کے حوالے سے بڑھی نہیں‘ کم ہوئی ہے۔ سو اس پر شکایت تو پنجاب کو ہونی چاہئے تھی اور شور اسے مچانا چاہئے تھا لیکن یہ کام سندھ کررہا ہے اور وہ بھی لاہور کی آبادی کو بنیاد بنا کر پنجاب کے خلاف۔ بلوچستان یا خیبرپختونخوا کی آبادی کے حوالے سے نہیں‘ جن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن لاہور کی آبادی میں تو رورل کو بھی اربن قرار دے کر اور ضلع قصور کی دو یونین کونسلوں کو اس میں شامل کرکے اضافہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے کچھ دیگر شہروں کی آبادی تقریباً اس کے برابر شرح سے بڑھی ہے۔ یہ جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان‘ راجن پور اور مظفرگڑھ ہیں۔ یعنی ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے تین شہر جن کی آبادی کی شرح بالترتیب 16 لاکھ 43 ہزار سے بڑھ کر 28 لاکھ 72 ہزار‘ گیارہ لاکھ سے بڑھ کر انیس لاکھ 95 ہزار اور 26 لاکھ 35 ہزار سے بڑھ کر 43 لاکھ 22 ہزار ہوئی۔ یوں پورے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کی آبادی 65 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ دس لاکھ ہوئی۔ یعنی 71.5 فیصد اضافہ۔ جس کے نتیجہ میں اس کی نشستوں میں دو کا اضافہ ہوگا‘ لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا یہ صوبے کا بالکل اندرونی معاملہ تھا جس طرح دادو اور سکھر کا۔ لیکن سندھ حکومت نے اسے کراچی بمقابلہ لاہور بنا دیا۔ مقصد جس کا اردو سپیکنگ تارکین وطن کے شور و غوغا کا رخ موڑنا تھا۔ یوں بحث کا رخ سندھ کی دیہی اور شہری آبادی سے موڑ کر لاہور اور پنجاب بن گیا۔ جس پر ایم کیو ایم وغیرہ نے بھی یہی لائن اختیار کرلی۔ جواز یہ پیش کرنا شروع کردیا کہ آج سے پانچ دس سال پہلے کراچی کی آبادی دو کروڑ ہوچکی تھی تو اب یہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کیسے ہوگئی؟ لیکن پانچ دس سال پہلے کے اعدادو شمار کوئی سرکاری اعدادوشمار نہیں تھے بلکہ محض اندازے اور تکے تھے۔ فاٹا اور ملک کے دیگر علاقوں سے کراچی آنے والے لوگوں کے بارے میں بھی ایک تو محض اندازے ہیں‘ دوسرے یہ لوگ جن علاقوں میں سیٹل ہوئے‘ سندھ حکومت نے وہ علاقے کراچی کی شہری آبادی سے باہر رکھے ہیں۔
لیکن یہ مت سمجھ لیجئے کہ ایم کیو ایم والے اتنے سادہ ہیں کہ سندھ حکومت نے انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا اور وہ لگ گئے۔ ان کے یہ لائن اختیار کرنے کے دو مقاصد ہیں۔ (1) کراچی کی شہری آبادی میں ان کی توقع کے مطابق اضافہ نہ ہونے پر احتجاج اور (2) حسب معمول پنجاب کو مطعون کرنے کا ایک اور سنہری موقع اور پنجاب کے گونگے سیاست دان ان کا جواب دینے کے بجائے حسب معمول خاموش ہیں۔ جس طرح سندھ حکومت اپنے حصے کا پورا پورا (بلکہ کئی مرتبہ زائد بھی) پانی وصول کرنے کے باوجود شور مچاتی ہے تاکہ وہاں کے بڑے زمیندار چھوٹے زمینداروں کے پانی کے حصے پر جو ڈاکہ ڈالتے ہیں‘ تو چھوٹے زمیندار جب اس پر احتجاج کریں تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرایا جاسکے کہ تمہارا حصہ تو پنجاب لے گیا اور پنجاب کے سیاستدان تب بھی صوبائیت پھیلنے کے خوف سے چپ رہتے ہیں لیکن بات یہیں پہ ختم نہیں ہوجاتی۔ پنجاب پر ایک اور مہربانی ہونا ابھی باقی ہے۔
مردم شماری کے یہ نتائج عبوری ہیں۔ آئینی طور پر صوبوں کی نشستوں میں کمی یا اضافہ حتمی نتائج آنے کے بعد ہونا ممکن ہے جو اگلے برس آئیں گے۔ چنانچہ قومی اسمبلی میں صوبوں کی نشستیں بدستور اسی طور رہنی ہیں لیکن قربان جایئے نون لیگ کی حکومت کے جو نشستوں میں کمی یا اضافے کے لئے ان عبوری نتائج کو بنیاد بنانے کی خاطر آئین میں ترمیم کرنے جارہی ہے۔ حالانکہ اس کے نتیجے میں صرف پنجاب کی نشستوں میں کمی ہوگی اور باقی صوبوں کی نشستوں میں اضافہ ہونا ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭

مفلوج جسم اور برما

راجہ عدیل اشفاق….اظہار خیال
حدیث مبارک ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ، جب جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو دوسرا حصہ بھی ا±سے محسوس کرتا ہے۔ اس فرمان مبارک کے ذریعے آپ نے امت مسلمہ کو باہم منسلک اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا پابند کردیا لیکن بدقسمتی سے آج مسلم ا±مہ ایک ایسا مفلوج زدہ جسم بن چکی ہے جس کے ایک حصے کو کاٹا جارہا ہے، بھنبھوڑا جارہا ہے، جلایا جارہا ہے لیکن دوسرے حصے کو اس کا کوئی احساس نہیں ۔ مسلمانوں پر مظالم ہونا کوئی آج کی بات نہیں بلکہ یہ صدیوں سے ہوتا آرہا ہے لیکن جو ظلم آج برما کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے اس نے گذشتہ تمام مظالم کو مات دے دی ہے۔ برما میں مسلمانوں کو ایسے بدترین طریقوں سے شہید کیا جارہا ہے کہ دیکھنا تو ایک طرف سن کر ہی روح لرز اٹھتی ہے۔ وہاں بزرگ و نوجوان مرد و خواتین او ننھے بچوں کو سرعام سنگسار کیا جارہا ہے، ذبح کیا جارہا ہے، زندہ جلایا جارہا ہے ، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گردن میں رسیاں ڈال کر جانوروں کی طرح گھسیٹا جارہا ہے ۔ انسانیت کے خلاف ان سنگین ترین جرائم پر اقوام متحدہ ،یورپین یونین اور جی ایٹ وغیرہ خاموش ہیں جو حیرت کی بات نہیں کیونکہ ان کا اسلام سے دور دور تک کا واسطہ نہیں لیکن برما کے معاملے پر آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز یعنی او آئی سی جو کردار ادا کررہی ہے اس پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ 57اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے جو مسلم امہ کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ 70ءکی تقریباً نصف دہائی تک یہ بہت متحرک رہی اور او آئی سی کے سرکردہ اراکین کے سربراہان نے مل کر ورلڈ بینک کی طرز پر اسلامی بینک قائم کرنے کے منصوبے پر کام بھی شروع کیا لیکن سیاسی بحرانوں کی وجہ سے یہ کام ادھورا ہی رہ گیا۔ تب سے لے کر اب تک مشترکہ مفادات کے لیے کام کرنے کے حوالے سے یہ تقریباًمفلوج ہی رہی ہے حالانکہ سعودی عرب، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی کئی ریاستوں سمیت او آئی سی میں شامل کئی ممالک تیل جیسی دولت سے مالامال ہیں جو کسی بھی ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔ 70ءکی دہائی میں اوپیک نے تیل کی پیداوار میں کمی کرکے یورپ کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔ تب سے اب تک دنیا کی ک±ل آبادی کا ایک چوتھائی حصّہ ہونے اور دنیا بھر میں دستیاب توانائی کے ستّرفیصد وسائل ہونے کے باوجود او آئی سی نے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا تماشہ دیکھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔ 80ءکی دہائی میں اسرائیل نے اعراقی ایٹمی تنصیبات اچانک حملہ کرکے تباہ و برباد کردیںکہ کہیں کوئی مسلمان ملک طاقت نہ حاصل کرلے ، او آئی سی بالکل خاموش رہی، 80ءکی دہائی میں روس نے بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اوآئی سی کے بانی اراکین میں سے ایک اہم مسلمان ملک افغانستان پر حملہ کردیا مگر او آئی سی نے کسی خاص ردّ عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ او آئی سی کے اراکین دو پڑوسی مسلمان ممالک اعراق اور ایران تقریباً آٹھ سال تک آپس میں جنگ لڑتے رہے۔ اس سانحہ میں دونوں اطراف کے تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے جو تمام کے تمام مسلمان تھے لیکن او آئی سی نے جنگ شروع ہونے سے قبل ہی روکنا تو ایک طرف شروع ہونے کے بعد بھی مصالحت کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ 1998ءمیں امریکہ نے افغانستان میں ا±سامہ بن لادن کے مبینہ ٹھکانے اور اس کے ساتھ ہی سوڈان کی ایک ادوّیہ ساز فیکٹری پر کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاکر حملہ کیا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے مگر او آئی سی نے چ±پ سادھے رکھی۔ 90ءکی دہائی میں امریکہ نے پہلے اعراق پر حملہ کیا جس میں ہزاروں اعراقی ہلاک، زخمی و معذور ہوئے اور بعد میں اعراق پر بلاوجہ اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ خوراک و ادویات نہ ملنے کی وجہ سے معصوم بچوں سمیت لاکھوں مسلمان اعراقی شہری موت کے منہ میں چلے گئے لیکن او آئی سی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ 2001ءمیں امریکہ نے بہانہ بناکرافغانستان پر حملہ کردیااورظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کیں، 2003ءمیں اقوامِ متحدہ کی تمام اقدار کو پامال کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اعراق پر حملہ آور ہوا۔ اب تک افغانستان اور اعراق میں کئی لاکھ مسلمان موت کے منہ میں جاچکے ہیں لیکن او آئی سی کی جانب سے مذمت تودور کی بات او آئی سی کے اراکین پڑوسی ممالک نے ایک غیر مسلم ملک کی بھرپور معاونت کی اور لاکھوں مسلمانوں کا خونِ ناحق بہانے میں بھرپور طریقے سے شریک ہوئے۔
ماضی قریب میں پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک سانحہ رونما ہوا، ناروے اور ڈنمارک کے چند اخباروں نے ہماری محترم ترین ہستی حضورِ اکرم کے خاکے شائع کرنے کی مذموم حرکت کی۔ اگرچہ مسلمان ممالک کی عوام نے اِس ناپاک جسارت پر بھرپور احتجاج کیا لیکن او آئی سی اس معاملے میں بھی خوابِ خرگوش کے مزے لیتی رہی ، شام میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے لیکن او آئی سی کے رکن ممالک ان مسائل پر کچھ کرنے کے بجائے آپس میں دست و گریباں ہیں۔ پاکستان نے روس افغان جنگ کے دوران پچیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دئیے رکھی، اس وقت بھی لاکھوں افغانی پاکستان میں مقیم ہے اس کے باوجود افعانستان ہر وقت پاکستان کے خلاف زہر ا±گلتا رہتا ہے اور ہمارے ازلی دشمن بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھارہا ہے۔ ایران ، کویت ،سعودی عرب ، عراق ، شام اور قطرکے آپس میں تعلقات سخت کشیدہ ہیں اور یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔او آئی سی کی طرح سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی ممالک کا اتحاد خواہ جس کے خلاف بھی تشکیل دیا گیا ہو لیکن یہ طے ہے کہ یہ مسلمانوں کی خاطر نہیں بنا ورنہ برما کو اب تک چھٹی کا دودھ یاد دلایا جاچکا ہوتا۔ اوآئی سی کا جو کردار ہے جس سے کوئی امید نہیں کہ یہ کچھ کرے گی، دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلانے کی طرح یہاں پاکستان کو ہی سب سے اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔ صرف پاکستانی قوم ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمان برما کے معاملے پر جنرل قمر باجوہ کی طرف دیکھ اور توقع کررہے ہیں کہ وہ مسلم امہ کو مایوس نہیں کریں گے بلکہ برما کی دہشت گرد حکومت کو سخت پیغام دیکر نام نہاد او آئی سی کے بیشتر اراکین ممالک کے سربراہان کو کچھ شرم دلائیں گے۔ یہاں میں ترک صدر طیب اردگان کو خصوصی الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ کی طرح برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر سخت آواز بلند کرکے ایک مرتبہ پھر اپنے اعلیٰ کردار کا ثبوت دیا ہے۔
(کالم نگار ایوان صنعت و تجارت لاہور
کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی رکن ہیں)
٭….٭….٭

ریاض ہاشمی،افضل مسعوداور ہم

ظہور احمد دھریجہ سرائیکی وسیب
مجھے بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ مرحوم کی خدمات کا بے حد احترام ہے اور میں ان کی خدمات کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن سرائیکی تحریک میں وہ بہت بعد میں آئے۔ جبکہ سیٹھ عبید الرحمن اور ریاض ہاشمی وہ آدمی تھے جنہوں نے سب سے پہلے سرائیکی جدوجہد کا علم اٹھایا اور بہاولپور صوبہ تحریک کو سرائیکی صوبہ تحریک میں تبدیل کیا، یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ریاض ہاشمی ہی وہ شخصیت ہیں جن کی انگریزی کتابBrief of bahawalpur province، 1972ءمیں شائع ہوئی۔ تو کتاب کے آخر میں سرائیکی صوبے کا نقشہ انہوں نے پہلی مرتبہ شامل کیا۔ اس نقشے میں صادق آباد سے ڈی آئی خان تک سرائیکی خطے کی جغرافیائی شناخت کے مطابق صوبے کی ڈیمانڈ کی گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ احترام اپنی جگہ، ریکارڈ درست ہونا چاہےے۔ ایک واقعہ عرض کرتا ہوں کہ دوستوں کے درمیان بات ہو رہی تھی کہ اوچ شریف کی لائبریری میں قرآن مجید کا تین سو سال پرانا قلمی نسخہ موجود ہے اس پر ایک صاحب بول پڑے کہ ہمارے مرشد کی لائبریری میں دو ہزار سال پرانا قلمی نسخہ بھی موجود ہے۔عرض کرنے کا مقصد اتنا ہے کہ عقیدت میں تاریخ مسخ نہیں ہونی چاہئے۔
ریاض ہاشمی کا ذکر آیا ہے، میں بتاتا چلوں کہ ریاض ہاشمی اس شخصیت کا نام ہے جو براہ راست مولانا عبیداللہ سندھی کے شاگرد ہیں، ان کے والد فیض الحسن المعروف ڈاکٹر بگا مرحوم نے ان کو تعلیم کے لئے کراچی کے مدرسے میں داخل کرایا لیکن 1939ءمیں مولانا عبیداللہ سندھی جلا وطنی کے بعد کراچی پہنچے اور ان کا اسی مدرسے میں خطاب تھا جہاں ریاض ہاشمی پڑھ رہے تھے۔ ریاض ہاشمی بتاتے ہیں کہ خطاب کے بعد میں مولانا عبید اللہ سندھی کوملا اور ان سے اپنا تعارف کرایا کہ میں خان پور سے آیا ہوں اور ڈاکٹر بگا کا بیٹا ہوں۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ تم مدرسے کی تعلیم چھوڑو کالج میں داخلہ لو اور وکیل بنو، چنانچہ انہوںنے ایسا کیا۔ ریاض ہاشمی بتاتے تھے کہ جب مولانا عبیداللہ سندھی دو تین سال بعد خان پور آئے تو بہت بیمار تھے، میں اپنے والد کو روزانہ سائیکل پر دین پور شریف لے جاتا اور حضرت سندھی سئیں کا میڈیکل چیک اپ کراتا۔ اس دوران مولانا عبیداللہ سندھی سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، مجھ میں سیاسی و انقلابی سوچ پیدا ہوئی۔ مولانا عبید اللہ سندھی 1944ءمیں رحلت فرما گئے تو میں نے بھی اپنا شہر چھوڑ دیا اور کراچی چلا گیا۔ وہاں میں نے تعلیم مکمل کی اور وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ لیکن میرا جھکاو¿ سیاست کی طرف رہا۔ ریاض ہاشمی بتاتے ہیں کہ اس دوران میرے ریاض ہاشمی سئیں جی ایم سید ‘ باچا خان ‘ عبدالصمد خان اچکزئی، غوث بخش بزنجو، حیدر بخش جتوئی، رسول بخش تالپور، ممتاز بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے سیاسی رہنماو¿ں سے ذاتی مراسم استوار ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاض ہاشمی اس شخصیت کا نام ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان کے خلاف رٹ دائر کی کہ چونکہ بہاولپور کی ریاستی اسمبلی موجود تھی اسمبلی کی منظوری کے بغیر امیر آف بہاولپور کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ ریاستی عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں ‘ انہوں نے لکھا ریاست کے مالک وہاں کے باشندے ہوتے ہیں سربراہِ مملکت کی حیثیت محض ایک امین کی ہوتی ہے۔ مالکوں کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر اگر ریاست کا امین کوئی فیصلہ کرتا ہے تو یہ امانت میں خیانت ہے۔ریاض ہاشمی نے عوام کے اختیار کی بات کی اور بادشاہوں کے آمرانہ مزاج کی مخالفت کی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ریاض ہاشمی کی استدعا نہ سنی گئی مگر انہوں نے اپنا تاریخی اور اصولی موقف تاریخ کے صفحات پر ریکارڈ کر دیا۔ان کے کارنامے اور خدمات بہت ہیں مگر میں چند ایک کا ذکر کروں گا۔ ریاض ہاشمی کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ 1954ءمیں پنجاب نے اپنے اغراض کے تحت مغربی پاکستان کو ون یونٹ قائم کیا اور دارالحکومت لاہور بنا دیا گیا۔ بعد ازاں ایوب خان نے پنجاب اور صوبہ سرحد کے پشتونوں کے اغراض کے لئے وفاقی دارالحکومت بھی سندھ سے پنجاب لے گئے۔ اس پر پنجاب کے علاوہ سرائیکی وسیب ‘ سندھ ‘بلوچستان ( صوبہ تو قائم نہ ہوا تھا لیکن بلوچوں کا خطہ قبائل کی صورت میں موجود تھا ) اور صوبہ سرحد میں سخت احتجاج ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کے قیام سے صرف قوموں کی شناخت ہی نہیں چھینی گئی بلکہ ان کا اختیار اور ان کے وسائل کو بھی پنجاب نے ہڑپ کر لیا ہے۔ اس اقدام کے خلاف اینٹی ون یونٹ کمیٹی قائم کی گئی جس میں پنجاب کے علاوہ باقی تمام قومیں اور صوبے اس میں شامل تھے۔ اس وقت سرائیکی قوم کی نمائندگی ریاض ہاشمی نے کی اور سرائیکی خطے کی طرف سے وہ اینٹی ون یونٹ کمیٹی کے سب سے زیادہ فعال اور متحرک ممبر تھے۔ وہ اینٹی ون یونٹ کمیٹی میں ون یونٹ کے خاتمے تک متحرک تو تھے ہی مگر اس کے ساتھ ہی ان کی نئی جدوجہد شروع ہو گئی کہ یحییٰ خان نے ون یونٹ کے خاتمے پر سابق ریاست بہاولپور کو بھی پنجاب کے پیٹ میں ڈال دیا۔ اس پر ریاض ہاشمی نے دوسرے اقابرین کے ساتھ ملکر پنجاب کے خلاف بہاولپور صوبے کے نام پر جدوجہد شروع کر دی کہ اس سے پہلے رنجیت سنگھ نے صوبہ ملتان غصب کیا ہوا تھا، وسیب کے لوگوں کا وہ علاقہ ابھی واپس نہ ہوا تھا کہ بہاولپور کو بھی ہڑپ کر لیا گیا۔ رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد وسیب پر بے حسی چھائی ہوئی تھی، بہاولپور نے جگا دیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جب بہاولپور تحریک کو ریاستی تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا تو ریاض ہاشمی مرحوم اور سیٹھ عبید الرحمن نے بہاولپور صوبہ محاذ کو سرائیکی صوبہ محاذ میں تبدیل کیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بہاولپور کے علاوہ دوسرا تمام سرائیکی علاقہ سویا ہوا تھا۔ ملتان ‘ ڈی جی خان ‘ ڈی آئی خان ‘ جھنگ ‘ میانوالی ‘ بھکر وغیرہ میں سے کہیں بھی سرائیکی صوبہ اور سرائیکی قومیت کی کوئی آواز نہ تھی اور محترم تاج لنگاہ سمیت سبھی لوگ اقتدار پرست جماعتوں کا حصہ بنے ہوئے تھے۔
یادوں کے حوالے سے عرض کروں کہ ریاض ہاشمی رہتے تو کراچی میں تھے مگر ان کا گھر خانپور تھا۔ سینما روڈ پر ان کے والد کا کلینک اور کوٹھی تھی۔ ریاض ہاشمی کی ایک شادی کراچی سے تھی ‘ ان کی زوجہ محترمہ اردو سپیکنگ تھی اور ایک شادی بہاولپور ان کے اپنے خاندان سے تھی ‘ اس لحاظ سے بہاولپور بھی ان کا گھر تھا۔ میں 1974ءمیں کراچی میں اپنے استاد مقبول دھریجہ سے کتابت سیکھتا تھا۔ اس دوران میری ملاقات ریاض ہاشمی صاحب سے نہ ہو سکی۔ البتہ کراچی میں لوگ بتاتے تھے کہ ریاض ہاشمی کا آفس سرائیکی کا مرکز ہے ‘ وہ کراچی میں مقیم سرائیکی بولنے والوں کی قانونی مدد بھی کرتے تھے اور ان کو سرائیکی صوبے کا درس بھی دیتے رہے۔ کراچی سے کام سیکھ کر وسیب آیا اور میری روزنامہ رہبر بہاولپور میں ملازمت ہوئی۔ اس دوران سیٹھ عبید الرحمن سے ملاقاتیں رہتیں ‘ سیٹھ صاحب نے بھی ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا آپ ریاض ہاشمی سے ملے ہیں ؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو آپ کے شہر کے ہیں ‘ میں آپ کو ملواو¿ں گا۔سیٹھ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ریاض ہاشمی صاحب آج کل لندن گئے ہیں اور وہاں اسٹیٹ انڈیا لائبریری سے سرائیکی صوبے کیلئے تاریخی ریکارڈ حاصل کر رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہم بھی خانپور آ گئے اور ریاض ہاشمی بھی زیادہ وقت کیلئے خانپور آ گئے۔ریاض ہاشمی اپنا قیمتی وقت نکال کر زیادہ عرصے کےلئے خانپور اس لئے آئے کہ ان کے والد کی جائیداد پر قبضے ہو چکے تھے، مزارعین اور ٹھیکیدار مالک بن بیٹھے تھے ‘ ریاض ہاشمی مرحوم نے عدالتوں میں مقدمات قائم کئے ‘ وہ بہت عرصہ کیس لڑتے رہے مگر ان کی زندگی میں ان کو انصاف نہ مل سکا۔ وہ دیر سے اٹھتے، میں ان کیلئے کھانا لے جاتا۔ ان کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ایک ہی ہوتا۔ ان کے گھر میں ادویات کی بد بو بہت زیادہ تھی۔بہت عرصہ بعد یہ کوٹھی سرائیکی موومنٹ کے رہنما میاں سجاد رحمانی نے خریدی۔
ریاض ہاشمی بہت بڑی سیاسی تاریخ تھے،وہ اکثر مجھے واقعات سناتے، ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ میں نے بھٹو صاحب کو کہا کہ الحاق کے وقت بہاولپور سے 12 فیصد ملازمتوں کے کوٹے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر عمل نہیں ہوا۔ اس پر بھٹو نے کہا کہ بہاولپور اب پنجاب کے پاس چلا گیا ہے اور مجھے بھی پنجاب نے منتخب کیا ہے۔تم بہاولپور والوں نے ووٹ نہیں دیئے۔ سندھ والوں نے بھی مجھے کم ووٹ دیئے کہ 31میں سے میرے حصے میں 14 نشستیں آئیں۔ اب میں تو پنجاب کا نمائندہ ہوں، تم لوگ سرائیکی ثقافتی بنیادوں پر تحریک پیدا کرو، اس سے تمہارے خطے کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ تحریک اور طاقت کے بغیر صوبہ تو کیا کجھ بھی نہیں ملے گا۔ ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ریاض ہاشمی وڈیروں، مخدوموں اور جاگیرداروں پر غصہ نکال رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ انگریزوں کی غلامی کر کے یہ مخدوم اور حسب نسب والے بن گئے ہیں، ان کے شجرے دیکھو تو اصلیت کا پتہ چل جائے گا۔ میں نے کہا کہ اگر شجرے اصلی ہوں تو پھر ؟ ریاض ہاشمی نے غصے سے میز پر ہاتھ مارا اور کہا کہ اصلی بھی ہوں تو پھر بھی یہ چوڑھے ہیں کہ ان کا کردار وسیب دشمن ہے۔
مجھے یاد ہے سرائیکی صوبہ محاذ کے اجلاسوں میں شرکت کیلئے ہم بہاولپور جاتے تو اکثر اوقات پہلے احمد پور شرقیہ رکتے، سیدھے افضل مسعود ایڈووکیٹ کی سیٹ پر جاتے۔ افضل مسعود ہمیں دیکھتے ہی چنے چھولے والے کو اشارہ کرتے، پلاو¿ چنے اور الگ پلیٹ میں زردہ آ جاتا، پھر چائے آ جاتی۔ پھر افضل مسعود صاحب ہمارے ساتھ بہاولپور کیلئے چل پڑتے۔ میں نے دیکھا کہ افضل مسعود صاحب ہمیشہ ریاض ہاشمی کے پاو¿ں چھو کر ملتے اور بہت زیادہ احترام کرتے۔ افضل مسعود صاحب پیپلز پارٹی کے اہم عہدے پر تعینات تھے۔ سیاسی گفتگو کے دوران جب وہ اپنی پارٹی کی وکالت کرتے تو ریاض ہاشمی ان کو سختی سے ٹوکتے اور کہتے کہ یار! ذوالفقار علی بھٹو میرا ذاتی دوست ہے ‘ مگر تم یاد رکھو کہ تم کو یا تو سرائیکی بننا پڑے گا یا پپلا۔ کوئی بھی شخص دو تربوز ایک ہاتھ پر نہیں اٹھا سکتا اور اگر تم جیسے لوگوں کی وجہ سے سرائیکی تحریک پر یہ الزام آ گیا کہ یہ پیپلز پارٹی کا عکس ہے تو پھر تحریک کو بہت نقصان ہوگا۔ کچھ عرصہ بعد افضل مسعود نے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیا اور وہ ریاض ہاشمی جنہیں وہ اپنا سیاسی استاد کہتے تھے کے مشورے پر سرائیکی کا کام شروع کر دیا۔
(سرائیکی دانشور زیادہ تر سرائیکیوں کے مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

حکمرانوں کی توندیں اور رعایا

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
ذکر کسی اور زمانے کا تھا کہ معاًمجھے وہ بے مثل انسان یاد آیا۔
انقلاب اور تبدیلی کا تذکرہ ہمیں اس کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ جب دنیا میں نظام کی بات ہوتی ہے تب اس کی یاد عود بن کر آ تی ہے۔ بنو امیہ کے ساتویں خلیفہ اور مورخین کے نزدیک پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیزؓ ‘ آج ان کی اصلاحات کی بات کرنے والے بہت ہیں لیکن کوئی بھی ان جیسا کہاں ‘ کوئی بھی تو نہیں ….!!
ایک بار ان کی پھوپھی کسی ذاتی ضرورت سے مجبور ہو کر مشورے کے لیے ان کے گھر پہنچیں تو وہاں منظر دگر تھا۔ خلیفہ وقت زمین پردستر خوان پر بیٹھے تھے۔ دو تین چھوٹی چھوٹی روٹیاں ‘نمک اور زیتون کا تھوڑا سا تیل ‘ کل کھانا یہی تھا۔ پھوپھی نے یہ عالم دیکھا تو چپ سادھ کر بیٹھ گئیں۔ عمر بن عبدالعزیزؓ نے آنے کا سبب پوچھا تو پھوپھی نے کہا میں اپنی ایک ضرورت کے لیے مشورہ کرنے آئی تھی لیکن میں اب سوچ رہی ہوں کہ اس مشورے سے قبل میں تمہیں تاکید کر وں کہ آپ ذرا نرم اور بہتر کھانا کھایا کریں۔ یہ سن کر بولے ہاں مجھے چاہیے کہ میں ایسا ہی کروں لیکن پھوپھی جان مجھے بیت المال سے سالانہ دو سو دینار ملتے ہیں۔ اتنی رقم سے کیسے اچھا کھانا مل سکتا ہے ؟ میں پیٹ کی خاطر مقروض ہونا بھی گوارا نہیں کرتا۔
بنوامیہ میں مسلمہ بن عبدالملک بہت مال دار انسان تھا۔ وہ عیش و عشرت میںپڑا اور کھانے پینے کے معاملے میں بہت زیادہ اسراف کرتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیزؓ کو خبر ہوئی تو اسے ایک روز اپنے پاس ظہرانے پر بلایا۔ انہوں نے اپنے لیے معمول کا کھانا اور مسلمہ کے لیے پر تکلف کھانا تیارکرایا۔ مسلمہ آ کر بیٹھ گیا۔ عمر بن عبدالعزیزؓ کاروبار خلافت چلاتے رہے یہاں تک کہ مہمان کی بھوک چمک اٹھی۔ آپ ؓ نے سب سے پہلے اپنا کھانا منگوایا۔ کھانے میں صرف مسور کی دال تھی۔ انہوں نے مہمان سے کہا آپ کے کھانے میں ذرا دیر ہے ‘ لیکن آپ میرے ساتھ شریک ہو جائیں تو مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔ مسلمہ بن عبدالملک بھوک سے بے حال ہو رہا تھا وہ اس پر شریک طعام ہو گیا اور جی بھر کر کھا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے ملازم کو حکم دیا کہ وہ مہمان کے لیے کھانا لے آئے۔ جب دستر خوان پر کھانا سج چکا تو مسلمہ بن عبدالملک نے معذرت کرتے ہوئے کہا اب چونکہ وہ سیر ہو چکا ہے اس لیے مزید نہیں کھا سکتا۔ اس پر آپ ؓ نے اسے کہا ….” اے مسلمہ جب پیٹ بھرنے کے لیے مسور کی دال ہی کافی ہوتی ہے تو پھر اتنے تکلفات پیٹ کے لیے کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟“ایک ہم ہیں کہ نہ ہمارے پیٹ بھرتے ہیں نہ ہمارے حکمرانوں کی توندیںکم ہوتی ہیں۔
آج صدیاں بیت گئیں ‘ لیکن ان کی اصلاحات ‘ ان کا طرز حکمرانی کا تذکرہ باقی ہے۔ انہوں نے ہر صوبے کی آمدنی اسی صوبے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور مرکز کا نظام چلانے کے لیے اخراجات کو آخری حدوں تک کم کر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے مالا مال ہو گئے اور وہاں سے بچ جانے والی رقم مرکزی حکومت کو روانہ کی جانے لگی۔ خود عمر بن عبدالعزیزؓ اس قدر محتاط تھے کہ مرکزی بیت المال سے اپنے خاندان کے لیے صرف دو درہم روزانہ کے اخراجات لیتے تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر دیگر عمال اور حکومتی اہل کار بھی کفایت شعاری کی طرف پلٹ گئے۔ ان کے عمال شکوے کرتے تھے کہ عمر ؓ خود کھاتے ہیں ‘نہ ہمیں پیٹ بھر کر کھانے دیتے ہیں۔ خلافت سے قبل آپ ؓ نے انتہائی پر تعیش زندگی گزاری تھی۔ حکمران بنتے ہی آپ ؓ نے بوریا اورڑھ لیا۔ شاہی گھوڑے فروخت کر دیے اور ایک مریل سا خچر پسند کر لیا۔ محافظوں کے دستے رخصت کر دیے ‘ غالیچے اور قالین اٹھوا لیے۔ بنو امیہ کے جاگیر داروں سے زمینیں واپس لیں اپنے اجداد کی جاگیریں واپس کر دیں۔ مملکت میں عام اعلان کر دیا کہ جب تک عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہے کسی جلاد کی ضرورت نہیں۔ کم خوراکی اور مشقت اس قدر تھی کہ جسم سوکھ کر ڈھانچہ ہوگیا۔ قمیض کے اندر سے سینے کی پسلیاں جھانکنے لگی تھیں۔ سردی کا موسم تھا۔ غلام نے سرکاری کوئلے پر پانی گرم کر کے دیا۔ وضو کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا میں سرکاری خزانے سے فائدہ کیسے اٹھا سکتا ہوں۔ جب کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ میرے پاس امانت ہے۔
زیان بن عبدالعزیز ایک روز آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ ان سے مخاطب ہو کر بولے۔آج رات سو نہیںسکا کروٹیں بدلتے رات گزر گئی۔ زیان نے پوچھا رات کیا کھایا تھا۔ کہنے لگے۔”مسور کی دال اور پیاز۔
”زیان بولے۔” اﷲ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے ‘ مگر آپ نے اپنے اوپر پابندیاں لگا رکھی ہیں ‘ یہ زیادہ اچھی بات نہیں ‘ آپ کو عمدہ کھانا کھانا چاہیے۔ “زیان بن عبدالعزیز کی بات سن کر سینے سے ہوک اٹھی اور آہ بھر کر بولے۔
” زیان میں نے تجھے بھائی سمجھ کر اپنا راز بتایا مگر افسوس کہ میں نے تمہیں اپنا خیرخواہ نہیں پایا۔ میں تمہارے معاملے میں آئندہ محتاط رہوں گا۔“
ابو مسلم کہتے ہیں ‘ ایک روز میں عمر بن عبدالعزیز ؓ کا مہمان بن گیا۔ غلام کھانا لے کر آیا۔ چند چھوٹی چھوٹی روٹیاں جنہیں نرم کرنے کے لیے پانی چھڑکا گیا تھا اور روغنی کرنے کے لیے زیتون کا تیل لگایا گیا تھا۔ رات ہوئی تو پھر کھانا پیش ہوا۔ کٹی ہوئی پیاز اور دال تھی۔ غلام نے مجھ سے کہا خدا کی قسم ! امیر المومنین کے گھر میں اس کے علاوہ کچھ ہوتا تو وہ بھی پیش کرتا۔ آج گھر میں یہی کچھ پکا ہے۔ اس شام امیر المومنین نے اسی کھانے کے ساتھ روزہ افطار کیا۔
وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے اپنی اولاد کو مخاطب کیا اور بولے۔
” میرے بچو! میں خالق حقیقی کے پاس جا رہا ہوں۔ میرے پاس کوئی بھی مال و متاع نہیں جو تمہارے لیے چھوڑ کر جاﺅں‘ لیکن تمہارے لیے خیر کثیر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ تم جب بھی کسی مسلمان یا ذمی کے پاس سے گزرو گے اپنے لیے تکریم پاﺅ گے۔ وہ اعتراف کریں گے ‘تمہارا حق پہچانیں گے کہ یہ اس عادل خلیفہ کی اولاد ہے جس نے اپنے عوام کو سب کچھ دیا لیکن اپنی اولاد کے لیے کچھ نہیں لیا۔“
آپ ؓ نے جب وفات پائی اس وقت ان کے گیارہ وارث تھے اور ترکے میں اکیاسی دینار موجود تھے۔ پانچ دینار کفن پر خرچ ہو گئے۔ دو دینار میں قبر کے لیے جگہ خریدی باقی اولاد پر تقسیم کر دیے گئے۔
ذکر کسی اور لمحے کاتھا کہ معاً مجھے وہ بے مثل حکمران یاد آیا جن کے دور کی ہر کوئی بات کرتا ہے جس نے اڑھائی برس کے زمانہ اقتدار میں مملکت کا نقشہ بدل دیا۔ لوگ زکوٰة لے کر نکلتے تھے کوئی زکوٰةلینے والا نہیں تھا۔ ایک وہ تھے اور ایک مسلم دنیا کے ہمارے حکمران ‘ طوفانی توندوں ‘ موٹی گردنوں اور کھرب ہا کھرب ڈالروں والے حکمران ‘جو محض انسانی جسموں پر بزور طاقت مسلط ہیں۔ رعایا کے دل جن کے لیے نفرت سے بھرے ہیں۔ ایسے حکمران جو اپنے سائے سے ڈرتے ہیں ‘ اپنی ہی رعایا سے چھپ کر قلعوں میں بیٹھے ہیں۔ یہ اپنی تمناﺅں کے اسیر ‘ انا پرست جو معدے سے سوچتے اور نار جہنم کے طلب گار ہیں۔ جو اپنی آخرت تباہ کر کے دنیابنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان بدنصیبوں کا عمر بن عبدالعزیزؓ سے کیا تعلق ؟ان میں سے کوئی ان کی گرد پا بھی نہیں !ہائے یہ پیٹ کے اسیر !
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭

نیک اور ایماندار قیادت

مختار عاقل …. دوٹوک
پاکستان کی قومی سیاست سخت بحرانی دور سے گزررہی ہے اسلام آباد کی احتساب عدالت سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی منتظر ہے۔ ان کے خلاف قومی احتساب نے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے ریفرنس داخل کررکھے ہےں۔19 ستمبر کو عدالت میں ذاتی طور پر حاضری کا بگل بج چکا ہے۔سمن جاری ہوگئے ہیں۔ ملزمان میں نااہل قرار دیئے جانے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف ان کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ صاحبزادے حسن اور حسین نواز داماد صفدر بیٹی مریم نواز شامل ہیں جو لاہور کے حلقہ 120 کے ضمنی الیکشن میں اپنی والدہ کلثوم نواز کی کامیابی کے لیے بھر پور انتخابی مہم چلاچکی ہیں۔ انہوں نے جلسوں اور ریلیوں میں پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کا انداز اختیار کرنے کی پوری کوششیں کی۔ 1978 میں بے نظیر بھٹو بھی اسی طرح سے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کے لیے میدان میں نکلی تھیں جنہیں جنرل ضیاءالحق نے اقتدار سے نکال کر جیل میں بند کررکھا تھا۔ ابتدا میں بے نظیر بھٹو بھی نو آموز تھیں‘سیاسی میدان میں نو وارد تھیں۔ انہوں نے لاڑکانہ سے طلبہ تنظیم کے صدر کو فون کرکے کہا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ ہو جس کی خبر بی بی سی پر نشر ہو۔تنظیم کے لیڈر نے یہ ذمہ داری زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے یونٹ کے سپرد کی۔ آتشزدگی کا واقعہ ظہور پذیر ہوا اور رات کو یہ خبر بی بی سی سے نشر ہوگئی۔ بعدازاں قید وبند اور جلد وطنی کی صعوبتیں برداشت کرکے وہ اتنی بڑی لیڈر بن گئیں کہ سارا ملکی اور غیر ملکی میڈیا ان سے بات چیت کے لیے بے چین رہتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کی صاحبزادیوں میں فی الوقت کوئی مواز نہ سورج اور چراغ کی مماثلت کے متراف ہوگا۔ اس وقت کا منظر نامہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نواز شریف اور ان کے خاندان کو کہڑے میں بلا رہی ہے اور دوسری طرف قومی احتساب بیورو ذوالفقار علی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری کا تعاقب کررہا ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تلاش ہے۔ کمیشن نے وارنٹ جاری کردیئے ہیں حالانکہ یہ کام عدالتوں کا ہے لیکن الیکشن کمیشن اپنے عدالتی اختیارات سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ کپتان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 5 ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ادھر اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس لندن میں موجود متحدہ قومی موومنٹ کے بانی قائد الطاف حسین کے پیچھے ہے۔ تحقیقات کررہی ہے اور پاکستان کی حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔ مختلف اداروں میں پھنسے ان چار سیاستدانوں کے بعد صرف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری ہی باقی رہ جاتے ہیں جن پر کوئی الزام نہیں ہے۔ سراج الحق اپنی جماعت میں” ادنی کارکن“ سے سفر کرکے اس اعلیٰ مقام تک پہنچے ہیں۔ جماعت اسلامی کی امارت آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑی جدوجہد اور بلند کردار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح علامہ طاہرالقادری نے مسجد کی امامت سے آغاز کرکے پی اے ٹی اور منہاج القرآن جیسی جماعت اور ادارہ تشکیل دیا ہے جس کے لاکھوں کارکنان ان کے ایک اشارے پر کسی بھی جگہ جمع ہونے اور جانیں قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور کے دھرنوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔
پاکستان کی روائتی سیاسی قیادت کرپشن اور نااہلی کے پاتال میں اتری ہوئی ہے۔ چوٹی کے سیاستدان عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ میاں نواز شریف کو تو وزیراعظم بننے کا تیسری بار موقع ملا تھا۔ اس سے قبل انہیں دوبارہ قبل از وقت اقتدار سے نکالا گیا اور ان کی ثابت قدمی ہے کہ تیسری مرتبہ بھی انہوں نے اپنا یہ ”اعزاز“برقرار رکھا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے ایک ہزار سال لڑنے کا نعرہ لگا کر 1970 کے عام انتخابات میں پنجاب سے کامیابی حاصل کی اور پاکستان کے وزیر اعظم بنے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بھارت کبھی بھی پاکستان اور مسلمانوں کا دوست نہیں رہا ہے۔ میانمار (برما) میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے ان کے گھر جلائے جارہے ہیں‘ بستیاں اجاڑی گئی ہیں‘ خواتین اور بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے میانمار جاکر مسلمانوں کی قاتلہ آنگ سانگ سوچی کو شاباش دی ہے۔ پوری دنیا نے ان مظالم کی مذمت کی ہے اور مودی مسلم دشمنی میں اندھا ہوکر سوچی سے پیار کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستان کی سیاسی قیادت بھارت سے دوستی کا خواب دیکھے گی تو لازمی طور پر پاکستان کی بقا وسلامتی اور استحکام کے ذمہ دار اداروں سے ٹکرا¶ ہوگا۔ 1990 کی دھائی میں بھی میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورے میں انہیں لاہور میں 19 توپوں کی سلامی دے کر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ بھارت نے آج تک کسی پاکستانی وزیر اعطم کے لیے ایسی خیر سگالی کا مظاہرہ نہےں کیا ہے۔ پاکستان کی زمینی وسیاسی پوزیشن بڑی نازک ہے۔ اس کی دفاعی وخارجہ پالیسی بنانے میں پاک فوج کے تحفظات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے جس کی بنیادی ذمہ داری اندرونی وبیرونی استحکام اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ پہلے تو چار سال تک سرتاج عزیز جیسے بزرگ کو آگے رکھ کر وزیر اعظم نواز شریف خود خارجہ پالیسی چلاتے رہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف ان کے اشاروں پر چلتے رہے۔ اس دوران پانی سرسے اونچا ہوا اور بالٓا خرخود ان کا سانس لینا دشوار ہوگیا ‘دوسری طرف ملک کو غیر ملکی قرضوں کے جال میں مزید جکڑ دیا گیا۔ قرضوں پر کمیشن اور ان کے ذریعے بننے والے منصوبوں میں کرپشن جب ناقابل برداشت ہوگئے تو ادارے حرکت میں آئے اور بات نااہلی تک جا پہنچی۔اس پس منظر میں ایک یہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ نیک ‘محب وطن اور الزامات سے پاک قیادت وجود میں آئے جس کے لیے سراج الحق اور علامہ طاہرالقادری بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے دامن کرپشن کے الزامات سے پاک ہیں ان کی جماعتیں ملک میں بڑے بڑے دینی اور فلاحی ادارے چلارہی ہیں۔ ایک نیا اسلامی اور جمہوری اتحاد وجود میں آسکتا ہے‘ جمیعت علماءاسلام (ف) اور (س) بھی اس کا حصہ بن سکتی ہیں۔ جمیعت علماءپاکستان مولانا شاہ احمد نورانی‘ مولانا عبدالستار خان نیازی‘ پروفیسر شاہ فرید الحق اور صوفی ایاز خان نیازی جیسی بلند وبالا شخصیات کی رحلت کے بعد گوکہ کٹھن حالات کی شکار ہے لیکن حاجی حنیف طیب جیسی قد آور شخصیات کو متحرک کرکے اس اتحاد کا حصہ بنایا جاسکتا ہے‘ علامہ ناصر عباس‘ علامہ ساجد نقوی اور علامہ حسن ظفر نقوی جیسی شخصیات بھی اسلامی اور جمہوری محاذ کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لٹیرے سیاستدانوں کا اقتدار میں واپسی کا راستہ بند کیا جاسکتا ہے۔
پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل کیا جاسکتا ہے جن کے آبا و¿اجد ادنے 70 برس قبل غیر منقسم ھندوستان کے ان علاقوں میں پاکستان کی جنگ لڑی جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا‘ اس راہ میں انہوں نے عظیم قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے۔ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں حسین عبداﷲ ھارون اور ایاز لطیف پلیجو جیسی شخصیات بھی نئے سیاسی اتحاد کا حصہ بن سکتی ہیں۔2018 کے عام انتخابات اب زیادہ دور نہےں رہے۔ پاکستان مدینہ منورہ کے بعد اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری ریاست ہے‘ لوٹ کھسوٹ کے نظام اور بد کردار‘ بد دیانت سیاستدانوں نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے صاف ستھری اور باکردار قیادت کی ضرورت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس ملک کو پانچ موسم اور ہر قسم کی معدنیات عطا کی ہیں‘ تین بندرگا ہیں اور دنیا میں سب سے بڑا آبپاشی کا نظام اس کی زینت ہیں۔ ضرورت صرف ایماندار‘ دین دار‘ محب وطن اور مخلص قیادت کی ہے۔ سراج الحق اور علامہ طاہر القادری جیسی شخصیات نئی قیادت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ نیا اسلامی سال 1439 شروع ہورہا ہے۔ پژ مردہ اور کرپٹ سیاستدانوں سے مایوس قوم کو نئے اسلامی سال کا نیا ایجنڈا دیا جاسکتا ہے۔ نئی امید دی جاسکتی ہے جو نئے اسلامی سال کا حقیقی تحفہ ہوگا۔آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے دبئی میں انکشاف کیا ہے کہ 2013 سے ہر ماہ پاکستان سے 5 ارب ڈالرز رمبادلہ بھارت جارہا ہے۔کیا اس کے بعد بھی کسی کے BACK COME کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔
(کالم نگار معروف صحافی‘ قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ضمنی الیکشن میں کا میابی کے اگلے روز کلثوم نواز کو سپریم کو رٹ سے بھی بڑی خو شخبری مل گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کے خلاف دائر درخواستیں خارج کردیں،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ مقدمہ پانامہ کیس سے مختلف ہے، پانامہ کیس میں معاملہ تنخواہ ظاہر نہ کرنے کا تھا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کریں الیکشن ہوچکاہے،آپ کے پاس کچھ نہیں تو آپ کو درخواست دائر نہیں کرنی چاہیے تھی۔پیر کو کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کے خلاف سپریم کورٹمیں دائر درخواستو ں کی سماعت جسٹس گلزار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ درخواستیں فیصل میر اور اشتیاق چوہدری نے دائر کی تھیں۔ فیصل میر کی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ کلثوم نواز نے اپنے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کی۔ اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ این اے 120 الیکشن ہوچکا ہے۔ پری الیکشن کا مرحلہ ختم ہوچکا ہے۔بتائیں کلثوم نواز نے کونسا اثاثہ ظاہر نہیں کیا؟ اس پر وکیل فیصل میر نے کہا کہ کلثوم نواز نے اقامہ ظاہر نہیں کیا۔ اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ مقدمہ پانامہ کے مقدمے سے مختلف ہے۔ پانامہ کیس میں معاملہ تنخواہ ظاہر نہ کرنے کاتھا۔ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کریں۔ آپ پسند کریں یا نہ کریں الیکشن ہوچکاہے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ نے تین اعتراضات اٹھائے لیکن ثبوت نہیں دیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے پاس دیگر فورم موجود تھے۔ عوام کے مینڈیٹ کی عزت کریں۔ آپ کے پاس کچھ نہیں تو آپ کو درخواست دائر نہیں کرنی چاہیے تھی۔

عائشہ گلا لئی آئندہ دو رو ز میں کیا کرنیوالی ہیں،انکشاف نے بھونچال پید ا کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)عمران خان کے کہنے پر پر سوشل میڈیا کے ذریعے مجھ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے، دو روز میں آئندہ کا لائحہ عمل دوں گی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی منحرف خاتون رہنما عائشہ گلالئی نے ایک بار پھر عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہے کہ نیازی صاحب کے مائنڈ سیٹ کا پتہ سب کو چل گیا ہے،ان کے کہنے پر سوشل میڈیا کےذریعے مجھ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی کرپٹ لوگوں کو آگے لاکرملک کوکرپشن سے پاک نہیں بناسکتی۔انہوں نے کہا کہ نیب کو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے ، وہ عوام کی عدالت میں سرخرو ہوکر کھڑی ہیں،تحریک انصاف کسی کی جاگیر نہیں ، یہ ہماری اپنی پارٹی ہے۔منحرف خاتون رہنما نے آئندہ دو روز میں پریس کانفرنس میں آئندہ کا لائحہ عمل دینے کا اعلان بھی کیا ہے

این اے 120کا سرکا ری رزلٹ ،کلثو م نواز کی لیڈ میں کتنا اضافہ ہوا،دیکھئے خبر

لاہور(ویب ڈیسک)ریٹرننگ افسرمیاں شاہد نے این اے120لاہورکے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کااعلان کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی کلثوم نواز کو کامیاب قرار دیا ہے انہوں نے 61ہزار745ووٹ حاصل کئےاور پی ٹی ا?ئی کی امیدوار کو 14646ووٹوں سے شکست دے دی۔این اے 120 میں تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد 47ہزار99ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہیں۔پیپلزپارٹی کے فیصل میرنے ایک ہزار414،ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ ا?زادامیدواریعقوب شیخ نے5ہزار822ووٹ لئے۔جماعت اسلامی کے ضیائ الدین انصاری نے صرف 592ووٹ لئے جبکہ ا?زادامیدوارشیخ اظہرحسین رضوی نے7ہزار130ووٹ لئے۔ریٹرننگ افسر کے مطابق این اے120میں ڈالے گئے ووٹوں کاتناسب39اعشاریہ42رہاجبکہ حلقے میں ڈالے گئے ایک ہزار731ووٹ مسترد کر دیئے گئے، ریٹرننگ افسر کے مطابق این اے ے120 میں ایک لاکھ 25ہزار 129افرادنے اپناحق رائے دہی استعمال کیا،جن میں 80ہزار944مرد ووٹرزجبکہ 45ہزار916خواتین شامل ہیں، حتمی نتائج اعلان19ستمبر(کل)کوکیاجائے گا۔دوسری جانب این اے 120 کے الیکشن کے بعد پی ٹی آئی نے اعلان جنگ کر دیا،نتائج ماننے سے انکار،این اسے 120سے تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکڑ یاسمین راشد نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے لوگوں اور میڈیا کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ابھی وہ تمام حلقو ں سے نتائج اکھٹے کر رہی ہیں اس کے بعد ہی پارٹی کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،انھوں نے مزید کہا ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ابھی تمام رزلٹ سامنے نہیں آئے۔ان نے الیکشن کمیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔اس موقع پر تحریک انصاف راہنما اعجاز چوہدری بھی انکے ساتھ موجود تھے۔ اعجاز چوہدری نے اس الیکشن کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔ حلقے سے 29 ہزار ووٹوں کی منتقلی پر اعتراض ا± ٹھایا اور انکا کہنا تھا ہم اس الیکشن کا نتیجہ ا±سی صورت میں تسلیم کریں گئے جبکہ ان ووٹوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔