اسلام آباد (این این آئی‘ آئی این پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ملک کی انٹر سروس انٹیلی جنس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں نئی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل بینچ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل احمد، وزارت دفاع کے نمائندے کرنل (ر) فلک ناز اور جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو انور علی پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر ہیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ نے رپورٹ جمع کراودی ہے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے آئی ایس آئی کی رپورٹ عدالت میں جمع کراودی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنر ل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آئی آیس آئی کی رپورٹ سے مطمئن ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی ہم مطمئن ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ اس رپورٹ میں واضح نہیں کیا گیا کہ یہ آدمی کون ہے اور کرتا کیا ہے، آئی ایس آئی کو معلوم نہیں کہ خادم حسین رضوی کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ اتنا پیسا کہاں سے آرہا ہے؟ اور آپ کہے رہے ہیں کہ آپ رپورٹ سے مطمئن ہیں؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دے کہ اربوں کی املاک تباہ کردی گئی اور آپ کو اس کے اکاو¿نٹس تک کا نہیں پتہ، مجھے تو خوف آنے لگا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کا یہ حال ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی رپورٹ کے مطابق خادم حسین رضوی معاشی طور پر بدعنوان ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ خادم حسین رضوی مسجد کے چندے سے چل رہا ہے یا کوئی اور ذریعہ معاش ہے؟ جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں۔ وزارت دفاع کے نمائندے کے جواب پر جسٹس مشیر عالم ریمارکس دئیے کہ کیا کہ خطیب کو پیسے ملتے ہیں؟ ہم کسی صحافی سے پوچھ لیں تو اسے آپ سے زیادہ پتہ ہوگا۔ سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے پوچھا تھا کہ خادم حسین رضویٰ کا ذریعہ معاش بتایا جائے، ہم آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی نے وزارت دفاع کے نمائندہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ہماری طرح ٹیکس دہندہ لوگوں کے سامنے جواب دہ ہیںجس پر وزارت دفاع کے نمائندہ نے بتایا کہ خادم حسین رضوی عطیات اکھٹے کرتے ہیں جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ پھر یہ لکھ کر دیں کہ وہ دوسروں کے پیسوں پر پل رہے ¾ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ خفیہ بریفنگ دینی ہے تو بتادیں۔ دوران سماعت آئی بی کے جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ میں عدالت میں کچھ دستاویزات جمع کرانا چاہتا ہوں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دے کہ یہ دستاویزات کیا ہیں۔ ہو تو پریس رپورٹ ہے اور آپ ایسے دکھارہے ہیں جیسے کوئی خفیہ دستاویزات ہوں۔بعد ازاں عدالت نے آئی ایس آئی کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں نئی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ اسلام آباد (این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کے فیض آباد پر تحریک لبیک کی جانب سے دھرنا دیا گیا جو تقریباً 22 روز بعد ختم ہوا جبکہ اس دوران توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ مولانا خادم حسین رضوی سمیت چار ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہیں تاہم بار بار طلبی کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کو مفرور قرار دیا جائے اور اس کے باوجود عدم حاضری کی صورت میں اشتہاری ٹھہرایا جائے۔پیر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ ارجمند نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی۔ عدالت کی جانب سے چالان پیش کرنے کے حکم کے باوجود پولیس حتمی چالان پیش نہ کرسکی جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے بار بار طلبی اور مفرور قرار دیئے جانے کے بعد بھی پیش نہ ہونےپر تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اورافضل قادری کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کا مفرور ملزم کا اسٹیٹس بھی برقرار رکھا ہے۔ مزید برآں عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ 4اپریل تک ملزمان کے خلاف مقدمے کا حتمی چالان جمع کرایا جائے۔





































