اسلام آباد،لاہور (خصوصی رپورٹ) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے فیض آباد دھرنے کے دوران پولیس چوکی پر حملے اور تشدد کے تین مقدمات میں مولانا خادم حسین رضوی سمیت تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، تین مقدمات تھانہ کھنہ میں درج کئے گئے تھے۔ مقدمہ میں خادم حسین رضوی، مولانا عنایت اللہ، ضیاءاللہ خیری اور شیخ اظہر کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمات میں دہشت گردی، پولیس پر تشدد، کار سرکار میں مداخلت، دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ عدالت نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے فیض آباد دھرنے کے دوران پولیس چوکی پر حملے اور تشدد کے مقدمات کی سماعت کی جس میں تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی سمیت تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت کی جانب سے تھانہ کھنہ میں درج تین مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، مقدمات میں دہشت گردی، پولیس پرتشدد، کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل ہیں۔ان مقدمات میں خادم حسین رضوی، مولانا عنایت اللہ، ضیا اللہ خیری اور شیخ اظہر تھانہ کھنہ پولیس کو مطلوب ہیں۔عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیاہے۔ پنجاب حکومت نے مساجد میں 4 ‘ 4 لاﺅڈ سپیکر تک لگانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تا ہم لاﺅڈ سپیکر میں آزان سے قبل اور بعد میں درود شریف پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس حوالے سے پنجاب ساﺅنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015ء میں ترامیم کرنے کی بھی منظوری دیتے ہوئے آرڈیننس جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ تحریک لبیک یا رسول سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کا مﺅقف رہا ہے کہ پنجاب ساﺅنڈ سسٹم ریکولیشن ایکٹ 2015ء کے ذریعے لاﺅڈ سپیکر پر درود شریف پڑھنے اور مساجد میں ایک سے زائد ایکسٹرنل لاﺅڈ سپیکر لگانے کی اجازت دی جائے‘ تا ہم پنجاب حکومت نے آئی جی پنجاب کے دفتر سے ایک زبانی پیغام تمام ڈی پی اوز کو پہنچایا کہ آگر لاﺅڈ سپیکر میں درود شریف پڑھا جائے تو اس معاملے پر مقدمات درج نہ کئے جائیں لیکن حکومت نے متعلقہ قانون میں ترمیم کر کے اس کی باقاعدہ گنجائش نہیں رکھی۔ بعدازاں فیض آباد تحریک لبیک یارسول اﷲ کے دھرنے میں جو معاہدہ ہوا اس میں واضح تھا کہ مساجد میں ایک سے زائد لاﺅڈ سپیکر لگانے کی اجازت دی جائے جس پر حکومت نے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ مسجد میں ایکسٹرنل لاﺅڈ سپیکر تک لگانے کی اجازت ہو گی ۔ تا ہم ہر ایک سمت میں صرف ایک ہی لاﺅڈ سپیکر ہو گا۔ اس حوالے سے حکومت نے متعلقہ قانون کی شق 4 کی زیلی شق 2 کی کلاز ”اے“ میں ترمیم کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے تا ہم لاﺅڈ سپیکر کی ”سپیسی فیکشن“ سمیت دیگر معاملات متلقہ قانون کے مطابق ہی ہوں گے۔ اس حوالے سے مرکزی ناظم نشرواشاعت تحریک لبیک رسول اﷲ پیر اعجاز اشرفی نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام ہمارے اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ایک کڑی ہے تا ہم ابھی بہت سارے معاملات ہیں جن پر عمل درآمد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ درود شریف پڑھنے کی حکومت نے اجازت دے رکھی ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ قانون میں بھی ترمیم کر کے اس کی گنجائش رکھی جائے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے چیرٹی ایکٹ کی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہزاروں مدرسوں اور این جی اوز کے اکاﺅنٹس کی خفیہ نگرانی شروع کر دی ہے۔ اس سے قبل صوبے کی 4209 این جی اوز 3676 اقلیتی عبادت گاہوں‘ 64296 مساجد اور 13995 مدرسوں کی جیوٹیکنگ کی گئی تھی۔ چیرٹی کمیشن کے قیام تک محکمہ داخلہ پنجاب کو یہ قانونی اختیار حاصل ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی این جی اوز اور فلاحی و مذہبی ادارے کو اکاﺅنٹس اور فنڈز کی جانچ پڑتال کر سکتا ہے۔ چیرٹی کمیشن بنانے اور اس میں چیف کمشنر اور کمشنروں وغیرہ کی تعیناتیوں کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس پر متعدد اداروں کی سرویلفس شروع کی گئی ہے۔ جن اداروں کی جیوٹیکنگ کی گئی ہے ان کے کاغذات کی اچانک جانچ پڑتال کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ وزارت مذہبی امور میں نظام صلو کے حوالے سے ہونے والے اہم اجلاس میں نظام صلو بل کے مسودے پر اتفاق رائے کر لیا گیا۔ اجلاس کی صدات وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کی۔ اہم اجلاس میں اسلام آباد میں یکساں اوقات اذان و نماز کے حوالے سے ایک بل کے مسودے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اجلاس میں نظام صلا کمیٹی سمیت تمام مسالک کے جید علما کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر مملکت مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ، وفاقی سیکرٹری خالد مسعود چوہدری سمیت اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بل کے مسودے کو باہمی مشاورت کے بعد مزید بہتر بنایا گیا۔ سردار محمد یوسف نے علما کرام کو اس بل پر محنت اور اتفاق رائے پیدا کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے مسودے پر دیگر متعلقہ محکموں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ اور ان سے بھی تجاویز لی جائی گی۔





































