لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ راﺅ انوار کا تو ایک ڈرامہ سا لگتا ہے۔ جس کا حقیقت سے تعلق دکھائی نہیں دیتا اس کی بیک پر پی پی پی کی پروٹیکشن کہی جا رہی تھی۔ چیف جسٹس صاحب نے ایک دن پہلے کہا آپ پیش ہو جاﺅ۔ ایک دن گزرا اور وہ اسلام آباد سے ہی سپریم کورٹ کے قریب سے ڈپلومیٹک اینکلیو میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ پیش ہو گیا۔ اس کے بینک اکاﺅنٹ ریلیز اور شناختی کارڈ بحال کر دیا گیا۔ پھر وہ جہاز سے اسلام آباد سے کراچی چلے گئے۔ اسلام آباد سے جو بھی روانہ ہوتا ہے کافی سامان لے کر جاتا ہے۔ سنا ہے نوازشریف بھی 26 سوٹ کیس اور بہت سارے کارٹن لے کر سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ راﺅ انوار بھی چار سوٹ کیسز میں نہ جانے کیا لے کر کراچی روانہ ہوئے ہیں پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ کہانی بہت دیر سے گھوم رہی ہے۔ ایک اہم فیملی کے روابط (نقیب اللہ کیس) کے شاخسانے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ کسی نے کہا اب کافی ہو چکی ہے۔ لہٰذا اس پر ایکشن لو۔ راﺅ انوار اے آئی آئی کے دور سے پی پی پی کے حلقوں کے قریب رہے ہیں۔ نقیب اللہ کا معاملہ انہوں نے اپنے ذمہ لیا۔ جیسا کہ سٹوری بتا رہی ہے۔ پھر انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ پھر ان کو راستے سے ہٹانا کیوں ضروری ہو گیا۔ یہ ساری باتیں ذرا ”فشی“ ہیں۔ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اصل حقائق کیا تھے۔ پچھلے ایک ماہ سے یہی سٹوری چل رہی ہے۔ اسلام آباد سے کراچی جانے کے بعد راﺅ انوار سندھ پولیس کی تحویل میں ہوں گے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کو یہاں مراعات ملیں گی یا نہیں۔ اطلاع یہ ہے کہ راﺅ انوار کے گھر کو سب جیل قرار دے کر اس میں رکھا جائے گا۔ کراچی جیل کے قیدیوں میں دس میں سے نو ان کے پکڑے ہوئے یا ان کے خلاف مقدمات میں یہ موجود ہیں۔ لہٰذا جیل بھیجنا ان کی بوٹی بوٹی قیمہ قیمہ کروانا ہو گا۔ کسی اور شہر میں اس لئے نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ ان کے خلاف سارے کیسز خواہ وہ سندھ ہائی کورٹ کی اپیلیں ہوں یا دہشت گردی کے کیسز ہوں۔ وہ سارے کی ساری کراچی ”بیسڈ“ ہیں۔ اب انہیں سکھر میں تو نہیں رکھا جا سکتا۔ یا پھر ایک ہیلی کاپٹر ان کو دے دیا جائے اس قسم کے ملزموں کو جب تک کسی طرف سے یقین دہانی نہ مل جائے۔ وہ خود پیش نہیں ہوئے۔ سیاسی لوگ جس پارٹی میں چاہیں بلا خوف جا سکتے ہیں۔ عامر لیاقت بھی سیاست دان ہیں جس پارٹی میں چاہیں جائیں۔ سوشل میڈیا پر جوک چل رہا ہے کہ چیف جسٹس نے کراچی میں صفائی کا کہا۔ عمران خان نے فوراً عامر لیاقت حسین کو کراچی سے اٹھا کر قبول کر لیا۔ جمال لغاری اور اویس لغاری کو پورا حق حاصل ہے کہ جس پارٹی کو چاہیں جوائن کر لیں۔ فاروق لغاری ان کے والد ہی ہیں چوٹی زیریں میں واقع ان کے گھر تین مرتبہ گیا ہوں۔ میرے ان سے بہت تعلقات تھے۔ پہلے وہ پی پی پی میں تھے پھر انہوں نے ملت پارٹی بنائی۔ پھر وہ ق لیگ میں شامل ہو گئے میں ان کے بیٹوں سے اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ اپنے ملازمین سے تصدیق کر لیں کہ ضیا شاہد کتنی مرتبہ ان کے گھر آئے تھے۔ اور ان کے ساتھ تعلقات کس قسم کے تھے۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے۔ ایک مرتبہ فاروق لغاری صاحب نے نوازشریف پر مجمعے میں لعنت پھٹکار بھیجی۔ چوٹی زیریں کیا علاقہ ہے۔ وہاں کے لوگ انسان کی بجائے ربڑ کے گڈے لگتے ہیں۔ کیونکہ اسی پھٹکار پر وہ سب ہنس رہے تھے۔ تالیاں بجا رہے تھے۔ اب جب ان کے بیٹے۔ ایک سنیٹر اور دوسرا وزیر نوازشریف کی تعریف کر رہے ہیں۔ قسور مرزا جو ہمارے کالم نگار ہیں پہلے ایوان صدر میں ان کے میڈیا ایڈوائزر تھے۔ ان کے کاروبار کو بھی دیکھا کرتے تھے۔ ان سے جب بات کی تو وہ کانونں کو ہاتھ لگا رہے تھے وہ کہہ رہے تھے خدا کے واسطے یہ دونوں اپنے باپ کی روح پر تو رحم کریں۔ اقتدار کی لالچ بہت خطرناک ہے۔ تاریخ میں بہت سبق اس کے لئے پوشیدہ ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر ٹوپیاں بنا کر اپنا خرچہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے باپ شاہجہان کے خلاف بغاوت کر دی۔ اور اپنے باپ کو قید کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے 12 برس تک شاہجہان کو شاہی قلے کے ایک برج میں بند کر دیا گیا کھڑکیاں چاروں اطراف کھلتی تھیں لیکن کود کر جان نہیں دے سکتا تھا۔ بے چارہ باپ اکیلا رہ رہ کر تنگ آ گیا تو ایک دن کھانا لانے والے سے بولا۔ بادشاہ سلامت تک میری درخواست پہنچا دو۔ وہ یہ کہ اکیلا رہ رہ کر تنگ آ چکا ہوں اگر کچھ بچے بھیج دیں تو میں پڑھا دیا کروں تا کہ وقت گزر جائے۔ اس پر ٹوپیاں بنانے والے اور قرآن پاک کی کتابت کرنے والے بیٹے نے جواب دیا کہ اچھا ابھی تک بادشاہوں والی ”خو بُو“ نہیں گئی۔ ابھی اکڑ کم نہیں ہوئی۔ بچوں کو بلا کر حکمرانی کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ فاروق لغاری کے بیٹوں کا کیا کہنا۔ ہاں اگر ان کا باپ قبر سے اٹھ کر آ جائے تو انہیں جوتیاں مارے گا کہ کس نوازشریف کے جلسے کے لئے بندے اکٹھے کر رہے ہو! شیخ رشید قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کے والد لیڈر ہیں۔ ان کی اس سیٹ میں بھی تحریک انصاف کا بڑا ہاتھ ہے۔ ایک سیٹ کے باوجود وہ عمران خان صاحب سے چار قدم آگے رہتے ہیں میں ان سے ملنے گیا ہوں۔ ڈی ایس این جی کی ان کے گھر کے باہر لائن لگی ہوئی ہے سارے چینلز پر وہ ہاٹ کیک کی طرح بکتے ہیں۔ شیخ رشید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ایک سیٹ کے باوجود انہیں بہت سنا جاتا ہے۔ آج انہوں نے ایک نئی بات کی ہے۔ عدالت 90 دن کے لئے جوڈیشل مارشل لا لگا دیئے۔ آج تک پاکستان میں کبھی جوڈیشل مارشل لا نہیں لگا۔ لیکن اس کی مثالیں دنیا کے دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں ایک مرتبہ فوج کی مدد سے تین سال کے لئے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو چیف ایگزیکٹو کے اختیارات دے دیئے گئے تھے۔ اس عرصہ میں ملک کا سیاہ و سفید ان کے ذمہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے الیکشن کا اعلان کیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں جوڈیشل مارشل لا لگے گا یا نہیں شیخ رشید کی کہی ہوئی باتوں میں کم و بیش 25 فیصد باتیں درست ثابت ہوتی ہیں۔ وہ ایک اچھے سیاسی ورکر ہیں۔ بہت اچھا بولتے ہیں۔ یہ ضرور کہوں گا کہ دیگر آپشنز میں سے انہوں نے ایک آپشن آج کھول دی ہے۔ 28 لوگوں نے مجھے ای میل کے ذریعے خطوط لکھے ہیں۔ اس میں ان کے شناختی کارڈز نمبرز، فون نمبرز موجود ہیں۔ جو مختلف شہروں سے ہیں۔ البتہ سندھ سے کم ہیں۔ ان میں آزاد کشمیر، پشاور، کے پی کے، وسطی اور جنوبی پنجاب سے زیادہ لوگ ہیں۔ 28 لوگوں نے کہا ہے کہ ہمیں بتائیں اب ہم نے کیا پروسیجر کرنا ہے۔ 19 وٹس ایب میسجز آئے ہیں۔ اس میں بھی مکمل کوائف موجود ہیں۔ سعودی عرب میں اعصاءکی پیوند کاری ہوتی ہے۔ دوسرا بڑا گروپ ایران کا ہے۔ سری لنکا واحد ملک ہے جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں پہلے سے عطیہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کی باڈی کو ہسپتال بھی نہیں پہنچایا جاتا بلکہ گھروں میں آ کر ٹیمیں وہ لے جاتی ہیں۔ ایران اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جو اپنے لوگوں کا کارنیا محفوظ کرتا ہے اور اندھے لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پاکستان میں 80 ہزار لوگ کارنیا کے منتظر ہیں کہ کب انہیں عطیہ ملے اور وہ دیکھنے کے قابل ہو سکیں۔ مجھے لوگ کہہ رہے ہیں کہ چندہ چھوڑ کر آپ اعضاءجمع کرنا شروع کر دیں۔ مولانا کوکب نورانی صاحب آپ بتائیں کہ اعضاءکا عطیہ کرنا کیسا عمل ہے۔ اسلامی شرعی عدالت اور نظریاتی کونسل کے چیئرمین آج کل باہر گئے ہوئے ہیں۔ ان کا پیغام ملا ہے کہ میرے دفتر سے میٹریل لے لیجئے گا۔ مولانا آپ کی رائے بڑی اہم ہے آپ اعضاءکی پیوند کاری کے بارے کیا کہتے ہیں۔ مولانا صاحب نے درست کہا کہ سختی سے ممانعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا دونوں قسم کے نظریات موجود ہیں۔ جس مذہب میں ایک شخص مر رہا ہو اسے بچانے کے لئے حرام چیز کا استعمال بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ مختلف جامعات نے اس کے حق میں فتوے دیئے ہیں۔ سعودی عرب، اور ایران میں اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ میں اسلام کے عمومی حکم کو سامنے رکھتا ہوں جس میں حرام چیز حرام نہیں رہتی اگر مرتے ہوئے شخص کی جان بچانا مقصود ہو۔ عالم دین مولانا کوکب نورانی نے کہا ہے کہ محترم! انسانی اعضاءکے بارے میں علماءکی دو رائے ہیں۔ ایک کہتے ہیں کہ ہم اپنے اعضاءکے مرنے کے بعد مالک نہیں ہیں۔ یہ اللہ کی امانت ہے۔ ہمیں برتنے کیلئے دی گئی ہے۔ اس کی حمایت والے کہتے ہیں کہ اگر کسی کی زندگی بنتی ہے اور میری زندگی میں فرق نہیں آتا۔ یعنی خون دے رہا ہوں یا ایک گردہ۔ جو دوسرے کے لئے ضروری ہے یہ گروپ ایسی حالت میں اس کی اجازت دیتے ہیں۔ بعد از مرگ اعضاء”مسلہ“ کرنے کا بھی واضح نہیں۔ ہسپتال والے حادثات کے بعد ایسا کرتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے۔ احادیث موجود ہیں۔ بہرحال دو قسم کے نظریات موجود ہیں ایک جو پیوند کاری کی اجازت دیتے ہیں دوسرے جو نہیں دیتے۔





































