سندھ (ویب ڈیسک)وادی مہران تاریخ میں دریائے سندھ کی مناسبت سے جانی جاتی رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں ہزاروں سال پہلے بھی ہر خاص و عام کے لئے پینے کے صاف پانی کے ساتھ نہانے کے لیے حمام کا انتظام تھا۔ پانی کی غیر معمولی مقدار سندھو سے حاصل کی جاتی تھی۔عظیم دریائے سندھ یہاں بسنے والوں کو وافر مقدار میں پانی فراہم کرتا تھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان بننے کے بعد سندھ کے عوام زندگی خوشیوں سے بھر جانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن ان پر حکومت کرنے والے بادشاہ صفت حکمرانوں کا عوام کے خون پسینے کی کمائی اپنے خزانے میں منتقل کرنے سے دل بھرے تو وہ ان کی فکر کریں۔پانی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں کہ انسان بھوک برداشت کر سکتا ہے لیکن پیاس جان لیوا ہوتی ہے۔ اسی لیے پانی کو انسان کی بنیادی اور لازمی ضرورت کہا جاتا ہے۔یوں تو سندھ حکومت عوام کی خدمت کے بے سرو پا بلند و بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتی لیکن دیہی سندھ کے واسی موت سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور حکمران شرم و حیا سے میلوں دور بھی پھٹکتے دکھائی نہیں دیتے۔ تھر کے باشندوں نے بارش کے علاوہ صاف پانی دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ اور اب تو ظلم کی انتہا ہی ہو گئی ، تھری باشندے وہ پانی پینے پر مجبور ہیں جو شاید جانوروں کے پینے کے قابل بھی نہیں ہے۔ہ اور ان کے اہل خانہ کی تو کیا بات کی جائے ان کے جانور بھی آلودگی سے پاک امپورٹڈ پانی پیتے ہیں۔ ان کے گھر ، دفتر اور جہاں بھی وہ جائیں مہنگے ترین پانی کے بوتلیں ان کے سامنے سجی ہوتی ہیں۔ جہاں پینے کے لیے ایسا پانی ستیا ب ہو وہاں خوراک کے لیے لوازمات کا ہم عوام تصور بھی نہیں کر سکتے۔ عوامی نمائندوں کے محل نما گھر اور بادشاہوں جیسی عیاش زندگی کا مجھ جیسا دیہاتی انسان خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔





































