Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایران کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید ،ثالثی کی پیشکش
    • کے پی گورنر راج دہشت گردی کا خاتمہ امن لئے ہے طلال چوہدری
    • خطے میں لڑائی مطلب جنگ جاری ایرانی نائب وزیر خارضہ
    • حسن نواز ڈیزرٹ وائپر ز میں شامل ٹائٹل کے دفاع کے لیے تیار
    • مٹی دے باوے امر خان نے مداحوں کو رلا دیا شوشل میڈیا پر چرچے
    • بلوچستان کے مختلیف علاقں میں زلزلے کی شدید جھٹکے خوف و ہراس پھیل گیا
    • وزیرِ خزانہ کی یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر سے ملاقات،ترقیاتی مالی معاونت، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور روزگار کے مواقع پر تبادلہ خیال
    • ڈکیٹی چوری کی متعدد وارداتیں لاکھوں کی نقدی زیوارات لوٹ لیے گئی
    • مستحکم خیبر پختونخوا ایکشن پلان تیار 27 محکموں کے لیے بڑے اقدامات تجویز
    • ون ڈے ٹرائی سیسریز کی رونمائی تینوں کپتاننوں کا فوٹو شوٹ
    • حوثیوں کے 3 ڈرون 2 کروز اور ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیے سعودی اتحاد
    • لاہور میں جرائم کی ہونے والی وارداتوں کا چارٹ
    • 6سالہ بچے سے بد سلوکی واقعہ بچوں کے تحفظ انسانی حقوق پر سوالات اٹھنے لگی
    • آئینی ترامیم کی بعض شقوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت، ججوں کو بے اختیار نہیں ہونا چاہیے:کیپٹن(ر)صفدراعوان
    • وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کو شکست ہوئی تو مارشل لا لگا دیا جائے’ حامیوں کی تجویز
    • ای سی او وزرائے کونسل اجلاس، اسحاق ڈار کی بروقت انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت
    • دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے پرسعودی عرب میں 5 ملزمان کے سر قلم کردیئے گئے
    • مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سید افتخار علی گیلانی سے ملاقات کررہے ہیں
    • اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان سے آزادکشمیر کے وزیراعظم سید افتخار علی گیلانی ملاقات کر رہے ہیں۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    راحیل شریف کے لیے نگران وزیر اعظم کا عہدہ

    By Daily Khabrainاپریل 30, 2018
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    لاہور (نیا اخبار رپورٹ) موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے میں تقریباً ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔ تاہم وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر تاحال نگران وزیراعظم کے ناموں پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی زیرقیادت نگران سیٹ اپ چلانے کے آپشن پر دوبارہ سنجیدگی سے غور شروع ہوگیا ہے۔ اس ڈویلپمنٹ سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپشن پر ایک برس پہلے غور شروع کیا گیا تھا اور اس کے لئے جواز یہ تھا کہ پاکستان کو کرپشن سے صاف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تین برس کے لئے ایک مضبوط نگران حکومت تشکیل دی جائے جو بلاتفریق سب کاکڑا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ اہم ترین اصلاحات نافذ کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے تاکہ ایک نئی لیڈرشپ سامنے آسکے اور ملک درست راہ پر گامزن ہوجائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب چونکہ یہ مرحلہ نزدیک آرہا ہے لہٰذا ملک کے پالیسی سازوں نے اس ایک برس پرانے خاکے میں رنگ بھرنے کے لئے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دو میں ہی انتخابی اصلاحات کے تحت صدارتی نظام حکومت متعارف کرانے کا پلان بھی سرفہرست ہے۔ اس کے لئے دلیل یہ اختیار کی گئی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت‘ متعدد باردو تہائی اکثریت لینے کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے لہٰذا ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے اور اہم فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام حکومت سے بدل دیاجائے۔ صدارتی نظام میں نہ صرف فیصلہ سازی کا اختیار فرد واحد کے پاس آجاتا ہے بلکہ انتظامی امور بھی چند لوگ چلاتے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں ان بھاری اخراجات سے بھی بچا جاسکے گا جو 345 کے ایوان پرمشتمل پارلیمانی نظام میں بے دریغ کئے جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ پارلیمانی نظام کے تحت حکومتی عموماً اپوزیشن سے بلیک میل ہوتی ہے لہٰذا کئی اہم فیصلوں پر عملدرآمد کی پوزیشن میں نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے لئے ناگزیر کئی اہم اصلاحات اب تک نافذ نہیں کی جا سکی ہےں۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک کے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانے پر جاری بحث نئی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مختلف سطح پر یہ اسٹڈی 1980ء کے اوائل سے کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کاغذات تیار ہوتے رہے ہیں اور پھر شیلف میں بند بھی کئے جاتے رہے۔ تا ہم باجوہ اس پلان پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ اب ایک بار پھر یہ پیپرز نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر مطالعہ ہیں۔ ذرائع کے بقول مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دور میں جن اہم اصلاحات کو نافذ کرنے کا پلان ہے‘ اس میں صنعت کاروں کی حکمرانی رہے گی‘ جوہر بار الیکشن جیت کر اقتدار میں آجتے ہیں۔ لہٰذا موجودہ انتخابی نظام میں نئی لیڈر شپ ابھر ہی نہیں سکتی۔ ذرائع کے مطابق اصلاحات کے حوالے سے دوسرا اہم ہدف احتساب ریفارمز ہیں۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں احتساب سے متعلق اہم اصلاحات کو نافذ کر دے گی‘ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں کمیشن بھی نہیں بن سکا۔ یہ معاملہ 2010ءسے زیر التوا ہے۔ لیکن احتساب بل تک منظوری نہیں کرایا جا سکا۔ اسی طرح ایجوکیشن‘ بیورو کریسی‘ عدلیہ اور میڈیا کے حوالے سے بھی اہم اصلاحات پلان کا حصہ ہیں۔ جبکہ پالیسی سازوں کے خیال میں ان تمام مشکل اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف دو سے تین برس کی نگراں حکومت درکار ہے‘ بلکہ نگران حکومت کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے اس کی قیادت کے لئے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پالیسی سازوں کی اکثریت کا ان کے نام پر اتفاق ہے۔ ان کے خیال میں جنرل (ر) راحیل شریف نے شہری ‘ دیہاتی اور معاشی ہر قسم کی دہشت گردی کو قریب سے دیکھ رکھا ہے اور اپنے دور میں اس سے نمٹتے بھی رہے ہیں۔ بیرونی مداخلت کے معاملے کو بھی دو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ پھر یہ کہ 41 رکنی اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر ان کے مختلف ممالک کے اہم لوگوں سے تعلقات اور ہم آہنگی مزید بہتر ہو چکی ہے‘ اور خلیجی ممالک میں ان کی خاصی آﺅ بھگت ہے۔ پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جنرل (ر) راحیل شریف دبنگ شخصیت کے مالک ہیں۔ لہٰذا ان کی قیادت میں نگراں حکومت اپنے تمام مشکل اور ہم اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر اس آپشن پر عمل کا حتمی فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اسلامی اتحادی فوج کی گمان کوئی دوسرا پاکستانی سابق جرنیل بھی سنبھال سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے ایک ڈیڑھ برس میں ریٹائر ہونے والی کوئی اہم فوجی شخصیت کو ہی سعودی عرب یہ ذمہ داری دیدے۔ ذرائع کے مطابق اہم مرحلہ یہ ہے کہ مجوزہ پلان پر عمل درآمد کا طریقہ کار کیاہو گا؟ اس کے لئے زیادہ توقعات یہ رکھی جا رہی ہیں کہ نگران وزیراعظم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو پائے گا یا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس صورت حال میں یہ ایشو پہلے پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور وہاں بھی حل نہ ہونے پر بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں آجائے گی اور اس صورت میں مرضی کی نگراں حکومت لانا آسان ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حالات کو بھانپتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن نگراں وزیراعظم اور دیگر سیٹ اپ پر اتفاق کر لیتی ہیں رتو پلان بھی کے تحت چند ماہ کی نگراں حکومت کو مخصوص حالات کے تناظر میں توسیع دی جا سکتی ہے اور پھر اس مرحلے کے دوران ہی جنرل (ر) راحیل شریف کو نگراں سیٹ اپ کا حصہ بنایا جائے گا۔ نگراں حکومت میں صاف ستھرے کردار کے مالک ریٹائرڈ بیورو کریٹس‘ ریٹائرڈ ججز اور ریٹاڈ فوجی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ان میں سے بہت سوں کو امور حکومت چلانے کے کورس بھی کرائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنی مدت ختم ہونے سے صرف ایک ماہ پہلے بجٹ پیش کرنے اور پانچ وفاقی وزرا کی کابینہ میں حیران کن شمولیت سے متعلق حکومت کے اقدامات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ کیونکہ منصوبہ سازوں کو یہ سن گن بھی مل رہی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مخصوص حالات الیکشن ایک برس کے لئے آگے بڑھانے کا آئینی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اسے بھی کاﺅنٹر کرنے کا پلان بنایا جائے گا۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.