اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا ہے کہ الیکشن لڑنے کیلئے پاکستان کی شہریت ہونا لازمی نہیں۔ کاغذات نامزدگی فارم بڑا سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے چاہیں۔ الیکشن سے پہلے اصل مسئلہ حلقوں کا ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اعتراضات کر رہے ہیں جو 5 ویںنمبر کے کونسلر ہیں۔ حلقہ بندیاں کالعدم ہونے سے امیدواروں کیلئے مشکلات ہیں، مجھے معلوم ہی نہیں کہ اب میرا حلقہ کہاں تک ہے۔ الیکشن میں ایک ماہ کی تاخیر سے قیامت نہیں آجائے گی۔ الیکشن میں15 سے 20 دن تاخیر ہوجائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ الیکشن میں تاخیر کا حکم سپریم کورٹ دے سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران مرضی کے ہونگے تو 2، 3 ڈاکے انکے لیے بڑی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں اسلام کے نہیں اسلام آباد کے ساتھ ہیں۔ ختم نبوت کی شق پر بھی سب سے پہلے میں نے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پھر نواز شریف کی طرف جارہی ہے۔ 20 سے 25 فیصد پی پی نواز بیانیے کو سپورٹ کر رہی ہے۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ انکو سزا ہوجاتی ہے تو تحریک ہے اور انکو ووٹ ملے۔ میں نواز شریف کا سیاسی مستقبل نہیں دیکھ رہا، وہ عید کے فوری بعد الیکشن چاہتے ہیں تاکہ جیل جانے کا سیاسی فائدہ مل سکے۔ پی پی سمجھ رہی ہے کہ سارا جنوبی پنجاب تحریک انصاف کی طرف چلا گیا ہے۔ میں عمران خان کی مخلوط حکومت دیکھ رہا ہوں۔ اگر عمران خان کی ہوا چل گئی تو اکیلا ہی حکومت بنالے گا۔ ریحام خان کی کتاب سے عمران کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ الیکشن میں اصل مقابلہ عمران و نواز کا ہے۔ ضروری نہیں کہ آصف زرداری کے ساتھ چلا جائے۔ بلاول کے ساتھ بھی چلا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی میں اختلاف کی باتیں لوگوں کیلئے تکلیف کا باعث ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار اسوقت حقیقی مرکزی کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز و شاہد خاقان عباسی کو جیل دیکھ رہا ہوں۔ چودھری نثار اس بار آزاد الیکشن لڑیں گے۔ ان کیلئے بغیر ایڈمنسٹریشن کے یہ الیکشن مشکل ہوگا۔ چودھری نثارکے لیے راستہ صاف ہے مدمقابل نواز، شہباز وخاقان جیل جا رہے ہیں۔ 5، 6 دنوں میں ایل این جی کا کیس لگ جائے گا۔ اسوقت سٹیبلشمنٹ کا سب سے مضبوط آدمی شاہد خاقان ہے۔ شہباز شریف فوج کو استعمال کرنے میں بہت سمارٹ ہیں۔ ایل این جی پر شاہد خاقان نے مناظرے کا چیلنج دیا تھا، دعوت دیتا ہوں ٹی وی پر مناظرہ کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی ختم ہوگئی، ماہرین قانون کہتے ہیں میری نا اہلی کا مسئلہ بھی ختم ہوگیا۔ سپریم کورٹ کا میرے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا قبول ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دھرنے کے دوران شہباز شریف سے دوبارہ رابطہ کیا تھا۔ مجھے یقین ہے الیکشن کے بعد میرا بہترین دور شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا مریم نواز کو کبھی سنجیدہ نہیں دیکھا ہمیشہ جذباتی فیصلے کیے۔ نواز شریف جیسے لوگوں کو سیاست میں نہیں ہونا چاہیے۔ 40 سال عوام کا پیسہ لوٹ کر کھایا۔