تازہ تر ین

لیگی حکومت ختم ہوتے ہی سیاسی آشیر باد والے جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے

لاہور (نادر چوہدری سے) صوبائی دارالحکومت میں لیگی حکومت کا آئینی دور ختم ہونے اور سیاسی رہنماﺅں کی ایما پر تعینات ایس ایچ اوز کے تبدیل ہوتے ہی سیاسی رہنماﺅں کے جرائم کے اڈے بھی واضح ہونے لگے، جوائ، منشیات، فحاشی کے اڈے، قتل، اقدام قتل، چوری، کیتی اور قبضہ سمیت دیگر سنگین نوعیت کے واقعات سیاسی سرپرستی میں ہوتے رہے، غیر قانونی دھندوں میں ملوث متعدد بلدیاتی نمائندوں نے اپنے مکروہ دھندے الیکشن تک بند کردیے جبکہ سیاسی آشیر آباد میں جرائم کو فروغ دینے والے جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے، سیاسی مقاصد کیلئے سنگین نوعیت کے جرائم کرنے والے بڑے کریمینل اپنی سیاسی جماعت کی الیکشن 2018ءمیں کامیابی تک بیرون ممالک فرار، فون پر ملک میں موجود نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، جرائم پیشہ افراد اور اڈوں کی سرپرستی کرنے والے سیاسی رہنماﺅں نے نگران سیٹ اپ میں مرضی کے خلاف تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز کی جانب سے ممکنہ طور پر کی جانے والی کارروائیوں کا توڑ نکال لیا، اہلکاروں سے حوالدار ڈرائیور تک کو مبینہ طور پر حیثیت سے بڑھ کر رقم دے کر ایماندار ایس ایچ او یا بیٹ افسر کے کسی بھی چھاپے سے قبل اطلاع لینے کا بندوبست کر لیا، فیس بک کے ذریعے بھی شہریوں نے جرائم پیشہ افراد اور پولیس کی کالی بھیڑوں سے نفرت کا اظہار شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد سیاسی ایماءپر تعینات ہونے ہونے والے ایس ایچ اوز کے تبادلوں کے بعد سیاسی رہنماﺅں کے زیر سایہ چلنے والے جرائم کے اڈوں سمیت ان جرائم پیشہ افراد بارے بھی انکشافات منظر عام پر آنے شروع ہوگئے ہیں جن کو یہ ذاتی اور سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ 5سالہ جمہوری دور میں پنجاب پولیس کے افسران بالا سے اہلکاروں تک تمام ان سیاسی رہنماﺅں اور ان کے ساتھ براہ راست تعلقات رکھنے والوں کے غلام رہے اور اس عرصہ میں پنجاب پولیس بالخصوص لاہور کی سطح پر بہت سارے عملی اقدامات کرتے ہوئے جرائم کی شرح میں کمی کے دعوئے کیئے گئے لیکن کارکردگی صرف دعوﺅں کی حد تک ہی رہی۔ الیکشن 2018ءسے قبل آنیوالے نگران حکومت میں ممکنہ طور پر پکڑے جانے کے خوف سے متعدد بلدیاتی نمائندوں نے اپنے غیر قانونی دھندے الیکشن تک بند کردیے ہیں جبکہ چند ایک تاحال منشیات، جوئے اور جسم فروشی سمیت دیگر غیر قانونی دھندوں کو تھانوں میں تعینات نچلے عملے کو بطور منجر استعمال کرتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ان جرائم پیشہ بلدیاتی نمائندوں نے متعلقہ تھانہ کے بیٹ کانسٹیبلوں، محرر، نائب محرر اور سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اپنے ہاتھ میں کیا ہوا ہے جو ایس ایچ او سمیت کسی بھی بیٹ افسر کی جانب سے ان جرائم کے اڈوں پر چھاپہ مارنے سے قبل ہی ان کو چھاپہ پڑنے کی اطلاع دے دیتے ہیں جس پر ملزمان ہوشیار ہوجاتے ہیں اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سب کچھ غائب کرکے صاف ستھرے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور پولیس کو منجر خاص کی پکی اطلاع کے باوجود خالی لوٹنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ ان چالاک ملزمان کی جانب سے غلط چھاپہ مارنے کے حوالے سے افسران بالا کو دی جانے والی درخواستوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جمہوری حکومت کا آئینی دور ختم ہوتے ہی سیاسی آشیر آباد میں منشیات، قتل، اقدام قتل، چوری، ڈکیتی اور قبضہ سمیت دیگر سنگین نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے ہیں جبکہ بڑے کریمینل اپنی سیاسی جماعت کی الیکشن 2018ءمیں کامیابی تک بیرون ممالک فرار ہورہے ہیں جوکہ فون پر ملک میں موجود نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ رہیں گے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain