لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار علی احمد ڈھلوں نے کہا ہے کہ نیب کو متحرک رہنا چاہیے ابھی تک انکوائری شروع ہوئی ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا نواز شریف جب سیاست میں آئے تھے ان کا شمار 100 امیر ترین لوگوں میں بھی نہیں ہوتا تھا لیکن اب وہ پہلے 5 امیر لوگوں میں ہیں۔ اگر درست انکوائری ہو تو مسلم لیگ ن کا کوئی وزیر نہیں بچے گا اگر آپ عمل نہیں کریں گے نظام نہیں چلے گا۔ یاسمین راشد کے حلقے سے 29000 ووٹ غائب کیے گئے یعنی رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔ ن لیگ تمام الیکشن اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جیتے۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا کہ حکومت والے اتنے استاد ہیں ذرا سی بات پر ہنگامے کھڑے کر رہے ہیں جب تک کسی کو سزا نہ ہو وہ قانون کی نظر میں معصوم ہوتے ہیں۔ نواز شریف کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے لیکن اب قوم تبدیلی کی جانب چل پڑی ہے۔ نظام برا نہیں ہوتا۔ کام کرنے والے لوگ ہونے چاہئیں۔ میرے خیال میں نگران وزیر اعلیٰ بھی ن لیگ کا بنے گا۔ نواز شریف کو معلوم ہے لوگ تبدیل ہو گئے ہیں۔ ریحام خان کی کتاب میں ایسے الزامات لگائے گئے جس کا ذکر تک نہیں کیا جا سکتا۔ کالم نگار میاں سیف الرحمان نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں عوام اب باشعور ہیں ان کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ کرپشن کے خلاف سزائیں دے کر دنیا نے ترقی کی قوانین موجود ہیں لیکن عملدرآمد نہیں سیاستدانوں کو اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ تجزیہ کار روبینہ ثروت نے کہا کہ کرپشن دوسری پارٹیاں بھی کرتی ہیں لیکن اب عوامی شعور میں اضافہ ہو گیا۔ نیب میں بڑے اچھے لوگ بھی ہیں میرے خیال میں نیب کو اب آزادی سے یقین چاہیے عبوری حکومت کے پاس اتنے اختیارات نہیں ہوتے لوڈشیڈنگ آنے والی حکومت ختم کر سکتی ہے گزشتہ حکومتوں نے لوڈشیڈنگ کا مصنوعی حل نکالا۔ مسلم لیگ ن کو دھاندلی کے تمام طریقے معلوم ہیں۔





































