تازہ تر ین

دشمنوں کی کوشش ہے مجھے جیل بھیج کر قید کر لیا جائے

اسلام آباد، منڈی بہاﺅالدین (نمائندگان خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پر ایک طرف سنگین غداری کامقدمہ دوسری طرف الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت مل گئی کدھر گیاآئین و قانون،آرٹیکل 6،اورکدھر گئے سارے مقدمے؟سب کچھ قانون سے بالا تر ہورہاہے  مشرف جیسے شخص کوکیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے جوبگٹی قتل کیس میں،ججوں کو نظر بند کرنے،12مئی کےواقعہ میں اور2بارآئین توڑنے میں شامل ہو  چیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیں مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے  یہ کون سا آئین ہے  اس آئین کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں  دوسری طرف مجھے بیگم کی عیادت کےلئے3 دن کا استثنا بھی نہیں مل رہا،مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا ایک جانب مشرف کو رعایت دی جارہی تو دوسری جانب مجھے بیمار بیوی سے ملنے کے لیے 3 دن کی استثنیٰ تک نہیں دی گئی۔ جمعہ کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کی۔پرویز مشرف کے حوالے سے سوال پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے جواب دیا کہ سب کچھ قانون سے بالاتر ہو رہا ہے،مشرف جیسے شخص کوکیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے جوبگٹی قتل کیس میں،لال مسجد کیس  ججوں کو نظر بند کرنے،12مئی کےواقعہ میں اور2بارآئین توڑنے میں شامل ہو۔انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عقل و فراست میں یہ بات نہیں آ رہی کہ کوئی قتل کردے،آئین توڑدے،تباہی پھیردے،چیف جسٹس چاہیں گے تو اسے کچھ نہیں کہاجائیگا  آپ کہہ رہے ہیں اسے گرفتار نہ کیا جائے   یہ کون سا آئین ہے اس آئین کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف مجھے بیگم کی عیادت کےلئے3 دن کا استثنا بھی نہیں مل رہا،مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کس آئین اور قانون میں مشروط اجازت دینے کا لکھا ہے  ہمیں بھی دکھا دیں  سب لوگ حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ چیف جسٹس ایسا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔کیا اس ملک میں ایسا قانون ہے جو اعلیٰ عہدے پر بیٹھے کسی شخص کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ فوجی آمر کو یقین دہانی کرائے؟اس دوران صحافی کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان یقین دہانیوں کے بعد پرویز مشرف واپس آجائیں گے؟ تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں مفروضات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔گزشتہ روز چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ‘پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہو جائیں، انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا۔ سابق وزیرعظم نواز شریف نے کہا ہے گزشتہ 70 سالوں میں چند لوگ عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے رہے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ منڈی بہاﺅ الدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کسی سیاست دان نے پانچ سے زیادہ پیشیاں نہیں بھگتیں، میں 92 بھگتی ہیں اور یہ میں نے آپ کے لیے کیا۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی شدید کوشش ہے کہ نواز شریف کو جیل بھیج دیا اور قید کردیا جائے۔نواز شریف نے کہا کہ میں کوئی بزدل آدمی نہیں ہوں، سوچنے والے سوچتے ہوں گے، کیسے آدمی سے پالا پڑا ہے۔انہوں نے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وعدہ کرو ووٹ کی عزت کو بحال کرو گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ کے ووٹ کو پھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے، اس کو عزت دینے کے لئے آپ کو نواز شریف کا آخری تک ساتھ دینا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کریں اگلے 70 برس، پچھلے 70 برس سے بہتر ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو دھاندلی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر کسی نے اس کی کوشش کی تو پھر حساب لیں گے۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جو ایسا کرے گا وہ بھگتے گا، قوم اسے سزا دے گی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف جو وعدہ کرتا ہے، وہ پورا کرتا ہے، جس نےلوڈ شیڈنگ، دہشتگردی ختم کی آج وہ پیشیاں بھگت رہا ہے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain