اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، معروف قانونی ماہر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حسن عسکری شریف آدمی ہیں ان پر تنقید بے جا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کو انتظامیہ میں چھان بین کر کے تقرریاں کرنا ہونگی کیونکہ شریف خاندان کے وفادار ہر جگہ موجود ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں۔ چند روز پہلے تک ن لیگی بڑے بااعتماد نظر آ رہے تھے اب مایوس نظر آتے ہیں۔ الیکشن وقت پر ہونے پر نواز شریف پریشان اور مایوسی کا شکار ہیں۔ حسن عسکری بارے ن لیگ کے اعتراضات غیرسنجیدہ ہیں، عسکری نے اپنے تجزیوں میں ہر کسی پر تنقید کی ہے۔ کاغذات نامزدگی کا مسئلہ عدالت نے بڑی خوش اسلوبی سے حل کر دیا اور اضافی بیان حلفی شامل کر کے خدشات دور کر دئیے۔ عدالت کے اقدام سے متفق ہوں۔ شریف خاندان کے حوالے سے عدالتیں نرم رویہ اختیار کرتی ہیں اب بھی نیب جج ان کے ساتھ نرمی برت رہا ہے کوئی ملزم جس کے بیٹے مفرور ہوں اس کی ضمانت نہیں ہو سکتی اور نواز شریف لندن جا کر مفرور بیٹوں سے ملتے ہیں ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ یہ ساری دولت کہاں سے آئی۔ اتنی غیر منطقی بات بھی کہیں دنیا میں ہو سکتی ہے۔ حدیبیہ کیس میں بھی فیصلہ دیدیا گیا کہ فوجداری مقدمہ بھی زائدالمعیاد ہو سکتا ہے جبکہ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوتا، خواجہ آصف کیس میں ان کے حق میں فیصلہ دیا گیا، کیا دنیا کے کسی ملک کا وزیرخارجہ کسی اور ملک کی کمپنی میں ملازم ہو سکتا ہے۔ خدیجہ نامی بچی کو سرعام 23 بار خنجر مارے گئے یہ کیس بھی سپریم کورٹ جائے گا اور انصاف ہوگا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پرویز مشرف واپس نہیں آئے گا۔ اسے کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ پاکستان کے دریاﺅں کے پانی سے چاروں صوبوں کا یکساں حق ہے پانی کی تقسیم اور استعمال اتفاق رائے سے ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس نے میری اسی استدعا کو تسلیم کیا۔ یہ بھی تسلیم کیا کہ کالا باغ ڈیم بارے سندھ اور کے پی کے تحفظات بھی ٹھوس ہیں، کافی تکنیکی مسائل ہیں، ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہوگا کہ پہلے کالا باغ ڈیم کے علاوہ کون سے ڈیم ہیں جو غیر متنازع ہیں جن پر فوری کام ہو سکتا ہے، پانی کو سٹور کرنے کے دیگر کیا ذرائع ہیں جن پر عمل کیا جاسکے۔ پانی کو محفوظ نہ کیا گیا تو 10 سے15 سال کےلئے زراعت کےلئے تو دور کی بات پینے کا پانی بھی نہیں ملے گا۔ چیف جسٹس اور ہم سب اس بحران پر پریشان ہیں ہم سب مل کر کام کرینگے۔ منڈا ڈیم، بھاشا ڈیم پر کسی کو اعتراض نہیں تھا ان کو کیوں نہ تعمیر کیا گیا۔ 40 سال میں4 بڑے ڈیم بنانے چاہئیں تھے لیکن بدقسمتی سے ایک بھی نہ بنایا گیا۔ بلاول بھٹو پنجاب میں بھرپور کمپین کرینگے جس میں میں ان کے ساتھ ہونگا۔






































