تازہ تر ین

پٹرول ٹیکس پر نظر ثانی کی جائے ، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے

کراچی (این این آئی‘ آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ لوگ بلک گئے، ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں، پالیسیاں کون بنا رہا ہے، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں، یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے۔ عدالت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں کیونکہ جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت کے دوران ایم ڈی پی ایس او پیش ہوئے تاہم چیئرمین اوگرا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ دوران سماعت ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے تناسب سے اوسط قیمت مقرر کی جاتی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پی ایس او سمیت 22کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ ایم ڈی پی ایس او کا کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس میں ہر کمپنی 3ماہ کی ڈیمانڈ رکھتی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں، آپ کے ریکارڈ کی ماہرین سے تصدیق کرائیں گے اور اگر رپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لوگ بلک گئے ہر ماہ قیمتیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپس کھول لیے ہیں۔ دوران سماعت ڈیلرز کے کمیشن کے تناسب میں فرق پر چیف جسٹس پاکستان نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ لگتا ہے یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے، بتائیں کراچی والوں پر ٹرانسپورٹیشن چارجز کیوں لاگو کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی والوں سے ٹرانسپورٹیشن چارجز کیوں لے رہے ہیں، یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جس پر ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ پالیسیاں اوگرا بناتا ہے۔ اس موقع پر عدالت میں موجود اوگرا حکام نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اوگرا پالیسیاں بناتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار سے متعلق تمام پالیسیاں حکومت بناتی ہے۔ ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال رہا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس فیصلے کا بوجھ عبوری حکومت پر آیا لہذا اب خسارہ کم کرنے کے لیے مزید قیمت بڑھائی جا سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے شہریوں پر مزید عذاب ڈالیں گے، جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، عدالت ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ بات بہت مرتبہ سن چکا، کہا جاتا ہے بھارت کے مقابلے میں قیمتیں کم ہیں تو بھارت کے ڈالرز کی قیمت بھی تو دیکھیں، بھارت اچھا کر رہا ہے یا برا، آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں پر ترس کھانا سیکھیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5جولائی تک ملتوی کردی۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain