قصور(بیورورپورٹ)مسلم لیگ ن کا سابق ایم این اے رانا اسحاق خاں پنجاب کا سب سے بڑا قبضہ گروپ اور ظالم ترین شخص ہے رانا اسحاق اور اسکے غنڈوںنے محکمہ مال کے افسران کے ساتھ مل کر میری 220 کنال 11 مرلے زمین پر قبضہ کرلیا میرے گھر اور حویلی کو مسمار کر دیا گیا میں ایک معزز کاشتکار سے بھکاری بنا دیا گیا جب میں نے رانا اسحاق کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی تو ہر پولیس افسر نے میری بات سننے سے ہی انکار کر دیا میں آٹھ سال تک افسران کے دفتروں کے چکر کاٹتا رہا انصاف کے حصول کے لیے میںنے ہر بااثر شخص کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی میری داد رسی کے لیے تیار نہ ہوا دوسری طرف رانا اسحاق اور اس کے غنڈے مجھے مسلسل دھمکا رہے تھے جس پر میںنے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تو عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے مگر پولیس نے عدالت عالیہ کے وہ احکامات ہوا میں اڑا دیے ن لیگ کی حکومت ختم ہونے کے نتیجہ میں آٹھ سال بعد رانا اسحاق اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرانے میں تو کامیاب ہوگیا ہوں مگر ضلع قصور کی پولیس حکومت ختم ہوجانے کے باوجود بھی ن لیگ کی غلام ہے یہ پولیس نہ پہلے میری استدعا سننے کو تیار تھی اور نہ ہی اب مجھے انصاف دلانے کے لیے کچھ کر رہی ہے یہ باتیں چونیاں کے نواحی گاﺅں دیو سیال کے عمر رسیدہ کاشتکار فتح اللہ نے روتے ہوئے روزنامہ خبریں کو بتائیں فتح اللہ نے کہاکہ رانا اسحاق خاں نے رانا فیاض ولد عاشق علی ،رانا ریاض ولد عاشق علی،غلام نبی ولد ملک محمد ،اسلام دین ولد محمد الیاس ،اکرم ولد عبدالکریم ،نعمت اللہ اشٹام فروش ،نذیر احمد ولد احمد دین ،ملک رشید احمد ولد خوشی محمد،محمد شریف پٹواری،اشفاق ولد عاشق علی ،اشتیاق ولد عاشق علی کے ہمراہ مل کر آٹھ سال قبل محکمہ مال کے افسران کے ساتھ مل کر دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے جعلی انگوٹھے اور دوسری بوگس دستاویزات تیار کرکے میری زمین کو اپنے نام کروا لیا اور کاغذات میں یہ ظاہر کیا کہ میںنے کروڑوںروپے مالیت کی یہ زمین محض سولہ لاکھ روپے میں انہیں فروخت کر دی ہے حالانکہ میں اپنی زمین فروخت کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا تھا فتح اللہ نے بتایا کہ محکمہ مال کے افسران پٹواری اور دیگر بڑے افسران بھی ہمیشہ ضلع قصور میں رانا برادران کا حکم مانتے ہیں اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ جو افسر یا ملازم رانا برادران کا حکم ٹالے اسے ضلع بدر کر دیا جاتا ہے ایسے ہی کرپٹ اور بدعنوان افسران کے ذریعے مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے رانا اسحاق نے میری زمین اپنے اور رانا فیاض احمد کے نام کرالی جس پر میںنے احتجاج کیا تو ایک دن رانا اسحاق کے غنڈوں نے آکر میری حویلی کا گھیراﺅ کرلیا اور میرے اہلخانہ کو بے گھر کرنے کے بعد حویلی اور گھر کو مسمار کر دیا گیا میں آٹھ سال تک دردر کی ٹھوکریںکھاتا رہا مگر مجھے کہیںسے انصاف نہیں ملا رانا اسحاق کا بڑا بھائی رانا محمد حیات مسلم لیگ ن ضلع قصور کا صدر اور سابق ایم این اے ہے اسی طرح اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خاں رانا اسحاق کا فرسٹ کزن ہے جبکہ رانا اسحاق خاںکا بھتیجا ضلع ناظم قصور ہے رانا برادران اور انکا دھڑا دھائیوںسے ضلع قصور پر حکمرانی کر تا چلا آرہا ہے فتح اللہ نے کہا کہ صرف میں ہی ان کے ظلم کا مارا ہوا نہیں ہوں ان لوگوںنے میرے جیسے لاتعداد لوگوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر غیر قانونی طریقے سے قبضے کر رکھ ہیں مگر چونکہ یہ لوگ اشتہاری ملزمان اور غنڈوںکی ایک بڑی فوج کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کے افسران ان کے آگے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں اس طرح ضلع قصور میں رانا اسحا ق خاں اور ان کے گروپ کے ظلم وستم کا سلسلہ جاری چلا آرہا ہے فتح اللہ نے کہاکہ انتہائی شرم کی بات یہ ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی الٹا مجھے فون پر پولیس کی طرف سے دھمکیاںدی جارہی ہیں کہ تم رانا اسحاق خاںسے صلح کرلو وہ تمہیں معقول رقم بھی دیدیںگے مگر میں رقم نہیں انصاف چاہتا ہوں میری چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف فراہم کیاجائے فتح اللہ نے کہاکہ مقدمہ درج کرانے سے پہلے ہی آٹھ سال تک بھاگ دوڑکرنے کی وجہ سے میں کنگال ہوچکا تھا اب رانا اسحاق کے غنڈے مجھے فون پر آئے روز دھمکیاںدے رہے ہیں کہ ہم تمہارے خاندان کو زندہ نہیں چھوڑیںگے فتح اللہ نے کہاکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ چھپتا پھر رہا ہوں میں کل ایک باعزت کاشتکار تھا اور آج میرے بچے دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوچکے ہیں فتح اللہ اور ا سکے اہلخانہ نے کہا کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجائیںگے روزنامہ خبریںنے جب اس سلسلہ میں قصور پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ فتح اللہ کی رپورٹ پر مقدمہ کا اندراج ہوچکا ہے اور رانا اسحاق سمیت دیگر ملزمان 28 جون تک عبوری ضمانت پر ہیں جیسے ہی ملزمان کی ضمانت خارج ہوگی انہیں گرفتارکرلیا جائے گاخبریںنے رانا اسحاق کا موقف جاننے کے لیے ان کے موبائل نمبر03334511666 پررابطہ کیا اور ان کے پی اے کے استفسار پر اسے بتایا کہ اس کیس کی بابت رانا اسحاق کا موقف جاننا چاہتے ہیں مگر پی اے نے نمبر کاٹ دیا اور بعد میںمتعد د بار رابطہ کرنے کے باوجود نمبر اٹینڈ نہیں کیا۔



































