تازہ تر ین

کسان دوست زرعی پالیسی نافذ، ایگروبیسڈ صنعت کوفروغ دیاجائے : مظفر حیا ت خان خاکوانی، چین سے محتاط معاہدے کئے جائیں : عامر نذیر بُچہ، چینی فیکٹریوں پر چیک رکھاجائے:ڈاکٹر طارق ملک، کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا:ڈاکٹرعابد حمید، ”فانا فلورا“ محفوظ رکھنے کےلئے جنگلات لگائے جائیں: شفقت سعید، حکومت آم کی ایکسپورٹ پر ریلیف دے:میجر(ر) طارق خان اسماعیل، سبزیوں، پھلوں کے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دی جائے: اکرم چاون، اعظم صابری، ملتان آم کے حوالے سے پہچان کھو چکا:ظفر حسین مہے، باغبانوں کےلئے سبسڈی سکیم متعارف کرا دی:نویدعصمت، ” خبریں فورم “ میںا ظہار خیال

ملتان(اہتمام و رپورٹ: سجاد بخاری، طارق اسماعیل، تصاویر: سرفراز نیازی) پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک CPEC) منصوبے کی آڑ میں غیرملکی کمپنیوں کو زرعی زمینیں اور سرکاری فارم دینے کے بجائے کسان دوست زرعی پالیسی نافذ کی جائے۔ سی پیک منصوبے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین پاکستان میں اپنی صنعتیں تو لگا سکتا ہے لیکن اس کے پاس ہماری زراعت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس حوالے سے محتاط معاہدے کئے جائیں۔ ہم بہتر منصوبہ بندی سے وافر زرعی اجناس پیدا کرکے چین سمیت دنیا بھر کی بیشتر آبادی کو کھلا سکتے ہیں۔ مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کے بجائے ویلیو ایڈیشنز پر توجہ دی جائے اور ہر چھوٹی صنعتیں لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حکومت سی پیک کے ساتھ کارپوریٹ فارمنگ کے بجائے کوآپریٹو فارمنگ کو فروغ دے۔ زراعت ماحولیات سمیت تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو سی پیک کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے جوڑنے کے لئے تیاری رکھیں۔ یہ تجاویز ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے شرکاءنے دیں۔ عدنان شاہد فورم ہال میں ہونے والے فورم میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ماہرین ڈاکٹر طارق ملک، ڈاکٹر عابد حمید ملغانی، سینئر زرعی سائنسدان ملک عامر بُچہ، ترقی پسند کاشتکار اور مینگو گروورز میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی، مظفرحیات خاکوانی، ملک ظفر حسین مہے، راﺅ محمد عمران، محکمہ زراعت پنجاب کے میڈیا لائز ان یونٹ ملتان کے نوید عصمت کاہلوں، انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اعظم صابری اور سبزی اور پھلوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے شرکت کی۔ ”خبریں“ زرعی فورم میں شرکاءنے سی پیک اور ہماری زراعت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس میں اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تجاویز بھی دیں۔ ترقی پسند مینگو گروور مظفر حیات خان خاکوانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں کو چاہےے کہ وہ سرکاری و نجی زمینیں چین سمیت تمام غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہ کریں۔ کمپنیوں سے قلیل المدتی محتاط معاہدوں کے تحت زمینیں لیز پر دینے سے کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہےے کہ ہم مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ایگرو بیسڈ صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔ سی پیک کے منصوبے کے ساتھ چین سے ایک بڑی تعداد میں غیرتربیت یافتہ افراد اپنے آپ کو نامور ماہرین ظاہر کرکے ہمیں ٹریننگ دینے کے در پے ہیں، انہیں روکا جائے۔ چین سے زرعی ٹیکنالوجی ، تحقیق کا تبادلہ ضرور کیا جائے۔ فیکٹریوں اور شہریوں کا فضلہ نہروں میںڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس روش سے زراعت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ چین جتنی بڑی صنعت لگا لے ہمیں اپنی زراعت پر فخر ہے اور ہماری زراعت کا چین سمیت دنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ سینئر زرعی سائنسدان اور پلانٹ پتھالوجسٹ ملک عامر نذیر بُچہ نے کہا ہے کہ ہمیں خواب غفلت سے باہر آنا ہوگا اور بہتر کل کے لئے آج کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ باغات سمیت فصلوں کی خوراک کا کیلنڈر تبدیل ہوگیا ہے لیکن ہمارے ادارے پرانے طریقوں پر چل رہے ہیں۔ زراعت کے نئے تقاضوں کے مطابق کاشتکاروں کی ٹریننگ کی جائے۔ مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر طارق ملک نے کہا کہ ہم باغات کی سڈن ڈیتھ کوئیک ڈیکلائن کی وجہ 10سال بعد جان چکے ہیں اور ہم اس وائرس تک بھی پہنچ چکے ہیں، ہمیں باغات کو بچانے اور ان سے بھرپور پیداوار لینے کےلئے تمام تقاضے تبدیل کرنا ہونگے۔ آبپاشی کے طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور باغات کو فوری طور پر ڈرپ اری گیشن پر لانا ہوگا تاکہ پانی کی بچت کی جاسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ یہاں لگنے والی فیکٹریوں پر چیک رکھا جائے تاکہ وہ یہاں کا ماحول اور پانی آلودہ کرنے سے باز رہیں کیونکہ دنیا بھر میں امریکہ کے بعد چین دوسرا بڑا ملک ہے جو ماحولیاتی آلودگی پھیلا رہا ہے اور چینی کمپنیوں کی فیکٹریوں کے پاکستان میں آنے سے انہیں ماحولیاتی تقاضوں سے سختی سے مانیٹر کیا جائے۔ مینگوریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئرماہر ڈاکٹر عابدحمید ملغانی نے کہا کہ سی پیک ہمارے لئے ایک نعمت ہے اور ہمیں اپنی معیشت مضبوط کرنے کا بہترین موقع مل رہا ہے۔ ہم صرف ٹال پلازوں سے ہی سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں منصوبہ بندی بہتر کرناہوگی۔ ہمیں باغات کے علاقوں میں سڑکیں اور انفراسٹرکچر بہتر بنانا ہوں گے تاکہ ہم سی پیک کے ساتھ اپنی بنیادی ڈھانچے کا بھی موازنہ کرسکیں۔ ہمیں کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا۔ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے جہاںملک کے داخلی پوائنٹس سے سبزی و پھل کے ٹرک اور کنٹینر آئیں گے تو وہ اس دوران فصلوں کی نئی سنڈیاں اور کیڑے بھی لائیں گے۔ یہاں چینی کلچر آنے سے نیا پیسٹ بھی آئے گا۔ ہمیں چینی کلچر کے تناظر میں نئے پیسٹ کلچر سے بھی نبردآزما ہونا ہوگا۔ ہمیں کپاس کی فصل پر خاصی محنت کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری کپاس زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم اور ضروری عنصر ہے۔ ہمیں کپاس کی فصل اور باغات پر توجہ دیکر پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبے میں جہاں جہاں سڑکیں بن رہی ہیں ان کے ساتھ مقامی درخت اور جنگلات لگائے جائیں تاکہ ہمارا ”فانا فلورا“ محفوظ رہے اور ہم ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم منصوبہ بندی بہتر کرلیں تو دنیا بھر کو زرعی اجناس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں کھلا سکتے ہیں۔ چین ہر میدان میں ہمارا مقابلہ کرسکتاہے لیکن ہماری زراعت میں کوئی مقابل نہیں ہے۔ہمارے ملک میں بی ٹی کاٹن تو کاشت کر لی گئی ہے لیکن بی ٹی کو چیک کرنے کے لئے ایک بھی لیبارٹری نہیں ہے اور اب بی ٹی پر بھی خطرناک قسم کی سنڈیوں کا حملہ بڑھ گیا ہے جو بی ٹی پر حملہ آور نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بی ٹی کاٹن کی تمام اقسام مناسب ٹیسٹ کئے بغیر منظور کی جاتی ہیں۔ سی پیک منصوبے کے دوران ماحولیات کا خاص خیال رکھنا ہوگا تاکہ چین پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک میں صنعتیں منتقل کرتے وقت محتاط رہے۔ ترقی پسند مینگو گروور میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی نے کہا کہ حکومت ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آم کی ایکسپورٹ کرنے والوں کو ریلیف دے۔ انہوں نے کہا کہ مینگو پلٹ پلانٹ پر قبضہ مافیا کی اجارہ داری ختم کرائی جائے۔ سرکاری ایئرلائن پی آئی اے آم کی ایکسپورٹ کے لئے کرایوں میں کمی کرے اور حکومت نجی کمپنیوں کو بھی کرائے کم کرنے پر مجبور کرے۔ ناقص حکمت عملی اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے اور ہم اپنی پیداوار کا نصف بھی ایکسپورٹ نہیں کررہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے کہا کہ ڈالر کے چڑھاﺅ کی وجہ سے پیکنگ میٹریل بھی آئے روز مہنگا ہورہا ہے اور بھارت کے مقابلے میں ہمیں سبزی یا پھل ایکسپورٹ کرنے کے لئے ایک چوتھائی زیادہ اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح سی فریٹس پر حکومت کی مانیٹرنگ نہیں ہے، کمپنیاں اپنی من مانی کرتی ہیں اور جگہ جگہ بلیک میلنگ کرکے ہمیں لوٹتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت شپنگ لائن کے لئے پالیسی واضح کرکے اور کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرائے۔ اگر سبزی، پھلوں کی ایکسپورٹ زیادہ ہوئی تو کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کے صدر اعظم صابری نے ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے سبزیاں اور پھل ایکسپورٹ کرنے کے دوران ایکسپورٹرز کو پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک پھلوں کے ایکسپورٹرز کو ای (E)فارم جاری کرنے کے ساتھ رقم منگوانے کی مدت کا دورانیہ 90روز کرے۔ انہوں نے کہا کہ 30روز میں معاملات کلیئر نہیں ہو پاتے اور ایکسپورٹرز نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ملتان میں مینگوپلٹ پلانٹ کے معاملات میرٹ پر چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بحال کیا جائے۔ حکومت ایکسپورٹرز کو سبسڈی دے۔ محکمہ زرعی اطلاعات ملتان کے ترجمان نوید عصمت کاہلوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ملتان سمیت صوبہ بھر میں باغبانوں کی حوصلہ افزائی کےلئے جدید مشینری اور آلات سبسڈی پر فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے باغات میں ڈرپ اری گیشن کے لئے بھی سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے۔ ملک ظفر حسین مہے نے کہا کہ شہری آبادی کے بے ہنگم اضافے اور نئی رہائشی کالونیوں کی وجہ سے آم کا دارالخلافہ ملتان آم کے لحاظ سے اپنی پہچان کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کے تحقیقاتی ادارے کم رقبے میں زیادہ پودے لگانے کی اقسام تیار کریں اور روایتی اقسام کے ساتھ ایکسپورٹ کوالٹی کی اقسام تیار کی جائیں۔ راﺅ محمد عمران نے کہا کہ پانی کی کمی سنجیدہ مسئلہ ہے اسے حل کیا جائے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain