نواںکوٹ (عبدالشکور وٹو سے ) نماز عید الفطر کی ادائیگی کے وقت مقامی چوہدریوں کا انتظار نا کرنے پر عید گاہ میں جھگڑا ، چوہدریوں نے فائرنگ کر کے چار بچوں کے غریب باپ نو جوان کو دونوں ٹانگوں سے مفلوج کر دیا دو رہائیشوں کو بٹ مار مار کر شدید زخمی کرنے کے علاوہ مقامی عورتوں کوبھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کپڑے پھاڑ ڈالے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے پولیس تھانہ صدر فاروق آباد پولیس نے ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طور پربھاری ڈیل کر کے آزاد کر دیا ،وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرنا درکنار درخواست تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جبکہ علاقہ کے معززین مقامی رہائشی اور زیادتی کا شکار افراد سراپاءاحتجاج بنے ہوئے ہیں اس بات کا انقشاف تھانہ صدر فاروق آباد کے گاﺅں قلعہ کونیاں کے رہائشیوں شاہد پرویز ولد اقبال۔ شہزاد علی ولد محمد رمضان،آزاد علی ،بابا حفیظ سمیت سینکڑوں لوگوں جن میں خواتین،مرد، بچے بوڑھے شامل تھے نے فاروق آباد پولیس اور ملزمان کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے روز مسجد کی کمیٹی کے اعلان کے مطابق عید الفطر کی نماز صبح 7.30 بجے ادا کی جانی تھی جو لیٹ کر کے 7.35 پر مقامی عید گاہ میں ادا کی گئی مگر پھر بھی مقامی چوہدری عید کی نماز میں شامل نا ہو سکے اورنماز سے لیٹ ہو گئے لوگوں نے بتایا کہ امام مسجد نے 8.00 کے قریب دعا کی جب لوگ نماز عید اور دعا سے فارغ ہو کر عید گاہ سے باہر نکل رہے تھے کہ مقامی چوہدری واجد علی جو مسلح کلاشنکوف ، اعظم علی مسلح پسٹل 30 بور،سجاول حسین مسلح پمپ ایکشن جن کے ساتھ دو نا معلوم افراد بھی تھے دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر عید گاہ پہنچ گئے اور آتے ہی تمام نمازیوں کو گالی گلوچ کرنے لگے کہ گاﺅں والوں نے نمازعید کی ادائیگی کے لئے ان کا انتظار کیوں نہیں کیا اور گاﺅں کے بزرگوں ،اور غریب رہائیشوں کو تھپڑ مارنے لگے جس سے آصف علی ، محمدرمضان ، نذیر احمد اور دیگر مقامی رہائیشوں نے منع کیا جس پر ملزم اعظم نے سیدھے فائرمار نے شروع کر دیئے جس کی زد میں آکرنوجوان محمدآصف جو کہ چار معصوم بچوں کاباپ ہے اور محنت مزدوری کرکے گزر اوقا ت کرتا ہے شدید زخمی ہو گیا آصف کی دونوں ٹانگوں میں فائر لگے جن وہ دونوں ٹانگو ں سے مفلوج ہو گیا،ملزم واجد علی نے رہائشی رمضان کو بٹ مار مار کر شدید زخمی کر دیا جبکہ ملزم سجاول نے محنت کش نذیر احمد ولد غلام محمدکو پمپ ایکشن کے بٹ مارنے شروع کر دیئے جس سے نذیر بھی زخمی ہو گیا اس کے بعد تینوں ملزمان ہوائی فائرنگ کرنے لگے جس سے نمازیوں میں بے تحاشہ خوف و ہراس پھیل گیا عید گاہ میں ہر طرف بھگدڑ مچ گئی نمازیوں نے عید گاہ سے بھاگ کر دیواروں کی اوٹ میں اور فرش پر لیٹ کر جانیں بچائیں مظاہریں نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر گاﺅں کی عورتیں بھاگ کر عید گاہ پہنچیں جہاں ملزمان نے عورتوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا کپڑے پھاڑ ڈالے اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے خوف و ہراس اور طرف زخمی افراد کے ماحول میں ہیلپ لائن 15 پر کال کی گئی جس پر تھانہ صدر پولیس موقع پر پہنچی جنہوں نے ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا اور موٹر سائیکلیں بھی تحویل میں لے لی گئیں جب وقوعہ کی درخواست تھوڑی دیر بعد ایس ایچ او تھانہ صدر کو دی گئی تو انہوں نے مقدمہ کے اندراج میں لعت و لعل سے کام لینا شروع کر لیا درخواست تک وصول نا کی اور یہ کہا کہ درخواست سے عید گاہ کا وقوعہ نکال کر ذاتی لڑائی کی درخواست دو تو مقدمہ درج کر لیں گے ورنہ کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی مظاہرین نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد کے میڈیکل بھی موجود ہیں اور فائرنگ سے زخمی محمد آصف تا حال ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ ملزمان سرعام دھندناتے پھر رہے ہیں معززین علاقہ ۔مظاہرین مرد و خواتین نے نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او سردار غیاث گل سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دہشت گردی کے وقوعہ کا فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ملزمان کو فوری گرفتار کر کے تھانہ کی حوالات میں بند کیا جائے اس حوالہ سے ملزم محمداعظم نے موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمدآصف کواس نے فائرنہیں مارا ہے آصف کو لگنے والا فائر گاﺅں کے مقامی رہائشی سے لگا ہے البتہ لڑائی ضرور ہوئی ہے اعظم نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا لڑائی کے دوران اسلحہ مخالف گروپ کے افراد لے کر آئے تھے اور ان کے ہاتھ چلنے والی رائفل کا فائر ہیں آصف کو لگ گیا جس سے وہ مضروب ہو ا ہے۔






































