لاہور (سید شہزاد بخاری)ملکی امپورٹ میں اضافہ اور ایکسپورٹ میں کمی ہونے کے باعث ڈالر 3 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ، بیرون ممالک سے رزمبادلہ کی شرح میں کمی ،وصولیوں کا پاکستان میں نہ آنا اور پاکستان کو مختلف سیکٹر میں حاصل ہونے والے قرضوں کے باعث ڈالر122 روپے کی بلند ترےن سطح تک پہنچ گیا ، معاشی ماہرین نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں حکومت کی جانب سے خوردنی تیل ، ڈیزل، پیٹرول اور دیگر امپورٹ کی جانے والی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنا ڈالی ، ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث ذخیرہ اندوزں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ قیمتوں میں اضافہ سے محصوص سرمایہ کاروں کی ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ،ڈالر کی خفیہ خریدو فروخت اور حکومت کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ممکن ہوا ہے ڈالر کی قمیت بڑھنے کی وجہ سے ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہو گیاوفا قی وزےرکے متعلقہ اداروں کو مصنوعی طریقہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے اور غیر قانونی فروخت کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن جا ری رکھنے کی ہدایت کی ، تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہر طرف ڈالرز کی قیمتوںمیں کمی کا تذکرہ عروج پر ہے اسی طرح ملکی کرنسی جس کی قدر میں روز بروز کمی ہو رہی ہے اس کی وجوہات، اسباب اور ان کے سدباب کے حوالے سے محتلف معاشی ماہرین اورماہر سٹاک بروکرز اورملکی مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنے والی تاجر برادری کے علاوہ عوام نے بھی ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کو باعث تشویش قرار دیا ہے ۔ملکی ایکسپورٹ کی شرح کم ہونے اور کرنسیوں کے اتار چڑھاﺅ میں ذحیرہ اندوزوں کے غیر معمولی کردار ادا کرنے سے ملکی حالات میںمنفی تبدیلی رونما ہو رہی ہے ملک روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ حکو متی اداروں اور تاجربرادری کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں کا آپس میں باہمی اتفاق اور مشترکہ تعاون کا شدید فقدان ہے ملکی زرمبالہ کی شرح میں اضافہ ہونے کرنے کےلئے پاکستان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو برابرکرنا ہو گاڈالر کی قیمت کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ملک میں کرنسی ایکس چینج کے کاروبارکو خفیہ طریقے سے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ موجودہ نگران حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی روک تھام کے لئے کوئی قانون وضع نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ذخیرہ اندزوں کے حلاف کوئی منظم کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ڈالر کی سمگلنگ اور اس کے اتار چڑھاو¿ کرنے والے مافیا کی جانب سے اکثر اوقات کرنسی کے بڑھنے کی پیشن گوئی یا اس کا ریٹ بڑھانے کی غرض سے اس کو ذخیرہ کر لیتے ہیںاس کے علاوہ کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والوںسے کرنسی کی تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ کرنسی تبدیل ہونے والی رقوم کو حکومت کے پاس جمع بھی نہیں کرواتے ہیں منی ایکس چینجرز کی جانب سے ذیادہ منافع حاصل کرنے کی لالچ کی وجہ سے ڈالرز کی ذخیرہ اندوزی کے باعث حکومتی قرضوں کے بوجھ میں مزیداضافہ ، معاشی بدحالی ،مہنگائی اور بدامنی نے جنم لیتی ہے جن کے خلاف سخت ایکشن لینے کے علاوہ کڑی نگرانی کرنی کی ضرورت ہے ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تدارک کےلئے نگران وفاقی وزیر خزانہ کا متعلقہ اداروں کو مصنوعی طریقہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے اور غیر قانونی فروخت کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کرنے کی ہدایات جاری کر دیںتاکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام لایا جا سکے۔





































