تازہ تر ین

الیکشن کے بعد مضبوط حکومت ، فعال اپوزیشن دیکھ رہا ہوں : کنور دلشاد کا ” خبریں “ کو انٹرویو

اسلام آباد(سید انوار زیدی، تصاویر: فتح علی)نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کی آڑ میں عدلیہ اور افواج پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنایاپنجاب کے ووٹر پر اس کا گہرا اثر پڑے گا کیونکہ پنجاب کا ووٹر ہمیشہ سے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے خبریں کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا مودی ۔نواز دوستی کی وجہ سے نواز شریف کا ووٹ بینک دن بدن کم ہوتا جارہا ہے تمام سیاسی پارٹیاں نواز شریف کی انڈیا دوستی کو اجاگر کریں سیاسی مخالفت اور الزام تراشیوں کی سیاست سے پرہیز کریں انہوں نے کہا کہ الیکشن ۔2018 کے انتخابات کے بعد ملک میں ایک بہت مضبوط پارلیمنٹ بنتے دیکھ رہا ہوں اگر پاکستان تحریک انصاف سنگل اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے ایک بہت ہی متحرک اور فعال اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا خورشید شاہ والی فرینڈلی اپوزیشن نظر نہیں آئے گی ۔ 1977کے الیکشن کو شفاف کہنے والے جاہل ہیں کیا انہوں نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے حالات نہیں دیکھے 1977 مینوپلیڈیٹ الیکشن تھے جسے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نتائج حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو وزارت پارلیمانی امور سے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے الگ کرکے وزیر اعظم ہاﺅس کے ماتحت کردیا تھا جس کو بعدازاں اکتوبر 1977میں جنرل ضیا الحق نے دوبارہ وزارت پارلیمانی امور کی تحویل میں دیا اور آج تک ہے 1984میں جنرل ضیاالحق کا ریفرنڈم مکمل طور پر ایک بہت بڑا فراڈ تھا دس فی صد ووٹ کاسٹ ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور آر اوز کے ذریعہ نتائج حاصل کیے ۔1985کے انتخابات غیر جماعتی ہونے کی وجہ سے منصفانہ تھے 1988, 1990,1993,1997کے انتخابات کسی حد تک غیر جانبدار تھے البتہ 2002کے انتخابات غیر جانبدار ی کے ذمرے میں نہیں آتے ۔2008کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ صاف اور شفاف ہوئے جسے عالمی مبصرین نے بھی سراہا اور ’First world democracy,قرار دیا ۔2013کے الیکشن اس لیے متنازعہ ہوئے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین نے اپنی جوڈیشل اینڈ ایڈ منسٹریٹو وژڈم کو بروئے کار نہیں لائے فخر الدین جی ابراہم عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہے کنور دلشاد نے کہا کہ نگران حکومتوں پر ہماری گہری نظر ہے خاص طور پر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ پنجاب میںبیوروکریسی ان کے زیر اثر نہیں اور انتخابات کے عمل میں ان کی صیح طریقے سے معاونت نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ 15جولائی کے بعد نگران حکومتوں بارے ایک پریس کانفرنس میں آگاہ کریں گے کیونکہ نگران حکومتیں الیکشن کے معاملات میں جن لوگوں سے مشاورت کر رہی ہے ہم مطمعن نہیں ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے تمام بیورو کریسی۔وزرا ۔کابینہ اور سیاسی جماعتیں تحفظات رکھتی ہیں اس کے برعکس مرکزی نگران حکومت پر اعتماد ہے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر لملک غیر جانبدار ہیں ان کو انتخابات کی نگرانی کرنے کی بجائے صاف شفاف الیکشن کی یقین دہانی کرانی چاہیے اگر 25جولائی کے انتخابات متنازعہ ہو گئے تو نگران حکومت عوامی غیظ و غضب نہیں بچ سکے گی۔پولیس محکمے میں نچلے طبقہ تک تبدیلیوں بارے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر مناسب اقدام ہے اس سے پولیس کا تمام انتظامی ڈھانچہ ہل گیا ہے اگر تبدیلیاں کرنے بھی تھیں تو اعلی افسران کی کرنی تھیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی جواز یا امکان نہیں ایسا ہوا تو آئینی بحران پیدا ہوگا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain