ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت یہ قانون لاگو کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص اپنی گاڑی کے شیشوں پر کالے پیپروں نہیں لگوائے گا۔ حکومت کی طرف سے اس پابندی کو لگانے کا مقصد دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد کی طرف سے کالے پیپروں کی آڑ میں اپنی نقل وحرکت کو کنٹرول کرنا تھا مگر ملتان میں نوابزادوں اور صاحبزادوں کی کثیرتعداد نے نیشنل ایکشن پلان کے اس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی گاڑیوں پر سورج کی تپش سے بچنے کے بہانے کالے شیشے آویزاں کرلئے ہیں جبکہ ضلعی وٹریفک پولیس اپنے اندر بیٹھے روایتی خوف کی وجہ سے ان بااثر افراد کے لئے قانونی کارروائی نہیں کرتی۔ کیونکہ ان بااثر افراد کے خلاف اگر کوئی اہلکار کارروائی کرے تو اس کا فوری ٹرانسفر کردیا جاتا ہے۔ شہر بھر میں کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ ایکشن نہ لینے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد بھی اپنی گاڑیوں پر کالے شیشے لگواکر دندناتے پھرتے ہیں جس کی وجہ سے کرائم کی وارداتوں میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ملتان ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق ہم نے گزشتہ 2ماہ میں 1400ایسی گاڑیوں کا چالان کیا ہے جن پر کالے پیپر نصب تھے اور فی گاڑی 500روپے جرمانہ کرکے مجموعی طور پر ان سے جرمانے کی مد میں 7لاکھ روپے ریونیو حاصل کیا گیا ہے۔





































