لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عدالت کے پاس ثبوت ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تھی تو حسب معمول نیب جس طرح مجھے لٹکا دیتا ہے اس کے بجائے ان کو اگلے چند روز بتانا چاہئے کہ قمر الاسلام نے کیا کیا ہے۔ اور ثبوت پیش کرنے چاہئے کہ انہوں نے کیا غلط کیا ہے ورنہ سمجھا جائے گا کہ چونکہ وہ چودھری نثار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے اس لئے ان کے مقابلے کے بندے کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا کوئی اچھا تاثر نہیں جاتا۔ لہٰذا اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ نیب کے چیئرمین اس پر فوری کارروائی کا حکم دیں اور روزانہ سماعت کر کے 6,5 دن میں کلیئر ہو جائے کہ انہوں نے کیا کیا تھا اگر لٹکایا گیا کہ الیکشن کے دوران وہ جیل میں رہیں گے تو ان کو سیاسی اثرورسوخ ملے گا۔ کہا جاتا ہے کہ بندہ جیل میں ہو تو کچھ ہمدردی کے ووٹ مل جاتے ہیں۔ آج کے انگریزی اخبار میں اس کا تذکرہ ہے اور پلڈ اٹ کے نام سے این جی او ہے اور ظاہر ہے کہ جو غیر ملکی ادارے ان کو فنڈنگ کرتے ہوں گے وہ فی سبیل اللہ کرتے ہوں گے تاہم پلڈاٹ کے سربراہ اس کا جواب دینا چاہیں تو ہم حاضر ہیں۔ کون جمہوریت کی نشوونما کے لئے ان پر پیسے خرچ کرتا ہے لیکن پلڈ اٹ ایک انگریزی اخبار جو پرو انڈیا خبریں چھاپنے کے سلسلے میں بی بی سی۔ ان تینوں اداروں کا اشتراک سامنے آیا ہے اور انہوں نے 4 پوائنٹ پر یہ تجزیے، تبصرے اور محتلف قسم کے جائزے دینا شروع کئے ہیں پچھلے 4,3 دنوں سے کہ نوازشریف اور مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری جا رہا ہے اور یہ جیت جائے گی۔ وہ چار پوائنٹس کیا ہیں۔ نمبر1 مجھے کیوں نکالا؟ اور بی بی سی کے خاص طور پر تبصروں کا یہ نوازشریف کی بڑی زبردست اپروچ ہے۔ انہوں نے مجھے کیوں نکالا پر پاکستانی عوام کو قائل کر لیا ہے کہ ان کو غلط نکالا گیا۔ نمبر2 جو کلثوم نواز کی بیماری بھی ان چار فیکٹرز میں سے ایک فیکٹر بتایا گیا کہ ہمدردی کے ووٹ ان کو مل جائیں گے۔ اب تو ماشاءاللہ ان کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے یہ سروے کہہ رہا ہے کہ اس سے مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تیسری چیز مریم نواز پر یہاں کتنی تنقید ہو رہی ہے مگر برطانوی نشریاتی ادارے اور بعض باہر سے دیئے جانے والے تبصرے یہ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز نے میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے ووٹ کو عزت دو والی کمپین چلائی ہے اس سے لوگوں میں حوصلہ پیدا ہو گیا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے نوازشریف کو ووٹ دیا تھا تو یہ 10.5 جج کون ہوتے ہیں ان کو حکومت سے نکالنے والے۔ چوتھا پوائنٹ ہے جس پر مختلف تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ ملک سے باہر اور اندر بھی۔ آخری جو ہے کہا جا رہا ہے لوگ کہتے ہیں اس کو ٹھیک ہے جی ایک عرف عام میں کہ کچھ پیسے کھائے بھی ہوں گے لیکن ڈویلپمنٹ بڑی کی ہے سڑکیں بہت پل بہت بنائے ہیں۔ میں ایک دو دن میں پروگرام میں تفصیلات دوں گا کہ حکمران سڑکیں کیوں بناتے ہیں اور سڑکوں میں پرافٹ مارجن ہوتا ہے اور باہر سے لا کر مٹی ڈالنی ہوتی ہے کتنی سو فیصد کاسٹ بڑھتی ہے اس کو آپس میں کس اوسط سے تقسیم کیا جاتا ہے اور سب سے بڑی بات ہے کہ جو پچھلے ایک سال پہلے بنی تھیں اور اب ان کی اتنی بری حالت ہے کہ جگہ جگہ سے بیٹھی ہوئی ہے کہتے ہیں جو مٹی ڈالی گئی تھی باہر سے لا کر 300 فیصد اضافہ شدہ ریٹ پر وہ ٹھیک نہیں تھی۔ سڑکیں اور مرمت کا کام واحد ہے جس میں عام طور پر حکمران جلد کام ختم کرنا چاہتے تھے وہ نہر کے پلوں، انڈر گراﺅنڈ پل ہوں ان کا حساب کتاب نیب والوں کو چاہئے وہ اس طرف بھی توجہ فرمائیں کہ جلدی کام کے لئے کتنے سو فیصد اضافہ کیا جاتا ہے ٹھیکیدار کے لئے اس میں کتنے پرسنٹ خود کمایا جاتا ہے یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم نے ڈیرھ ماہ میں اتنا بڑا کام مکمل کر لیا اور ہمارے نیک دل حکمران راتوں کو جا کر موقع پر جو چیک کرتے ہیں۔ کمیشن ہے اس لئے یہ سب کرتے ہیں۔ اگر 6 مہینے یا سال میں 100 روپے لگتے ہیں تو اس کو 6 ہزار کیسے بنایا جاتا ہے اس میں بندر بانٹ کیسے کی جاتی ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ کنسٹرکشن میں مالی فائدہ ہے۔ ضیا شاہد نے کہا سب سے پہلی شکایت ہے اس پر ہمیشہ بحث ہوتی ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا نے آزادی حاصل کی تھی برطانیہ سے متحدہ عرب امارات سے تو یہ معاہدہ موجود ہے اگر یہ معاہدہ موجود نہیں ہے تو اس ملک سے نہیں جس کو ہم ولایت کہتے تھے۔ بچے انگلینڈ پڑھنے جاتے تھے۔ سوئی تک انگلینڈ سے امپورٹ ہوتی تھی ہر قسم کی تجارت، کاروبار ان سے ہوتا تھا ایک زمانے میں ہم ان کی کالونی تھے۔ گزشتہ 30 سال سے یہ بک بک جھک جھک سن رہا ہوں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے اگر الطاف حسین بارے بات کرتا ہے تو کہتے ہیں ہمارا معاہدہ نہیں ہے۔ ہر معاہدہ کس خوشی میں پاکستان کے نالائق حکمرانوں نے اور اس کے سفیروں نے 70 سال میں یہ برطانیہ سے یہ معاہدہ نہیں کر سکے کہ ہمارا مجرم بھاگ کر تمہارے پاس چلا جائے گا تو واپس آ سکے گا جیسے تمہارا کوئی مجرم ہے تو واپس آ سکے۔ نہ ہم الطاف کا کیا بگاڑ سکے، حسن اور حسین کے بارے میں جب تک عدالت فیصلہ نہ کر دے میرے دوست نوازشریف کے بارے میں جب تک کوئی عدالت فیصلہ نہ کر دکے میں نہیں سمجھتا وہ مجرم ہیں ملزم ضرور ہیں۔ برطانیہ 70 سال قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں کر سکے کہ بے ایمانوں کو مجرموں کو اپنے پاس رکھے بیٹھے ہیں۔ ہم یہاں سے لوٹ مار کر برطانیہ پہنچانے والوں کو کچھ نہیں کر سکتے۔ 70 سال ہی ہمارے حکمران برطانیہ سے مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں کر سکے۔ الطاف کتنے پیسے یہاں سے لوٹ کر لے گیا، مصطفی کمال نائن زیرو پر ٹیلی فون آپریٹر تھے اور یہ جو ڈاکٹر صاحب جو لیڈر آف اپوزیشن ہیں ماضی کھنگالیں کیا تھے آج ان کی پراپرٹیاں یہاں کتنی ہیں دبئی میں کتنی ہیں۔ ایک لیڈر ان کا جو ناراض ہو گیا میں ان کی پریس کانفرنس میں کراچی میں شریک تھا۔ اس کی ناراضگی یہ تھی کہ دبئی میں جو پراپرٹی خریدی گئی تھی ان کو کہا گیا اس میں آپ بھی ایک گھر ہے جب بانی تحریک نے اس بندر بانٹ میں انکار کر دیا گیا۔ پرویز مشرف کی کتنی پراپرٹی ہے شرجیل میمن کے گھر کی مالیت کتنی ہے دنیا میں سب سے زیادہ حرام کی پراپرٹی بے نامی خریدی جاتی ہے اور کمپنیوں کے نام پر خریدی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی بات میں وزن ہے کہ کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ پھر فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہمیں اجتماعی خود کشی کرنی ہے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے 7 سال تک لاہور ہائیکورٹ میںکیس لڑتا رہا، اب سپریم کورٹ میں رٹ پینڈنگ ہے۔ شہباز شریف کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اتفاق رائے سے بننا چاہئے۔ اگر نہیں بنانا تو پھر کیا بنانا ہے؟ کیا بھوکے، پیاسے مرنا ہے۔ سندھ پانی سے لبا لب بھرا ہوا ہے لیکن پانی روکنے کا کوئی انتظام نہیں وہ سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ دریائے سوت و کابل کا پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ اسے روکنے کا کوئی نظام موجود نہیں تاریخ دیکھیں تو جب منگلا و تربیلا ڈیم بنے تھے تو تربیلا سے پہلے کالا باغ ڈیم بننا تھا، یہ واحد آپشن ہے جو زیادہ سے زیادہ کا پروجیکٹ ہے، چوتھے سال کے آخر میں بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی، بھاشا ڈیم 10 سے 12 سال کا پروجیکٹ ہے، 12 سال سے سن رہا ہوں کہ بھاشا ڈیم بنانا چاہئے، مشرف نے افتتاحی تختی بھی لگا دی تھی لیکن آج تک وہاں ایک سڑک بھی نہیں بنی آخر کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ تربیلا ڈیم کی عمر 50 سال تھی، اندازہ لگا لیں اسے بنے کتنا وقت ہو گیا ہے۔ کالا باغ ڈیم واحد آپشن ہے جس کے دونوں اطراف اونچی دیواریں ہیں، دریا بہتے ہیں یہ قدرتی ڈیم ہو گا۔ میں نے اپنی رٹ میں کالا باغ ڈیم کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں بھیجنے کی استدعا کی ہے۔ اس کا ڈیزائن 5 دفعہ تبدیل ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ثالثی کروں گا، خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں کسی ثالثی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پنجابی لیڈر بزدل ہیں ان میں ہمت نہیں کہ لوگوں کو بٹھا کر بات کریں۔ انڈیا نے 3 ہزار،6 سو ڈیم بنا لئے ہم تیسرے پر رُکے ہوئے ہیں۔ انڈیا نے ہمارا پانی بند کیا ہوا ہے اس کے خلاف رٹ کی ہوئی ہے کہ وہ دریائے ستلاج و راوی کا پانی سارا سال نہیں روک سکتا، اس کو ماحولیات کے نام پر 18 سے 20 فیصد سارا سال چھوڑنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈیم کے گرد باﺅنڈ ایریا ہوتا ہے، سیلابی ریلا آئے تو ڈیم کے اردگرد قدرتی جھیلیں بن جاتی ہیں۔ حاصل پور، پنجند میں نوازشریف نے باﺅنڈ ایریا فروخت کر دیا جو لندن فلیٹس سے بھی کہیں زیادہ بڑا جرم ہے۔ شہباز شریف صاحب آپ سندھیوں کو کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا کہہ کر جتنا مرضی خوش کر لیں، سندھی آپ کو ووٹ نہیں دے گا۔ کراچی سے شاید جیت جائیں لیکن اندرون سندھ میں کوئی سیٹ نہیں ملے گی۔





































