شیخوپورہ (بیوروپورٹ)ضلع شیخوپورہ کے 4قومی اورصوبائی اسمبلی کے 9حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کو ٹکٹوں کی تقسیم پر جہاں کارکنوں کیناراضگی کا سامنا ہے وہاں ان میں شدید اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو موذوں اور مضبوط امیدواروں کی تلاش میںمشکلات در پیش ہیں اور وہ تاحال اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کرسکی ملی مسلم لیگ تحریک لبیک اور ایم ایم اے نے بھی بعض حلقوں میں اپنے امیدوار نامزد کردیئے ہیں جبکہ تمام حلقوں میں یہ جماعتیں بھی اپنے امیدوار نامزد نہیں کرسکیں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مشکلات کا شکار ہیں اور ٹکٹوں سے محروم رہنے والے کئی امیدوار یا تو آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں تو کئی ایک نے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے مخالف سیاسی جماعت کے امیدوار وں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میںپی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں میں بالترتیب رانا افضال حسین، رانا تنویر حسین، میاںجاوید لطیف، سردار عرفان ڈوگر، بریگیڈیر راحت امان ، علی اصغر منڈا، چوہدری محمد سعید ورک اور رانا علی سلمان شامل ہیں قومی اسمبلی کے ان حلقوںمیں پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے حتمی فیصلہ کے بعد ان جماعتوں سے وبستہ کسی امیدوار نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کیا تاہم صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں دونوں جماعتوں کے درجنوں امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے جس کے باعث قومی اسمبلی کے امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے این اے 121 کے صوبائی حلقہ پی پی 140میں سٹی صد ر طیاب راشد سندھو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آذاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں انہیں مسلم لیگ (ن) کے بعض کونسلرز عہدیداران و کارکنوں کی کھلی حمایت حاصل ہے اور وہ پارٹی کے نامزد امیدوار میاںجاوید لطیف کی بھی کھلم کھلا مخالفت کررہے ہیں جبکہ سابق رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد نواز ٹکٹ نہ ملنے کے بعد سیاسی گٹھ جوڑ میں مصروف ہیں اور انکی طرف سے بھی آذاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان متوقع ہے، پی پی 142میں بھی سردار واصف ڈوگر آذاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور اسی حلقہ سے پی ٹی آئی کے رانا اسد اللہ خاں ذوالقرنین ڈوگر نے بھی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے پی پی 141میں سابق تحصیل ناظم محمود الحق کو (ن) لیگ کا ٹکٹ ملنے پر مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے رانا تنویر حسین آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور وہ نامزد امیدوار سردار عرفان ڈوگر کے خلاف پیش پیش ہیں، پی پی 143میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی مشکلات کا شکار ہے یہاں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ چوہدری سجاد حیدر گجر کو الاٹ ہونے کے بعد مسلم لیگ کے چوہدری محمد سلیم گورائیہ سردار باقر ڈوگر جبکہ پی ٹی آئی کے سردار سرفراز احمد ڈوگر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، پی پی 139میں سابق ایم پی اے چوہدری فیضان خالد ورک کی بجائے میاں جلیل شرقپوری کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ملنے پر چوہدری فیضان خالد ورک بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر سوچ بچار کررہے ہیںجبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین یونین کونسل حاجی محمد افضل ورک بھی پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے ناراض ہیں اور وہ بھی اس حلقہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ حلقہ پی پی 135میںپی ٹی آئی کے امیدوار رانا اعجاز حسین نے ٹکٹ نہ ملنے پر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی اور پی پی 138کے امیدوار رانا عباس علی خاں بھی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں اور ان سے (ن)لیگ رابطے میں ہے ،پی پی 136 سے بھی پی ٹی آئی کے نظریاتی رہنما میاں خالد جاوید نے بھی (ن) لیگ کے چوہدری خرم اعجاز چٹھہ کو ٹکٹ ملنے اس حلقہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔






































