تازہ تر ین

گروپنگ مریم کیخلاف سازش ،قیادت خاموش کیوں

لاہور (خبر نگار) لاہور کے کئی حلقوں میں مسلم لیگ ن کے رہنماو¿ں اور کارکنان میں اختلافات تاحال برقرار ہیں، پی ٹی آئی کی طرح ن لیگ بھی یوٹرن پارٹی بن گئی کئی حلقوں میں ٹکٹوں میں ردوبدل حلقہ 127میں مریم نواز اور پی پی 161میں ایک دفعہ پھر تبدیلی شبیر کھوکھر سے فیصل سیف کھوکھر کو ٹکٹ مل گیا پھر بھی اختالافات باقی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن میں اختلافات اتنے شدید ہیں کہ ن قیادت اور حمزہ شہباز نے بھی ان اختلافات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پارٹی اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو شدید پریشانی اور مشکل کا سامنا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ ن ابھی اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ طور پر آغاز نہیں کر سکی۔مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی ذمہ داری حمزہ شہباز کو سونپی گئی تھی مگر تاحال حمزہ شہباز ان اختلافات کو ختم نہیں کر سکے بلکہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ہیں۔دوسری جانب لندن میں مقیم قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے این اے 125 میں بھی ن لیگ کے گروپوں میں اختلافات کو مریم نواز کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مقامی قیادت نے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ اختلافات ابھی تک ختم کیوں نہیں کروائے گئے؟ اس ضمن میں قائد مسلم لیگ ن نوازشریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے۔این اے 125کے حلقے پر ن لیگ آخری وقت میں یو ٹرن لے لیا ہے اس حلقے سے مریم نواز کا اعلان ہوا لیکن حلقے کی عوام اور پاڑٹی اختلاف کی وجہ سے مریم نواز شریف کو 127حلقہ دے دیا گیا ہے جبکہ ملک پرویز کو این اے 125کا حلقہ دے دیا گیا ہے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حلقہ ملک پرویز کے لئے مزید مشکلات پید کرے گا اس سے پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کا راستہ ہمورا ہوگیا ہے پی پی 161 سے فیصل سیف کھوکھر کو ٹکٹ نہ ملنے پر افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر بھی ن لیگی قیادت سے سخت نالاں تھے پارٹی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر تے ہوئے فیصل سیف کو دوبارہ ٹکٹ دے دیا ہے ۔پی پی 147میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کے مقابلے میں ن لیگ کے ہی سابق ڈپٹی مئیر اصغر بٹ کے بطور آ زاد ا±میدوار کھڑا ہونے اور دیگرکئی حلقوں میں بھی ن لیگ کے ورکرز کی طرف سے ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر شدید احتجاج کے باعث مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حلقہ این اے 123میں غزالی سلیم بٹ اور ملک ریاض کے اختلافات کی وجہ سے ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور پارٹی کے سینئیر رہنما حمزہ شہباز شریف کی جانب سے دونوں میں صلح کروانے کے باجود کارکن ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔حمزہ شہباز شریف کے حلقے میں صوبائی سیٹ پر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کے مقابلے میں ن لیگ کے ہی سابقہ ڈپٹی مئیر اصغر بٹ آ زاد حیثیت سے کھڑے ہوگئے اور ن لیگ کا ایک بڑا دھڑا ان کے ساتھ ہے۔ سہیل شوکت بٹ کو ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے حمایتیوں نے شیخ روحیل اصغر کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain