تازہ تر ین

این اے 128لیگی روحیل اصغر کھلاڑی اعجاز ڈیال،جیالے ظفر علی آمنے سامنے

لاہور(رپورٹ: عمران جاوید بٹ/عکاسی: سجاد مغل)صوبائی دارالحکومت کے حلقہVI این اے 128میں روحیل اصغر اور چوھدری اعجازاحمد ڈیال کی جانب سے انتخابی مہم کے آغاز کے بعد حلقہ کی گہما گہمی اپنے عروج پر پہنچ گئی ،مسلم لیگ ”ن“ کے شیر اپنے امیدوار کو بھاری اکثریت سے جتوانے کےلئے میدان میں آ گئے ہیں ،تحریک انصاف کے جنونی اپنے امیدوار کو جتوانے کےلئے بھر انداز کوشیش کر رہے ہیں ،پیپلزپارٹی کے جیالے اپنے سید ظفر علی شاہ کو جیتوانے کے لیے پر امیددکھائی دے رہے ہیں، ماضی میں اس حلقے سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار روحیل اصغر ایک لاکھ 19 ہزار ووٹ کر لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ 2002 میں اس حلقہ سے پی پی پی کے چودھری اعتزاز احسن کامیاب ہوئے تھے، 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ولید اقبال نے 42 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے مگر اس مرتبہ چودھری اعجاز احمد ڈیال اس حلقہ سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں، حلقہ این اے 128میںمتحدہ مجلس عمل کے چوھدری منظور حسین گجر بھی بھرپورسے انداز میں میدان اترے ہیں۔ ن لیگ کے امیدوار ایک مرتبہ پھر اس حلقے سے میدان مارنے کےلئے تیاری کر رہے ہیںجبکہ انکو سہیل شوکت بٹ کو اپنی انتخابی مہم میں ساتھ ملانا ہو گا ۔نئی حلقہ بندیوں سے قبل یہ لاہور VI حلقہ این اے 124 ہوا کرتا تھا، (ن) لیگی ورکرز میں ااس حلقے تضاد پایا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سے اس حلقہ سے سہیل شوکت بٹ کو ٹکٹ کانہ ملنا ہے ، این اے 128میں کل ووٹرز کی تعداد3 لاکھ 45 ہزار 7 سو63 ہے جس می 1 لاکھ 97 ہزار 2 سو64 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 48 ہزار 4 سو 99 خواتین ووٹرز کی تعداد ہے۔ موجودہ حلقے میں پولنگ اسٹیشن کی کل تعداد 248 ہے جن میں 153 مشترکہ 47 مردوں اور 48 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں ۔اس کے علاوہ 914 پولنگ بوتھ ہیں جن میں مردوں کےلئے 484 اور خواتین کےلئے 430 بنائے گئے ہیں ۔ حلقہ این اے128جو کہ پہلے این اے 124سے جانا جاتا تھا نئی حلقہ بندیوں کے بعد تبدیل ہو گیا ہے ۔ تحریک انصاف نے چودھری اعجاز ڈیال بطور امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ ”ن“ نے روحیل اصغر کا اس حلقے سے بطورامیدوار انتخاب کیا گیا ہے اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سید ظفر علی شاہ کی ٹکٹ دی گئی اور متحد مجلس عمل کی جانب سے چوھدری منظور حسین بھی امیدوار ہیں ۔ یہاں سے پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر ولید اقبال بھی خواہشمند تھے اور پاکستان مسلم لیگ ”ن“ کے سابق ایم این اے سہیل شوکت بٹ بھی امیدوار تھے جنکو ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے انکے کارکنوں نے احتجاج بھی کیا تھا مگر پی ٹی آئی کی جانب سے اعجاز ڈیال اور ”ن“ لیگ کی جانب سے روحیل اصغر ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس حلقہ میں روحیل اصغر کا انتخابات میں حصہ لینے سے مسلم لیگ (ن) کامضبوط حلقہ قرار دیا جاتا تھا مگر سہیل شوکت بٹ کو ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے کارکنوں نے روحیل اصغر کی سپورٹ کرنے اور ووٹ ڈالنے صاف انکار کیا تھا جس کی وجہ سے انکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ اس حلقہ میں بھی جہاں مسلم لیگ ن نے لاہور بھر میں مختلف ترقیاتی کام کروائے ہیں اسی طرح اس حلقے میں بھی ترقیاتی کام سامنے آئے ہیں۔یہاں سے مسلم لیگ (ن) کو ہراانا بہت مشکل ہو گا لیکن پی ٹی آئی اس مرتبہ پر امید ہے کہ وہ (ن) لیگ کو لاہور مین ٹف ٹائم دے گی۔عام انتخابات کی آمد آمد کے باعث صوبائی دارلحکومت لاہور میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے گہما گہمی اپنے عروج پرکارکنوں کی جانب سے امیدواروںسے گلے شکوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز خبریں کی ٹیم نے انتخابی مہم کا جائزہ لینے کےلئے حلقہ این اے 128 لاہور VIکا سروے کیا ۔ رپورٹ کے مطابق حلقہ ”ن“ لیگ کے روحیل اصغر اور تحریک انصاف کے اعجاز احمد ڈیال میں کانٹے دار مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے تاہم دونوں راہنماو¿ںکی جیت کے حوالے سے ملے جلے رجحان کا اظہار کیاگیا ہے ۔شہریوںعرفان باجوہ ، حسن علی ، احمد خان ، صوفی اسلم اور عبداللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ میں روحیل اصفر کی جانب سے کثیر تعداد میں ترقیاتی کام کروائے گئے ہیں ، سیوریج کی لائنیں ، نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب ، واٹر فلٹریشن پلانٹس ،روڈز کے علاوہ علاقہ جات کی گلیاں بھی تعمیر کروا دی گئی ہیں جسکی وجہ سے یہاں کی عوام ان کو ووٹ دیگی ۔شہری ہمایوں علی ، شعیب احمد ، الیاس اور مکرم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ میں کارکنان سہیل شوکت بٹ کو خوش آمدید کرنے کےلئے تیار تھے مگر پارٹی نے عین موقع پر روحیل اصغر کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا جسکی وجہ سے بیشتر پارٹی کارکن تارض دکھائی دے رہے ہیں اگر ”ن“ لیگ نے معاملات طے نہ کئے تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ شہریوںرو¿ف خان ، جبران اور زبیر آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کےلئے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے2002 میں اس حلقہ سے چودھری اعتزاز احسن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ہم سید ظفر علی شاہ کو بھر پور سپورٹ کرنے کےلئے جیالوں کو متحرک کیا ہے پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک یہاں سب سے زیادہ ہے ۔ سلیم شاہ ، نواز اعوان ، معظم اور وسیم احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر طرف تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اس لئے موجودہ حلقہ سے اعجاز احمد ڈیال بھاری اکریت سے کامیاب ہو گا بدقسمتی سے ہمارے سابقہ حکمرانوں نے عوام کو سہولیات فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ۔ ہماری ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں حلقہ کی عوام میں اکثریت تحریک انصاف اور مسلم لیگ ”ن“ کو سپورٹ کر رہی ہیں ہم امید کرتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز احمد ڈیال اور روحیل اصفر میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔مسلم لیگ (ن) کا لاہور کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ اورنج ٹرین بھی اسی حلقہ میں ہے اور اس حلقہ کی بہت سی آبادیاں جیسے داروغہ والہ ، لال پل ، فتح گڑھ ، گلشن یسین ، تیز گڑھ ، بستی موڑ ، مناواں ،رحمت ٹاو¿ن ، سلامت پورہ ، رنگ روڈ سے ملحقہ آبادیاں سمیت دیگر آبادیوں کے لوگوں کے لئے اورنج ٹرین ‘ نئی سڑکوں کے جال ‘ لڑکیوں کے لئے سکول و کالجز کی تعمیر کے بعد (ن) لیگ نے بہت سے منصوبے مکمل کروانے کے باوجود بھی موجودہ حلقہ میں گندگی کے ڈھیر ڈھیر دکھائی دے رہے ہیں جبکہ گائے ، بھینسوں کو باہر نکالنے کے باوجود بھی یہاں پر موجود ہیں جس کی وجہ سے یقینی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے اس حلقہ میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں نظر آئے گا ۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain