لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اللہ کلثوم نواز کو صحت عطا فرمائے جہاں نواز شریف کی فیملی کا تعلق ہے پتہ نہیں انہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ سچ نہیں بولنا۔ میں نے اپنے پروگرام میں پرویز رشید سے بھی کہا تھا کہ ایک بندہ ہمیشہ ایسے موقعوں پر ترجمان مقرر کر دیا جاتا ہے کہ اخبارات ان سے جو بھی سوال کرنا چاہیں کر سکیں۔ لندن سے ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ ایسا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا اور وہ اپنے پسند کے میڈیا والوں کو کچھ بتا دیتے ہیں۔ اب نواز شریف صاحب نے 5 بجے لندن کے وقت کے مطابق باہر نکلتے ہیں۔ اب چونکہ ان کو خبریں پہنچ گئی ہیں کہ ان کا فیصلہ محفوظ ہو گیا اور 6 تاریخ کو سنایا جائے گا اور یہ بحث شروع ہو گئی کہ وہ فیصلہ سنانے کیلئے نواز شریف اور مریم نواز کی موجودگی ضروری ہے شاید آدھ پونے گھنٹے میں ہمارے اس پروگرام کے دوران ہی بتائیں گے کہ کلثوم نواز کی کیا پوزیشن ہے کیا وہ خود یا مریم 6 تاریخ کو آئیں گے یا نہیں آئیں گے۔ عدالت کسی بھی دن فیصلہ کر سکتی ہے یہ اس کی مرضی ہے کہ اس نے جمعہ والا دن مقرر کر دیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ منی ٹریل ان سے مانگی تھی 70,80 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ وہ کوئی مناسب منی ٹریل نہیں دے سکے۔ فیصلہ ان کے خلاف ہی متوقع ہے لیکن عدالتوں کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا۔ میرا خیال ہے کہ اس فیصلے سے بھی زیادہ بڑا واقعہ لاہور میں کل 119 ملی میٹر کی جو بارش ہوئی ہے اس سے جناب لاہور کی تباہی ہوئی ہے جس طرح صبح سے سوشل میڈیا بھی چینلز بھی دکھا رہے ہیں کہ ایک گڑھے میں تو بے اندازہ پانی نیچے جا رہا ہے اس طرح سے ہمارے دوست شہباز شریف کیلئے مشکل دن ہے۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا صبح سے آج یہاں عمران خان آئے۔ ظاہر ہے انہوں نے آنا ہی تھا ظاہر ہے ان کا موقع تھا برا بھلا کہیں۔ میں نے ان کے الفاظ سنے نہیں میں ویسے بھی بتا سکتا ہوں۔ انہوں نے یہی کہنا تھا کہ یہ پیرس بنایا اور یہ کرپشن کی وجہ سے ہوا لیکن یہ دونوں باتیں صبح سے کم وبیش ہر بندہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ 5 سال پرویز الٰہی اور 10 سال شہباز شریف رہے ہیں لیکن 15 سال میں جو بری حالت نظم ونسق کی ہے اور ایک دن میں جس برے طریقے سے سرکاری کارکردگی کی قلعی کھلی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہر دھڑے بندے کی زبان پر یہی ہے کہ واقعی کرپشن کی انتہا ہو گئی ہے۔ میں تو اپنے پروگراموں میں شہباز شریف کے کاموں کی تعریفیں کرتا رہا ہوں۔ میں نے تو ان کو بھاگ دوڑ ہی کرتے دیکھا تھا۔ میں نے اندر گھس کر تو نہیں دیکھا تھا کہ ہر کام لیپا پوتی سے ہو رہا ہے۔ پچھلے دو تین مہینے سے جس کو پکڑا جائے وہ پانی کے کارخانے ہوں۔ لاہور کے ترقیاتی کاموں میں ہر چیز میں مشکلات نکل رہی ہیں لیکن میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ بھاگ دوڑ کافی کرتے تھے۔ ایک زمانے میں مشہور تھا کہ میاں شریف کے تین بیٹے نواز شریف، شہباز شریف اور عباس شریف تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ایک چوتھے بھائی بھی ہیں ان کے جو ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ چودھری عبدالغفور کو میں اس زمانے کے ا یک پرجوش سٹوڈنٹ لیڈر کے حساب سے دیکھتا ہوں اور بہت ہی ڈی ووٹڈ تھے۔ غفور صاحب کو دیکھ کر مجھے ایک مصرعہ یاد آ رہا ہے بڑی دیر کی مہربان آتے آتے میں زیادہ سمجھدار تھا میں جلدی ان کے گلے سے نگل گیا تھا۔تحریک نجات، ریلی، جلسے، جلوس میں آگ ہر جگہ آگے آگے ہوتے تھے اب کیا ہوا۔ چودھری عبدالفغور نے کہا ہے کہ ضیا شاہد صاحب نے ہمیں اس وقت سپورٹ کیا جب ایک مشکل وقت تھا تحریک نجات کے وقت پر کچھ لوگوں کی فطرت میں بے وفائی ہوتی ہے کچھ لوگوں کی عادت وفا کرنا ہوتی ہے ہم نے وفا کی ہے اور مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ ضیا شاہد صاحب نے جو شریف خاندان کے ساتھ جو وفا کی بطور ایک بڑے صحافی دانشور ہونے کے ناطے ضیا شاہد نواز شریف کو پرائم منسٹر ہاﺅس میں لے جانے میں ان کا بہت بڑا رول ہے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ان سے بھی وفا نہیں کی۔ یہ ایک بار ماڈل ٹاﺅن تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اپنی مرضی کا بندہ ہوں میں وہ کچھ نہیں کر سکتا جو آپ چاہتے ہیں نواز شریف نے کہا کہ باہر لوگ کافی ہیں آپ پچھلے دروازے سے چلے جائیں ضیا شاہد نے کہا کہ نواز شریف صاحب میں سامنے والے دروازے سے آیا ہوں اور سامنے والے دروازے سے ہی واپس جاﺅں گا۔ میں بیک ڈورسے جانے والا نہیں ہوں۔ انہوں نے ان سے پوری وفا نبھائی لیکن پتہ نہیں ہم وفا کرتے رہے وہ جفا کرتے رہے اپنا اپنا فرض تھا دونوں ادا کرتے رہے۔ بعد نے مسلم لیگ کیلئے اپنے اور اپنے خاندان کی عزت کا خیال کیا۔ نہ ان کی عزت کا خیال کیا۔ میں میو خاندان سے ہوں۔ میو خاندان کی اس ملک کے لیے قربانیاں ہیں۔ میرا خاندان راجستھان سے ہجرت کر کے آیا میرے والد کے بھائی، بہن سارا خاندان پاکستان کیلئے شہید ہوئے۔ میں نے نواز شریف کے ساتھ کام کیا میں سمجھتا تھا کہ ملک کو بحران سے نکال کر آگے جائیں گے مگر بدقسمتی سے 28 سال اس کوشش میں رہا کہ یار اسرار ایک بھرم بنا ہوا وہ نہ ٹوٹے میرے خون کے اندر وفا ہے وہ ختم نہ ہو ان کی جلاوطنی کے دور میں الحمدللہ پرویز مشرف کے امیدوار کو ہرا کر جیت گیا تھا۔ مجھے بھی کہ وزیر بن جاﺅ پانچ سال یہ حکومت چلے گی جب یہ آ جائیں گے تو آپ اور ان کے ساتھ مل جانا۔ میں نے پیشکش نہیں مانی۔ پرویز مشرف دور میں مسلم لیگ کے تمام پروگرام میرے فارم پر ہوتے تھے میں کراتا تھا جس نے کروڑوں روپے مسم لیگ پر لگائے شہباز شریف کی لائیو تقریر تھی۔ وہ پاکستان میں جلن وطن کے دنوں میں نے کرائی پر پتہ نہیں ان کی دوستیاں کہاں کہاں تھیں لیکن ایک بات سمجھ آتی ہے کہ انسان کے قاتل سے پہلے احسان کے قاتل کو بھانی چڑھنا دینا چاہیے۔جب پاکستان کی بربادی ہوئی جب سے آقا کی شان میں گستاخیاں شروع ہوئیں جب ممتاز قادری کو پھانسی چڑھایاگیا جب ماڈل ٹاﺅن میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیاں ماری گئیں جب خواتین کو شہید کیا گیا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ مذاق اڑا رہے ہیں شہباز شریف دعوے کرتے تھے کہ لاہور کو پیرس بنا دیا پچھے دنوں کراچی گئے تو وہاں بھی کہا کہ اگر کراچی ہمارے پاس آ گیا تو اسے بھی پیرس بنا دیں گے۔ چودھری غفور صاحب آپ نے تو ان کے سسٹم کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کی ورکنگ کو دیکھا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا ان سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے یا حواریوں کے انتخاب میں کوئی غلطی کر جاتے ہیں کہ یہ کرپٹ لوگ اکٹھے کر لیتے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح سے الزام لگا دیا جاتا ہے خواہ وہ ان مقدمات میں سماعت میں ہوں جن کا فیصلہ اب دو دن دن کے بعد آنے والا ہے کیا یہ خود کرپشن کا شکار ہیں یا یہ معصوم لوگ ہیں اپنے گرد کرپٹ لوگ جمع کر لیتے ہیں اندر کی کہانی کیا ہے آپ کا کیا تجزیہ ہے۔
چودھری عبدالغفور نے کہا کہ میں آن ریکارڈ کہہ رہا ہوں کہ جب میں منسٹر تھا آخری دنوں میں سردار ذوالفقار علی کھوسہ صاحب کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے انہوں نے بڑھاپے میں ان لوگوں کا ساتھ دیا لیکن جس تذلیل سے ان کو انہوں نے رکھا بہر حال کھوسہ صاحب کو سب وزیروں نے کہا کہ یہ چیف منسٹر سے بات کرنا چاہتے ہیں ہماری کچھ شکایات ہیں ہم کچھ بتانا چاہتے ہیں سی ایم صاحب کو انہوں نے درخواست کی۔ شہباز شریف نے H-180 پر یہ سب منسٹرز بیٹھے تھے۔ سردار کھوسہ صاحب نے کہا کہ یہ چودھری غفور بات کرنا چاہتے ہیں مجھے چیف منسٹر نے کہا کہ بتاﺅ کیا بات ہے۔ میں نے کہا کہ جب جمہوریت ہوتی ہے تو جمہوری حکومت میں جمہوری قوتوں کا اپر ہینڈ ہوتا ہے بدقسمتی سے اس وقت بیورو کریسی چھائی ہوتی ہے ان کا طرز حکمران جمہوری نہیں تھا بیور کریسی چھائی رہی۔ جونیئر لوگوں کو جو ان کے ڈنڈے کے آگے ناچتے تھے بات کرنے کو تیار نہ تھے ان کو ڈپٹی کمشنر، کمشنر لگایا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کم لوگوں کا خیال ہے کہ شاید میں بھی سمجھتا ہوں کہ وہ بڑی بھاگ دور کرتے ہیں بہت کرتے لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جس طرح عمران خان تک یہ کہتے رہے ہیں کہ جناب شہباز شریف خود بھی کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی بندوں کو سلیکٹ کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔
چودھری عبدالفغور نے مزید کہا کہ ا گر چیف ایگزیکٹو غلط لوگوں کی بڑے عہدوں پر لا کر لاکھوں روپے تنخواہیں دیتا رہا تو ایک بارش سے وہ بے نقاب ہو گئے۔ لاہور میں گزشتہ روز کی بارش سے سڑکوں پر لگایا گیا اربوں روپیہ غرق ہو گیا سب کے سب کرپشن میں ملوث ہیں۔ جونیئر لوگوں کو بڑے عہدوں پر بٹھایا جائے تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ شہباز شریف کو کاہنہ کاچھا سے ووٹ نہیں ملیں گے وہاں اکثریت میو برادری کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ ڈوبے ہوئے لاہور میں نکلتے اور عمران خان کا سامنا کرتے اس لیے نہیں آئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لوگوں نے پکڑ کر اسی پانی میں پھینکنا ہے۔ لوگوں کی نفرت سے گھبرائے ہوئے ہیں میں جانتا ہوں کہ بہت پہلے پارٹی چھوڑ دینی چاہیے تھی لیکن اس وقت وہ اس طرح سے بے نقاب نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے بھائی کی ٹکٹ لینے کیلئے جاتی امراءجانے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملکی خدمت میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے وزیر ہونا ضروری نہیں۔ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے دو قومی نظریے پر یقین رکھنے والے دوستوں کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ تحریک انصاف سے مجھے آفر ہوئی تھی مجھے کہا گیا تھا کہ این اے 136 سے انکا امیدوار بنوں لیکن مجھے یہ سب نہیں چاہیے۔ ایم پی اے، ایم این اے ہونا اب گالی بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ رکھنے والوں نے خود ووٹ کا تقدس پامال کیا۔ ن لیگ کی کوئی ”تحریک عدل“ نہیں چلے گی۔ جماعت ختم ہو چکی اگر کارکن ان کے ساتھ ہوتے تو جب نواز شریف جے آئی میں پیش ہوتے تھے تو وہاں لاکھوں ان کے ساتھ ہوتے شاید آج یہ نوبت بھی نہ آتی۔ جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو کوئی ایک بندہ بھی سڑک پر نہیں نکلا تھا۔ پنڈی تا لاہور ریل کو کچھ نہیں سمجھتا وہ ہماری بے عزتی تھی۔ چشم دید گواہ ہوں کہ پنڈی میں کتنے لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا فون آیا تھا مجھے کہا کہ میں تمہارے گھر آنا چاہتا ہوں وہ تشریف لائیں گے۔ وہ لیڈر ہیں انہوں نے کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کر کے چھوڑا ہے۔ بدترین دشمن بھی عمران خان کو کرپٹ نہیں کہہ سکتا۔ وہ ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔قانون دان خالد رانجھا نے کہا ہے کہ نواز شریف دیگر ملزمان کو پیش نہ ہونے سے فیصلہ معطل نہیں ہو سکتا۔ فیصلہ سنانا پڑے گا توقع کی جا رہی ہے کہ ملزمان پیش ہونگے۔بیورو چیف چینل فائیو لندن وجاہت خان نے کہا ہے کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف فیصلہ سنائے جانے تک پاکستان نہیں جائیں گے۔ عام خیال ہے کہ فیصلے میں سزا ہو جائے گی پھر وہ فیصلہ کرینگے کہ پاکستان کب اور کس نے جانا ہے۔ ہو سکتا ہے نواز شریف خود اتوار کو وطن واپس آ جائیں کیونکہ اگر مریم نواز کو بھیجا تو لوگ کہیں گے کہ بیٹی کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف 2-3 بار کہہ چکے ہیں کہ کلثوم نواز کی صحت اب پہلے سے بہتر ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ خطرے سے باہر نہیں۔





































