لاہور( احسان نازسے )نگران وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے کہا کہ ہمارا کام پر امن انتخابات میں الیکشن کمیشن کی مدد کرنا ہے ، 2108 کے الیکشن میں کسی کو ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کےلئے اسلحہ لہرانے کی اجازت نہیں ہو گی جو خلاف ورزی کرے گا قانون اپنا راستہ اپنائے گا ، مریم نواز قو می لیڈر ہیں انکو لارج سکیل کی سکیورٹی دینا ہماری ذمہ داری ہے ۔ نواز شریف کو 6جولائی کوسزا ہوئی تو ” ن “ لیگ کے مشتعل کارکنوں اور راہنماو¿ں کوسیدھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، عمران خان ، آصف علی زرداری اور بلاول زرداری بھی قومی لیڈرز ہیں لیکن حمزہ شہباز کو حکومت سکیورٹی کیوں فراہم کرے ہر امیدوار الیکشن کے دوران 2 پرائیویٹ باڈی گارڈز اور گن مین رکھ سکتا ہے وہ گزشتہ روز روزنامہ ”خبریں“ کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے ، انھوں نے کہا کہ عوام میں آر پی او ملتان ابوبکر خدا بخش کے خلاف کوئی شدید رد عمل نہیں ۔کسی بھی غیر مسلم سرکاری افسر کی کسی جگہ تعیناتی سرکار کی مرضی ہے ، ابوبکر خدابخش آر پی او شیخوپورہ تعینات ہوتے تو ان کے خلاف احتجاج کا پتہ چلتا ، پاکستان میں تو 2 غیر مسلم چیف جسٹس رہے ہیں غیر مسلموں کوپاکستان میں جینے کا حق ہے اس لئے آر پی او ابوبکر خدا بخش کو ملتان میں تعینات رہنے دیا جائے گا ۔ ہمارے پاس انکے میں بارے میں کوئی شکایت نہیں ۔ وہ شیخوپورہ اور خوشاب میں بھی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں شوکت جاوید نے کہا کہ الیکشن والے دن بیلٹ پیپر کھولنے سے لیکر واپس ریٹرنگ افسر تک پہچانے تک فوج کی ذمہ داری ہے پریذائیڈنگ آفیسر فوجی جوانوں کے سامنے رزلٹ کی کیمرہ سے تصویر کھینچ کر رزلٹ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو دیں گے اوراسی طرح رزلٹ ریٹرنگ افسر تک جائے گا ۔ نمائندہ خبریں کے اس سوال پر کہ آئی ایس آئی ، آئی بی اور ایم آئی والوں پر مسلم لیگ ”ن“ کے امیدواروں کا الزام ہے کہ وہ ہمیں ڈرادھمکا کر وفاداریاں تبدیل کروا رہے ہیں شوکت جاوید نے کہا ہمارے پاس کوئی ایسا سائل نہیں آیا جس نے بتایا ہو بلکہ اب تو پارٹیوں کے امیدواروں کو نشانات مل گئے ہیں اور وہ اپنا الیکشن لڑ رہے ہیں ۔انھوں نے کہا ایسا ممکن نہیں ۔ ان سے پوچھا گیا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کو6 جولائی کو نیب کی طرف سے سزا ہونے کی ہوتی تو لیگی کارکنوں کے اشتعال کا علاج کیا کریں گے۔ انھو ں نے کہا ہمیں تو ایسا علم نہیں ہے اگر ایسا موقع آیا تو نگران حکومت کے پاس انتظامات مکمل ہیں کہ وہ مسلم لیگ ”ن“ کے راہنماو¿ں اور کارکنوں کو قانون اور آئین سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔





































