تازہ تر ین

این اے 131 ۔۔۔ عمران خان ،خواجہ سعد رفیق میں کانٹے دار مقابلہ

لاہور (رپورٹ: عمران جاوید بٹ/عکاسی: سجاد مغل)صوبائی دارالحکومت کے حلقہXI این اے 131میںخواجہ سعد رفیق اور عمران خان کے درمیان کانٹے دار مقابلہ تصور کیا جانے لگا ، خواجہ سعد رفیق اپنے صوبائی امیدواروں کے ہمراہ یوسی چیئرمینز کی زیر نگرانی انتخابی مہم چلا رہے ہیں جبکہ عبدالعلیم خان ، ولید اقبال ، پی ٹی آئی خواتین ونگ کی عہدیداران چوھدری سرور اوردیگر مرکزی قائدین کی جانب سے عمران خان کی انتخابی مہم کے بعد حلقہ این اے 131 گہما گہمی اپنے عروج پر پہنچ گئی ،مسلم لیگ ”ن“ کے شیر اپنے امیدوارکو جتوانے کےلئے میدان میں جبکہ تحریک انصاف کے کھلاڑیوں نے لالک جان چوک ، ڈیفنس چوک اور والٹن کے قریب اپنے انتخابی دفاتر قائم کر کے اپنی کوشیشوں کا آغاز کر دیا ہے ،پیپلزپارٹی کے جیالے اپنے عاصم محمود بھٹی کی حمایت میں بھر انداز میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔2013 میں اس حلقے سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار خواجہ سعد رفیق ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے انکے مد مقابل پی ٹی آئی کے حامد خان نے 85 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے مگر اس مرتبہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، حلقہ این اے 128میںمتحدہ مجلس عمل کے چوھدری منظور حسین گجر بھی بھرپورسے انداز میں میدان اترے ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں سے قبل یہ حلقہ این اے 125 ہوا کرتا تھا، این اے 131میں کل ووٹرزکی تعداد 3 لاکھ 64 ہزار 2 سو13 ہے جس می 1 لاکھ 98 ہزار 6 سو99 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 65 ہزار 5 سو 14 خواتین ووٹرز کی تعداد ہے۔ موجودہ حلقے میں پولنگ اسٹیشن کی کل تعداد 242 ہے جن میں 224 مشترکہ 9 مردوں اور 9 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں ۔اس کے علاوہ 691 پولنگ بوتھ ہیں جن میں مردوں کےلئے 395 اور خواتین کےلئے 296 بنائے گئے ہیں ۔ حلقہ این اے 131 جو کہ پہلے این اے 125سے جانا جاتا تھا نئی حلقہ بندیوں کے بعد تبدیل ہو گیا ہے ۔ تحریک انصاف چیئرمین عمران بطور امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ ”ن“ کے خواجہ سعد رفیق ایک مرتبہ پھر اس حلقے سے قسمت آزمائی کر رہے ہیںاس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے عاصم محمود بھٹی کو ٹکٹ دی گئی 2013 میں محمد نوید چودھری اس حلقہ سے امیدوار تھے موجودہ حلقہ میں تحریک لبیک یا رسول اللہ ، متحدہ مجلس عمل کے علاوہ درجن کے قریب امیدوار انتخابات میں حصہ میں لے رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے سابقہ ٹکٹ ہولڈر ولید اقبال این اے 129 سے خواہشمند تھے جوکہ ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہو گئے تھے جنہیں عمران خان نے جیتنے کے بعد اس حلقہ سے ضمنی الیکشن لڑوانے کی یقین دہانی کروا کر منا لیا گیا ہے جو اس حلقہ کی بھر پور انتخابی مہم چلا رہے ہیں حلقہ این اے 131 میں عمران خان کے بطور امیدوار کی وجہ سے اس حلقہ کو میڈیا کی توجہ میسر ہو سکے گی جبکہ موجودہ حلقہ میں روشن خیال طبقہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ماضی میں بھی حامد خان کی جانب سے اس حلقہ میں دھاندلی کے الزامات لگے تھے جنہیں بعدازاں عدالت میں لیجایا گیا تھا ۔یہاں سے پی ٹی آئی کو ہرانا بہت مشکل ہو گا لیکن اس مرتبہ پر مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق ایک مرتبہ امید سے ہیں۔ عام انتخابات کی آمد آمد کے باعث صوبائی دارلحکومت لاہور میں سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں الیکشن کا بخارچڑا ہوا ہے ۔ کارکنوں کی جانب سے کہیں ڈھول بجائے جا رہے ہیںاور بعض مقامات پر پارٹی ترانے سنائے جا رہے ہیں ماضی کے الیکشن کے مقابلے میں اس مرتبہ زیادہ جوش و جذبہ دکھائی دے رہا ہے ۔ گزشتہ روز خبریں کی ٹیم نے حلقہ این اے 131 لاہور XIکا سروے کیاتو حلقہ کی عوام نے بھر انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ۔ رپورٹ کے مطابق حلقہ دونوں راہنماو¿ں میں کانٹے دار مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے تاہم دونوں راہنماو¿ںکی جیت کے حوالے سے ملے جلے رجحان کا اظہار کرتے ہوئے قریبی مارجن کا تصور کیاگیا ہے ۔شہری ہمایوں علی ، یاسر محمود اور فیصل اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ میں کارکنان عمران کو خوش آمدید کرنے کےلئے تیار بیٹھے ہیں اس مرتبہ مسلم لیگ ”ن“ کے امیدواروں کو دھاندلی نہیں کرنے دی جائے گی کھلاڑیوں نے تمام معاملات کےلئے پریکٹس کی ہوئی ہے ہمارے کارکن کی ڈیوٹیاں پہلے سے طے کر لی گئی ہیں جیت پی ٹی آئی کا مقدر بنے گی ۔شہریوںاحسن مسعود ، عدنان جاوید ، ضمیر احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ میں وفاقی وزیر ہونے کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق نے بہت سے ترقیاتی کام کروائے گئے ہیں ،میں روڈز کو کارپٹیڈ کیا گیا ہے ، نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب ، واٹر فلٹریشن پلانٹس ،روڈز کے علاوہ علاقہ جات کی گلیاں بھی تعمیر کروا دی گئی ہیں جسکی وجہ سے یہاں کی عوام ان کو ووٹ دیگی اس کے علاوہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی میں فلیکس نہ لگانے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں مگر ایک پارٹی کے امیدوار کی جانب سے بھر فلیکسز لگائی گئی ہے ۔ شہریوںآصف علی ، احمد بلال ، ندیم شہزاد ار کاشف شہزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس حلقہ سے جیالوں کو بھر انداز میں متحرک کیا ہے اور عاصم محمود بھٹی کو بھر پورحمایت مل رہی ہے ۔پی پی پی بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کےلئے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے ۔شہری شاھد حسن ، قاسم ڈار ، محمود علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر طرف تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اس لئے موجودہ حلقہ سے قائد تحریک انصاف بھاری اکریت سے کامیاب ہوں گے ۔ بدقسمتی سے ہمارے سابقہ حکمرانوں نے عوام کو سہولیات فراہمی کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے پر ہی سارا زور دیا ہے ۔ حلقہ کی عوام میں اکثریت تحریک انصاف اور مسلم لیگ ”ن“ کو سپورٹ کر رہی ہیں دونوں امیدوار بڑے سیاستدان ہونے کی وجہ سے اس حلقہ میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain