لاہور(عمران جاوید بٹ سے )عام انتخابات 2018 کو 21 دن رہ گئے تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے مﺅثر انداز میں انتخابی مہم کا آغاز نہ کیا جا سکا ، معمولی نوعیت کی انتخابی مہم کو بھی بارشوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، صوبائی دارلحکومت میں پارٹی سربراہان اور سینئر راہنماو¿ں کی عدم دلچسپی اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے لاہور میں پاور شو نہیں کیا گیا ، نواز شریف کی لندن میں مصروفیت جبکہ شہباز شریف نے کراچی کے بعد دیگر اضلاع کے دورے کرنے کو ترجیح دی ، چیئرمین عمران خان کی جانب پارٹیوں کے عہدیداروں کی شمولیت کے علاوہ کوئی خاطر جلسہ یا تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا ،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے لاہور میں انتخابی مہم کےلئے تاحال کوئی پلان ترتیب نہیں دیا گیا ، امیدوار صوبائی و قومی اسمبلی اپنی مدد آپ کے تحت اور یونین کونسلز کے چیئرمین کا سہارا لیکر انتخابی مہم چلانے میں مصروف عمل ہیں ، ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کروانے کےلئے امیدواروں کی جانب سے من پسند سائز کی لگائی جانیوالی فلیکسز کو بھی اتارا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صوبائی دارلحکومت کی مین شاہراہوں میں امیدواروں کے فلیکس اور پوسٹر چیدہ چیدہ مقامات پر نظر آ رہے ہیں ، عام انتخابات میںحکمرانوں سے مایوس بھی کارکن بھر انداز میں اپنے امیدواروں کی انتخابی چلانے سے گریزاں ہیں جس کے باعث لاہور میں ہونیوالے عام انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں ، عمومی طور پر صرف این اے 131میں خواجہ سعد رفیق اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی انتخابی مہم میں عوام کی توجہ بھر پور انداز میں دکھائی دے رہی ہے اس کے برعکس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کہیں نظر نہیں آ رہے جبکہ حلقہ این اے 127 میں مریم نواز کی انتخابی مہم صرف دعائیہ تقریب تک محدود رہی ہے اس کے علاوہ این اے 124 میں حمزہ شہباز کی جانب سے کوئی سرگرمیاں دکھائی نہیں دے رہی ہیں ، حلقہ این اے 133میں سابق وزیر تجارت پرویز ملک کی تاخیر سے نامزدگی کے باعث حلقہ میں لیگیوں کی جانب سے کوئی جوش و خروش دیکھنے میں نظر نہیں آیا ، افضل کھوکھر کی درخواست پر میاں شہباز شریف نے محدود وقت کےلئے مانگا منڈی چوک میں رک کر کارکنوں میں خطاب کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی اس کے علاوہ حلقہ این اے 132 میں میاں شہباز شریف دو دن قبل آئے تھے تین مضافات کا دورہ کرنے کے بعد روانہ ہو گئے ،اسی طرح دیگر حلقوں میں بھی انتخابی مہم کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پروگرام ترتیب نہیں دیئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے عام انتخابات 2018 کی انتخابی سرگرمیاں ماند پڑ تی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔





































