لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کالا باغ کے حوالے سے جب طے ہوا کہ سندھ اور کے پی کے اس ڈیم کے خلاف ہیں 14,13 برس سے یہ بحث شروع تھی کہ کالا باغ ڈیم کی بجائے بھاشا ڈیم بنایا جائے جس پرکسی کو کوئی اعتراض یا اختلاف نہیں لیکن بھاشا ڈیم کی جو جگہ ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ متنازعہ جگہ تھی کیونکہ بھارت کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا علاقہ ہے جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا علاقہ ہے لہٰذا ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے بھی، ورلڈ بینک نے پس و پیش کا اظہار کیا شاید وہ اس کی فنڈنگ کے لئے شاید کوئی رقم فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 8 سال پرویز مشرف، 5 سال آصف زرداری، 5 سال نوازشریف کی حکومت رہی اور یہ منصوبہ اتنے برسوں سے ملتوی ہوا رہا اگر ہم اس وقت شروع کر دیتے تو کہا جاتا ہے کہ 12 سال میں مکمل ہو سکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ نے صحیح فیصلہ کیا کہ اگر کالا باغ ڈیم نہیں بنتا تو اس منصوبے کو شروع کیا جائے۔ بھاشا ڈیم بہت بڑا ڈیم ہے اور یہ پاکستان میں سندھ کے اوپر واقع ہے سندھ میں سب سے زیادہ پانی پاکستان کے دریاﺅں سے آتا ہے اگر ہم اس کو محفوظ کر لیں تو یہ سارے پاکستان کی ضروریات کے لئے کافی ہے میں سمجھتا ہو ںکہ خود چاہتا ہوں کہ ہمارے گروپ کے اخبارات اور چینل ۵ کے ذریعے یہ ایک کمپین چلانا چاہتے ہیں ہم صرف چاہتے ہیں کہ جو طریقہ کار چیف جسٹس صاحب وضع کریں کس بینک میں اکاﺅنٹ جمع کرائیں جو اکاﺅنٹ دیا جائے لوگ اس میں پیسے جمع کرائیں میں خود اس کے لئے تیار ہوں کہ اپنے تمام اخبارات اور چینل ۵ اور سندھی اخبار کی مدد سے لوگوں کی توجہ دلائیں گے کہ وہ فول پروف سسٹم میں پیسے جمع کرا سکیں اور ہمارے پاس اتنے فنڈز ہوں کہ ہم کسی غیر ملکی ادارے یا غیر ملکی یا بینک یا ورلڈ بینک کی مدد کے بغیر اپنے وسائل کی بنیاد پر ڈیم بنائیں۔ ڈیم پاکستان کی آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔ ضیا شاہد نے پی ٹی آئی کے منشور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہ اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کی منشور 3 ماہ سے پہلے آ جانے چاہئیں۔ اب مسلم لیگ ن کا بھی سیاسی منشور آ چکا ہے۔ ان سے گزارش کروں گا کہ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے اعتراضات ختم کریں۔ سیاسی لیڈروں کو عدالت ہوتی ہے تو دکھ ہوتی ہے۔ نوازشریف کیس کے دوران میں نے کہا کہ جب تک سزائیں ہو جاتی ہیں انہیں ملزم کہتا ہوں مجرم نہیں کہتا۔ اچھا نہیں لگتا کہ ہمارے لیڈروں پر الزام لگیں۔ اختر رسول ایک دن صبح سویرے میں نے اخبار میں پڑھا کہ مسلم لیگ ن کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی سے الگ کر دیا۔ نیچے نام لکھا تھا اختر رسول۔ اختر رسول کو میں نے بلایا انہوں نے کہا کہ میرے والد کے دوست تھے میں آپ کا بھتیجا ہوں۔ آپ تصور کر سکتا ہوں لاہور کا صدر ہونے کی حیثیت سے کیسے آپ کو ورکنگ کمیٹی سے کیسے نکال سکتا ہوں۔ اختر رسول کو جب تک استعمال کر سکتے تھے استعمال کر لیا۔ اسی بندے سے سپریم کورٹ پر حملے بھی کروائے۔ نااہل بھی کروایا۔ اور ہاکی فیڈریشن کی سربراہی سے کان سے پکڑ کر نکلوا دیا۔ اختر رسول سے لے کر میاں منیر تک شہباز شریف کے کہنے پر حملہ کروایا گیا۔ طارق عزیز کی بھی چھٹی بھی کروا دی۔ میاں منیر کو نااہل کروا دیا۔ اگر وہ پھر ضبح ہونا چاہتے ہیں تو مجھے کیا اعتراض کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں تو اور زیادہ آج خود بھی سٹڈی کروں گا اور میں خود چاہتا ہوں کہ روزنامہ خبریں، چینل ۵ ہمارا سندھی اخبار خبرون اور ہمارا ایوننگ کا نیا اخبار، چار ہمارے پاس اخبارات ہیں اور ایک چینل ہے اور ہم اس کے ذریعے ایک کمپین چلانا چاہتے ہیں ہم کوئی پیسے جمع کرنا نہیں چاہتے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو طریقہ کار جناب چیف جسٹس صاحب وضع کریں کہ اس بینک میں، مثال کے طور پر نیشنل بینک یا عسکری بیک، اس اکاﺅنٹس میں لوگ پیسے جمع کروائیں۔ میں خود اس کے لئے تیار ہوں۔ میں اپنے تمام اخبارات اور چینل اور شام کے اخبار اور سندھی اخبار کی مدد سے اس کے لئے لوگوں کی توجہ دلاﺅں کہ وہ اس فنڈ میں پیسے جمع کروائیں جو فول پروف ہوں جس کو کوئی غلط استعمال نہ کر سکے تا کہ ہمارے پاس اتنے فنڈز ہونے چاہئیں کہ کسی عیر ملکی ادارے، غیر ملکی بینک یا کسی ورلڈ بینک یا کسی ایشین بینک کی مدد کے بغیر اپنے وسائل کی بنیاد پر یہ ڈیم بنا سکیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اللہ کے کرم سے اتنا پوٹینشل ہے اور لوگ دل سے جانتے ہیں کہ ہمیں برائے ڈیم کی کتنی ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے مستقبل کی نسلوں کی بقاءکا سوال ہے، ان کی زندگی کا سوال ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب ملک کر اگر اپنے اپنے طور پر کوشش کریں، ہم ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ ہم اس فنڈز کی کنکشن میں کوئی بددیانتی ہونے دیں یا اس میں کوئی گول مال ہونے دیں۔ ہم تو یہ چاہیں گے کہ جناب یہ بینک ہے، یہ اس کا اکاﺅنٹ نمبر ہے۔برائے راست جناب اس میں پیسے جمع کروائیں۔ انتخابات سے قبل سیاسی موسم میں پارٹیوں کے منشور وعدوں اور عمران خان کے پارٹی منشور آسانی سے لاگو کر دینے کے یہاں پر ضیا شاہد نے کہا کہ اصولی طور پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اپنے منشور عام طور پر الیکشن سے کم از کم 3 ماہ پہلے سامنے آ جانے چاہئیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں چونکہ منشور کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور عام طور پر سلوگن ازم جس کو کہتے ہیں نعرہ بازی، اس کی بنیاد پر الیکشن لڑا جانا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اچھی بات ہے کہ آج سے چند روز پہلے جو پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنا منشور دیا اور اس سے بھی پہلے عمران خان صاحب نے 11 نکات کے نام سے ایک سیاسی پروگرام دیا تھا کہ اگر ہماری پارٹی کامیاب ہوئی ہے تو ان گیارہ نکات پر کام کرے گی اور آج انہوں نے ایک باقاعدہ منشور بھی جاری کر دیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب مسلم لیگ ن کا بھی سیاسی منشور دو روز پہلے آ چکا ہے۔ تمام اخبارات کو چاہئے میں تو کم از کم کوشش کر رہا ہوں، میں نے آج ہی سے تحریک انصاف کے منشور کو قسط وار چھاپنا شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے میں نے پیپلزپارٹی کے منشور کو قسط وار چھاپنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کو قسط وار چھاپوں گا۔ ہمارا فرض ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک ایک لفظ لوگوں کے سامنے لائیں تا کہ لوگ از خود جج کر سکیں۔ دیکھئے جمہوریت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اے پارٹی کو پسند کرتا ہوں تو بس میں اے پارٹی کو ووٹ دوں۔ بی کو کرتا ہوں تو بی کو ووٹ دوں، سی کو کرتا ہوں تو سی کو ووٹ دوں۔ جمہوریت کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام پیش کریں اور پھر عوام ان پروگراموں کو بغور مطالعہ کر کے فیصلہ کریں کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں کون سی پارٹی ایسا پروگرام لے کر آئی ہے، جس کا پروگرام پاکستان کے موجودہ مسائل کے نقطہ نظر سے بہتر طرز عمل اور بہتر نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ علیم خان اوار مونس الٰہی کو آفشور کمپنیو ںکے حوالے سے نیب کی جانب سے طلب کئے جانے کے حوالے سے سوال پر ضیا شاہد نے کہا کہ میں افراد پر نہیں جاتا، عام طور پر نیب یا عدالتوں کو پورا حق حاصل ہے، وہ جسے چاہیں طلب کر لیں۔ لیکن ضروری نہیں ہوتا کہ جس کو طلب کیا گیا وہ قصور وار ہی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے پوچھ گچھ ہو اور بعد میں اسے چھوڑ دیا جائے کہ اس پر الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ لہٰذا میں کبھی افراد پر نہیں جاتا۔ آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایس سی ایل میں ڈالے جانے اور آصف علی زرداری کی جانب سے اہم متوقع اعلانات پر چیف ایڈیٹر خبریں گروپ کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے لیڈروں کی بڑی عزت کرتا ہوں۔ میں نوازشریف صاحب کی بھی عزت کرتا ہوں۔ حالانکہ مجھے ان سے بہت سارے احتلافات بھی ہیں۔ لیکن میں عمران خان کی بھی عزت کرتا ہوں۔ میں ابھی کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ زرداری صاحب کی طرف ہو کر آﺅں میں اور امتنان صاحب پہلے بھی ایک دفعہ گئے تھے ان کے پاس کھانے پر۔ آدمی سیکھتا ہے۔ مجھے کوئی کام نہیں ہے ان سے۔ اللہ شاہد ہے مجھے کچھ نہیں لینا ان سے۔ لیکن ایک پارٹی کا سربراہ ہے ملک میں، اس سے جب آپ بات چیت کرتے ہیں، اس سے مختلف ایشوز پر ڈسکس کرتے ہیں تو آپ کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ تو میں اس نقطہ نظر سے ہمیشہ اہمیت دیتا ہوں۔ لیکن دیکھئے ان سب لوگوں کے بارے میں میری تو یہ خواہش ہے، میری دل سے یہ تمنا ہے کہ اللہ کرے ہمارے ملک کے لیڈر حضرات جو ہیں، اگر ان پر چھوٹے موٹے اس قسم کے چارجز ہوتے بھی ہیں۔ اگر میں ملنے جاﺅں گا زرداری صاحب سے، عمران خان صاحب سے، نوازشریف صاحب سے، شہباز شریف صاحب سے، سراج الحق صاحب سے اور مولانا فضل الرحمن سے، آپ یقین جانئے میں تو ان سے یہ گزارش کروں گا کہ جناب آپ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے جو اعتراضات ہیں ان کو صاف کریں۔ یہ میرے ملک کے لیڈر ہیں بھائی۔ یہ آسٹریلیا کے لیڈر نہیں ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میرے ملک کا جو لیڈر ہے اس کی ہیبت ہو، اس کا وقار ہو، اس کی ایک عزت ہو میں جب اس قسم کی باتیں سنتا ہوں کہ فلاں کو فلاں کام کے لئے بلا لیا۔ اللہ کی قسم مجھے خوشی نہیں ہوتی، مجھے دکھ ہوتا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ کیوں ایسا ہے۔ ہمارے ہاں ہر دوسرا بندہ اس پر الزامات کیوں ہیں۔ میری تو خواہش ہے ان سب پر الزامات نہ ہوں۔ آپ کو پتا ہے کہ نوازشریف صاحب کے کیس کے دوران کئی مرتبہ، فوٹیج نکال کر دیکھ لیں، میں نے یہ کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا، جب تک ان کی سزا کا اعلان نہ ہو جائے میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجرم ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ کہا وہ ملزم ہیں اور جب تک ان کی سزا سامنے آ جائے۔ اب میری خواہش یہ ہے کہ ان کے خلاف جو سزا ہوئی ہے۔ خدا کرے ایسی کوئی شکل ہو کہ وہ کسی ایسی عدالت میں جائیں۔ جس میں ان کی سزا ختم ہو سکے۔ میری تو خواہش ہے کہ پاکستان کے، میرے لیڈر دیانتدار ہوں، سارے الزامات سے پاک ہوں، ان کی ایک حیثیت ہو، ان کا احترام ہو۔ ہاں ان سے سیاست میں اختلاف ہو سکتا ہے کہ جناب آپ صوبے کے بارے میں یہ کہتے ہیں، میں یہ کہتا ہوں۔ آپ اٹھارھویں ترمیم کے بارے میں یہ کہتے ہیں اور میں یہ کہتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں صوبے کے پاس ہونے چاہئیں، میں میں کہتا ہوں نہیں وفاق کے پاس اختیار ہونا چاہئیں۔ لیکن میں تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے ملک کے سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہوں اور ہر وقت پوری مشینری ان کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑی رہے کہ انہوں نے یہ کھا لیا، انہوں نے وہ کھا لیا۔ بھائی! بات یہ ہے کہ ہم ایک باعزت قوم ہیں۔ پاکستانی ایک باوقار قوم ہیں۔ کیوں ہمارے لیڈر اس قسم کے معاملات میں وابستہ پائے جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کی لاہور میں سیاسی مشکلات کے حوالے سے ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ اتفاق سے ہر دوسرے بندے کے ذکر میں میرا کوئی تعلق اس سے نکل آتا ہے۔ اختر رسول صاحب لاہور کے سربراہ تھے اور دلچسپ بات ہے کہ ایک دن صبح سویرے جب نواز شریف صاحب مجھ سے خفا ہوئے اور میں نے اخبار میں پڑھا کہ ضیا شاہد کی مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی رکنیت سے الگ کر دیا گیا میں بہت ہنسا۔ میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔ وہ یہ اعزاز بھی انہوں نے ہی دیا تھا، واپس لے لیا۔ بڑی اچھی بات کی۔ لیکن اس کے نیچے لکھا ہوا تھا اختر رسول۔ تو میں نے اختر رسول کو بلایا۔ اختر رسول صاحب میرے بہت عزیز دوست چودھری غلام رسول کے صاحبزادے تھے۔ پروگرام میں تبصرہ نگاروں و کالمسٹ خواجہ ایوب نے ٹیلی فونک گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کو لاہور میں مشکلات کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ آج حمزہ شہباز کی چودھری اختر رسول سے ملاقات ہوئی، شہباز شریف، خواجہ احسان، سردار ایاز صادق کی بھی چودھری اختر رسول سے ماڈل ٹاﺅن میں ملاقات ہوئی ہے۔ چونکہ تحریک انصاف کے شفقت محمود کے مقابلے میں خواجہ احسان امیدوار ہیں۔ ان کی بک میں ایم این اے اور ایم پی اے دونوں ہی امیدوار کمزور ہیں۔ اختر رسول چونکہ کمبوہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت سارا حلقہ ان کے زیراثر آ رہا ہے تو آج شہباز شریف کی ذاتی خواہش پر ان کو بلایا گیا۔ اور ان کی کافی منت سماجت کی گئی۔ اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب شہباز شریف نے ان کو یہ کہا کہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے تو اختررسول نے بڑا گلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھائی آپ مجھے بلا تو رہے ہیں۔ آپ نے گن پوائنٹ پر تو مجھ سے استعفیٰ لیا میری فیڈریشن سے جو میں الیکشن جیت کر ہاکی فیڈریشن کا صدر بنا تھا تو آپ نے مجھ سے پرویز رشید کے ذریعے گن پوائنٹ پر مجھ سے استعفیٰ لکھوایا تھا۔ اب آپ مجھ سے کیسی توقع کر رہے ہیں۔ تو حمزہ شہباز نے ان سے کہا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ آپ ہمارے ٹکٹ کے لئے اپلائی کروں۔ یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ لہٰدا میں سمجھتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کے لئے مناسب نہیں ہوں۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں، حلف دیتا ہوں میرے دل میں آپ کے لئے کوئی ایسی بات نہیں، میرا دل صاف ہے۔ جمعہ کو بڑے میاں صاحب آ رہے ہیں، میں کوشش کروں گا ان سے بات کر کے آپ کا یہ گلہ ختم کروں۔ خواجہ ایوب نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) لاہور میں پچھلے قدموں جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی ہوا زوروں سے چل رہی ہے۔ دن بدن (ن) لیگ کے اپنے علاقوں کے منتخب شدہ امیدوار بھی ان کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حمزہ اور شہباز شریف نہایت پریشان ہیں۔ لاہور کے مضبوط حلقے 133 این اے، این اے 147، این اے 129 میں بھی (ن) لیگ کی پریشانی بہت زیادہ ہے۔ حممة شہباز اور شہباز شریف کو ذاتی طور پر بھی بڑا ٹف ٹائم ملے گا۔ ضیا شاہد نے پروگرام میں اختر رسول سے متعلق بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اختر رسول میرے پاس آئے اور کہا کہ ضیا صاحب آپ میرے والد صاحب کے بہت عزیز دوست تھے اور اکثر دوپہر کا وقت آپ کا ان کے ساتھ گزرتا تھا۔ میں آپ کا بھتیجا ہوں۔ میں نے کہا جی بہت شکریہ آپ کا۔ انہوں نے کہا کہ آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ میں دستخط کر دوں اس بات پر کہ لاہور کے صدر کی حیثیت سے آپ کو سنٹرل ورکنگ کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟ سنٹرل ورکنگ کمیٹی میں نام ڈالنا میرا استحقاق ہی نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ بالکل فکر مند نہ ہوں۔ جس نے نکالا ہے، پرویز رشید صاحب نے، انہوں نے نوازشریف صاحب کی مدد سے نکالا ہو گا۔ مجھے پرواہ نہیں ہے۔ سو فیصد بہت ان کا شکر گزار ہوں۔ اختر رسول کو جب تک وہ استعمال کر سکتے تھے۔ میرا خیال ہے اس کے جسم میں سے ہڈیاں نکال کر اور گوشت نکال کر بھس بھروا کر اگر وہ کسی جگہ استعمال کر سکے تو کر لیں گے۔ ورنہ اس بندے سے انہوں نے سپریم کورٹ پر حملے بھی کروائے۔ اس کو وہاں سے نااہل بھی کروایا۔ پھر اس کو کان سے پکڑ کر ہاکی ایسوسی ایشن کی صدارت سے بھی نکال دیا۔ حکومتوں میں اس قسم کے افراد، میں تو بہت خوش ہوں میں سیاسی جماعت میں اس طرح سے شامل ہی نہیں تھا نہ مجھے دلچسپی تھی۔ میں تو اخبار نویس تھا میری صحت پر تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ لیکن بے تحاشا لوگ اختر رسول سے لے کر میاں منیر تک کتنے لوگ ہیں جنہوں نے شہباز شریف کے کہنے پر سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔س پریم کورٹ کی ایسی تیسی پروا کر اینکر طارق عزیز کی بھی چھٹی کروائی گئی اور سپریم کورٹ ہی نے ان کو کئی سال کے لئے نااہل کر دیا۔ میاں منیر ایم این اے کو بھی نااہل کر دیا۔ چودھری اختر رسول کو بھی چھٹی کروا دی۔ سیاسی جماعتوں میں لوگوں کو ذبح کیا جاتا ہے اور پھر اس کے ذبح کرنے سے جو خون نکلتا ہے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ اور لوگ ذبح ہونا چاہتے تو مجھے کیا اعتراض ہے۔





































