لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے الزامات لگتے آئے ہیں اور لگتے رہیں گے یہ ہر ملک میں ہوتا ہے اس کو اتنا سیریس نہیں لینا چاہئے۔ یہ حکومت وقت کا فرض ہے، الیکشن کمیشن، چاروں نگران وزیراعلیٰ، نگران وزیراعظم ہے۔ بہرحال اگر ملک میں افراتفری پھیلتی ہے تو فوج ضرور خل دیتی ہے۔ ہم نے زرداری صاحب کے ساتھ کھانا بھی کھایا ہے۔ یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے بلاول کی معقولیت نظر آتی ہے۔ اگرچہ وہ نوجوان ہیں اگر وہ صحیح بات کی ہے تو اس پر غور کرنا چاہئے۔ جو انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔ سیاستدان جو اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ نگران حکومت کے وزیراعظم اور چاروں وزیراعلیٰ مل کر بیٹھیں۔ ساری دنیا میں مذاکرات ہی اور کسی بھی قسم کے دلائل کے ساتھ بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔ اگر چیف الیکشن سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو بلاتا ہے کہ آپ کو شکایت ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔نوازشریف کے اوپن ٹرائل کے بارے میں قانون اور آئین کے مطابق جو اصول ہیں اس بارے میں خود کو ماہر نہیں سمجھتا۔ اس ملک میں جو الیکشن ہوں تو لوگ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ محسوس کریں کہ پاکستان کے عوام اس ہونے والے الیکشن سے مطمئن ہیں۔ تبھی ہمارے ملک میں الیکشن کے وقار کی عزت ہو گی۔ الیکشن کمیشن کی عزت ہو گی۔ نگران حکومت کی عزت ہو گی خواہش ہے 2018ءکے الیکشن پر لوگ اس پر انگلیاں نہ اٹھائیں۔آیئے ہم دُعا تو کریں کہ ایک ایسے الیکشن ہوں کہ مجموعی طور پر شفاف اور پرامن ہوں۔ مجھے تو اس پر ندامت اور حیرت ہوئی۔ میں محمد نوازشریف پر کتاب چھاپ رہا ہوں میں روزانہ ان پر ایک قسط لکھ رہا ہوں میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ اگرچہ مجھے بہت حد تک ان کی سیاسی سوچ سے اختلاف ہے لیکن ہر شخص کو اپنے طور پر سیاست میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ وہ بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں وہ پاکستان کی افواج کی وہ کارگل جنگ میں پٹائی چاہتے تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انڈیا میں کتنی ہی مارپٹائی ہو پاکستانی فنکاروں کی، گلوکاروں کی، اداکاروں کی لیکن ہم جو ان کے لوگ آئیں ان کو ہم سر پر بٹھائیں۔ یہ ان کی سوچ ہے۔ میں الٹ سمجھتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں ملکوں کو ایک دوسرے ممالک کے آئینی حکمرانوں سے لے کر ہم بھی عزت کریں میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو برا لفظ نہیں کہا۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کون ہوتے ہیں جو ہر دوسرے دن اٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہم یہاں سے ایک ایسی سرجیکل سٹرائیک کرنے والے تھے۔ ہم 6 جگہوں سے حملے کرنے والے تھے بھائی آپ مامے لگتے ہیں یہ جو بارڈر ہے یہ انٹرنیشنل بارڈر ہے دنیا اس کو مانتی، یو این او اس کو تسلیم کرتا ہے۔ ساری دنیا کے ممالک اس کو تسلیم کرتے ہیں لةٰذا ہمیں بھارت کی عزت کرنی چاہئے اور بھارت کو ہماری سرحدوں کی، ہماری حکومتوں کی اور ہمارے حکمرانوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کافی مہینے گزر گئے ہیں یہ ای سی ایل والا معاملہ جو ہے یہ اس وقت نوازشریف وزیراعظم تھے اس کے بعد ان کی وزارت عظمیٰ ختم ہو گئی۔ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے۔ چودھری نثار علی وزیرداخلہ تھے پھر ان کی وزارت بھی ختم ہو گئی پھر احسن اقبال بڑے سیانے سمجھ دار آدمی ہیں وہ بھی آئے۔ انہوں نے یہ قانون بنا دیا کہ ایک کمیٹی بنے گی اور اس کمیٹی کو یہ ریفر کیا جائے گا کہ وہ کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ہے نہیں ڈالنا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پچھلے ایک سال ای سی ایل کا نام ایک شٹل کاک بن گیا ہے جس کا جی چاہے اس میں ڈال دو جس کا جی چاہے نہ ڈالو۔ اگر میرٹ پر بات کریں تو معاف کیجئے گا میرٹ پر تو بات یہ ہوتی ہے کہ اگر چار دن پہلے کسی کا نام بھی زرداری صاحب کا ہو کسی اور کا نام میری طرف سے کسی کا بھی نام نہ ڈالیں ہمارے ملک کے شہری ہیں موج کریں لیکن یہ کوئی بات ہے ایک دن کہا جاتا ہے کہ ای سی ایل پر ان کا نام ڈال دیں دو دن بعد کہا جاتا ہے کہ نہیں جی وہ کمیٹی نے اجازت نہیں دی اس کے بعد پتہ چلتا ہے اب نیا قانون بن گیا ہے اب جی اسمبلی کی جو پارلیمانی کمیٹی ہے وہ اجازت دے گی۔ اس کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا اب اگر کوئی کوٹ کہے گی تو تب ڈالا جائے گا پھر جب کورٹ کہے گی تو دوسری کورٹ کہہ دیتی ہے کہ اس کورٹ بھی ڈالنے کا کیا حق حاصل تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ ایک مذاق بن گیا ہے اور بہتر یہ ہو گا کہ تھوڑی دن بعد اور انتظار کر لیتے ہیں میری یہ خواہش ہو گی اور درخواست ہو گی کہ جو بھی اس ملک کی حکومت آئے وہ کم از کم اس کے بارے میں واضح طور پر حکم جاری کرے اس کا طریقہ کار بنایا جائے کہ کن لوگوں کا نام ای سی ایل پر ڈالا جا سکتا ہے اور اس کے لئے کیا شرائط ہونی چاہئے اگر ہم نے اسے شٹل کاک کی طرح سے بنائے رکھا تو معاف کیجئے گا کہ پھ یہی ہو گا کہ جب کسی کا جی چاہے گا تو وہ کسی کا بھی نام ڈال دے گا جب کوئی قانون قاعدہ ہی نہیں ہے پتہ ہی نہیں کون فیصلہ کرتا ہے۔میں نے کل زعیم قادری سے بھی پوچھا کیا یہ ایک ہی پارٹی ہے۔ اگر ایک ہی پارٹی ہے تو اس کے دو لیڈر کیوں ہیں جو میڈیا کمیٹی بنی تھی مسلم لیگ ن کے لئے جو کہ کام چلا رہی تھی میاں نوازشریف کا بیانیہ کہ فوج کو نہیں مانتا، عدالتوں کو نہیں مانتا، پانچ ججوں کو پکڑ کر ہم نے اندر دینا ہے وہ پارٹی اصل تھی یا جناب شہباز شریف کی یہ پارٹی اصلی تھی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ نوازشریف صاحب نے جو بھی کہا ہو لیکن ہمیں بہر حال عدالتوں کا احترام کرنا ہے اور اپنے فوجی اداروں کی بھی عزت کرنی ہے۔ ذرا ان میں بتا دیجئے ان میں کون سی پارٹی تھی۔ نوازشریف اس وقت نااہل ہیں وزیراعظم کے لئے ہیں پارٹی صدارت کے لئے اس وقت پارٹی کے صدر شہباز شریف ہیں اور ان کے زیرانتظام جو میڈیا پارٹی ہے وہی ان کو چلا رہی ہے لہٰذا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ قانونی طور پر شہباز شریف اس وقت مسلم لیگ کے صدر ہیں ان ہی کی بات مانی جانی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ میثاق جمہوریت کے سلسلے میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے بات ہوتی تو مکالمہ ہو سکتا تھا لیکن اب بہت دیر ہو چکی۔ پہلے بات ہوتی تو اس وقت نوازشریف بھی جیل میں نہیں بلکہ لندن میں تھے، بانی متحدہ بھی وہی ہیں، شہباز شریف سمیت دیگر سیاستدان بھی وہاں تھے، اس وقت کوئی بات ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تحریک لبیک والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر حلقے سے تیسرے نمبر پر آئیں گے، حافظ سعید نے جن لوگوں کو کھڑا کیا ہے پہلے یہی لوگ نوازشریف کو ووٹ دیتے تھے۔ دوسری طرف ایم ایم اے ہے جس میں سراج الحق اور فضل الرحمن کی پارٹیاں ہیں۔ مذہبی جماعتوں کا ووٹ کس طرف جائے گا یہ تو اب الیکشن کا عمل ہی بتائے گا۔





































