لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار افضال ریحان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم کے کیس میں سماعت کے لیے اگلا دن مقرر کیا جا سکتا تھا۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ہوا اس سے الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔ نواز شریف آئے تو کنٹینر لگا کر ان کے کارکنوں کو روکا گیا نواز ریف کو ہدف بنایا گیا جس کا ہمیں دکھ ہوا۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا کہ عدالتیں بہتر جانتی ہیں کب کس کیس کی سماعت کرنی ہے اور کب نہیں عدالت نے اگر نواز شریف کو سزا دی ہے تو بہرحال وہ مجرم ہیں۔ میرے خیال میں بلاول نے اتنی کم عمر میں خود کو ایک سمجھدار سیاستدان کے طور پر پیش کیا ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے حامی چاہتے ہیں ان کو بھی الیکشن مہم میں شامل ہونے کا موقع ملے۔ نواز ٹریف کو بھی چاہیے وقار کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوں اور فیصلوں کو مانیں اور اپنے پیغامات میں بھی احتیاط کر یں۔ نواز شریف ایک آزمائش میں ہیں اب ہمیں نفرت کی سیاست سے باہر آنا ہو گا۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا ہے کہ ن لیگ سمجھ رہی تھی کارکنان جلوس کی شکل میں آئیں گے۔ نواز شریف کے پاس اپیل کیلئے دس دن تھے لہٰذا ان کا واپس آنا ضروری تھا میرے خیال میں پرویز الٰہی کو نواز شریف سے متعلق اس قسم کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔





































