لاہور (نادر چوہدری سے)سوشل میڈیا پر لاکھوں روپے کا فراڈ کر نے والے مختلف گروپ متحرک ، خرید و فروخت کی معروف ویب سائٹOLX پر شہری نے گاڑی خریدنے کی مد میں16لاکھ روپے ملزم کے لاہور کے علاقہ صدرمیں واقع ایک بینک میں موجود اکاﺅنٹ میں جمع کروائے ،ثبوت کے طور پرملزم نے TR Systemرولزکے 2لیٹر بھی بھجوائے ،کئی ماہ گزر جانے کے بعد ابتک نہ گاڑی ملی نہ پیسے ، اس طرح کے بے شمار فراڈ سوشل میڈیا پر معمول بنتے جارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے شہریوں کو لوٹنے کا رجحان روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور سائبر کرائم کر نے والے ملزمان مختلف طریقوں سے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ اسی طرح کا واقعہ واہگہ کے رہائشی مقصود ولد نورمحمد کے ساتھ اس وقت پیش آیا جب اس نے سوشل میڈیا پر خرید وفروخت کی معروف ویب سائٹ OLXپر ایک گاڑی دیکھی اورایڈ پر رابطے کیلئے عمران گوپنگ نامی شخص کاوائبر نمبر00815032044490 موجود تھا جس پر مقصود نے رابطہ کیا اورچند روز تک رابطہ ہوتارہاجس کے بعد مقصود اورعمران گوپنگ کے درمیان 29دسمبر 2017کو 15لاکھ روپے میں سودا طے ہوگیا اورعمران گوپنگ نے کہا کہ وہ 45روز کے اندر گاڑی لاہور میں آپ جہاں کہوگے پہنچا ﺅں گا تاہم ایک لاکھ روپے ٹوکن ادا کردیں جس پر شہری مقصود نے اسکے لاہورکے صدر بازار میں واقع دبئی اسلامک بینک جسکابراچ کوڈ 142ہے میں اسکے اکاﺅنٹ نمبر 0303149001میں 9جنوری 2018کوایک لاکھ روپے جمع کروائے جس پر ثبوت کے طور پر عمران گوپنگ نے TR Systemرولزکے 2لیٹر مقصود کو بھیجے ۔ بعد ازاں شہری نے اپنے شناختی کارڈ کی کاپیاں اور گھرکے بجلی کے بل کی کاپیاں عمران گوپنگ کو بھیجیں اوراگلی قسط 5لاکھ روپے کا چیک 19جنوری کو عمران گوپنگ کو بھجوایا جو کہ کیش نہ ہوسکنے کی وجہ سے اسکے اکاﺅنٹ میں24جنوری کو نقد 5لاکھ روپے منتقل کیئے جس کے بعد عمران گوپنگ نے گاڑی کا BLپورٹ کلیئرنس لیٹر بھیجااور بتایا کہ 14فروری کو شپ کراچی پورٹ پرپہنچے گی جس میں شہری کی گاڑی ہے لہذا مزید رقم بھیجیںجس کے بعد شہری مقصود نے 30جنوری کو مزید 4لاکھ روپے عمران گوپنگ کے اکاﺅنٹ میں جمع کروائے اورپھر 6فروری کو دوبارہ 4لاکھ روپے عمران گوپنگ کے اکاﺅنٹ میں جمع کروائے ۔اسی دوران شہری مقصود کے ایک دوست نے بھی اسی طرح کی گاڑی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی جس پر مقصودنے عمران گوپنگ کو کہا کہ میرادوست بھی گاڑی خریدنا چاہتا ہے اوراسے ارجنٹ گاڑی چاہئیے جس پر عمران گوپنگ نے جیل روڈ پرموجود ا پنے ایک دوست سے رابطہ کرکے گاڑی خریدنے کا کہتے ہوئے اسکا موبائل نمبر 0308-5695441 دیاجس پرجب شہری نے رابطہ کیا تو اس نے کہاکہ میرے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے جس پر عمران گوپنگ نے کہا کہ اس گاڑی کا بھی مجھے ٹوکن بھیجو میں ایک اور گاڑی بک کرلیتا ہوں جس پر میں نے اپنے دوست سے بھی ایک لاکھ روپے لے کر عمران گوپنگ کو 12فروری کو بھجوا دیئے اورعمران گوپنگ کو کہا کہ جب میری پہلی گاڑی لاہورپہنچ جائے گی تو پھر میں دوسری گاڑی کی بقایا رقم ادا کروں گا ۔اسکے بعد عمران گوپنگ نے 14فروری کوکہا کہ گاڑی کی کسٹم کلیئرنس میں 2سے3دن لگ جائیں گے لہذا آپ پہلی گاڑی کے بقایا ایک لاکھ روپے بھی جمع کروادیں جس پرشہری مقصود نے 17فروری کوعمران گوپنگ کے اکاﺅنٹ میں مزید ایک لاکھ روپے جمع کروا دیے جس کے بعد عمران گوپنگ کبھی کسٹم کلیئرنہیں ہوا تو کبھی گاڑی پورٹ سے نہیں نکلی بول کے ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور پھر 10مارچ کوعمران گوپنگ کے وائبر نمبر سے مقصود کو میسج آیا کہ عمران گوپنگ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ آئی سی یومیں ہے ،اگرآپ نے بات کرنی ہے توکسی انگلش بولنے والے کو کہیں کہ وہ بات کرے جس کے بعد اگلے روز جب کال پربات کی گئی تو عمران گوپنگ کے نمبرسے بولنے والے نے کہا کہ آپ کی ایک گاڑی کی رقم ہمیں موصول ہوئی ہے دوسری گاڑی کی بھی مکمل رقم ادا کریں ۔ یہ بات ہونے کے بعد اگلے ایک دو دن نمبرآن رہا اور پھر 15مارچ کو لاہور کے رہائشی مقصود کاعمران گوپنگ سے مکمل طور پر رابطہ ختم ہوگیا اور اس طرح سے سوشل میڈیا پر شہری کوخرید و فروخت کے نام پر 16لاکھ روپے کا چونا لگا دیا ۔ سوشل میڈیا پر لوٹ مار کا یہ کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان میں اس طرح کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں جس کیلئے متعلقہ اداروں کو اور حکومتی سطح پر عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔
