-
جانی نقصان: امریکی حکام اور فضائیہ کے مطابق، پیر (15 جون 2026) کو صبح تقریباً 11:20 بجے ہونے والے اس حادثے میں طیارے پر سوار تمام 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایئر فورس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس میں کسی کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
-
عملے کی تفصیلات: طیارے پر ایک ‘مخلوط عملہ’ سوار تھا جس میں فوجی اہلکار، حکومتی سویلین ملازمین اور نجی کنٹریکٹرز شامل تھے۔ طیارہ بنانے والی کمپنی ‘بوئنگ’ (Boeing) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو ان کے ملازمین تھے۔
مشن اور حادثے کی وجہ:
-
مشن کا مقصد: یہ طیارہ ایک معمول کے امتحانی مشن (Test Mission) پر تھا اور فضائیہ کے ایک جدید راڈار ماڈرنائزیشن پروگرام (Radar Modernization Program) کے تحت پرواز کر رہا تھا۔
-
حادثے کی وجہ: پرواز بھرنے کے فوراً بعد ہی یہ طیارہ رن وے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں شدید آگ لگ گئی۔ حادثے کی اصل وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور فضائیہ کے حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ردِعمل اور اثرات:
-
حادثے کے بعد ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے ایئر فیلڈ کو عارضی طور پر تمام پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا اور آنے والے طیاروں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا۔
-
ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا جہاں صحرا کے ایک بڑے حصے میں طیارے کا ملبہ پھیل گیا اور دھوئیں کے گہرے بادل میلوں دور سے دیکھے گئے۔
