اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران پارٹی نے آئندہ 100 دنوں کےلیے لائحہ عمل کوحتمی شکل دے دی۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین سمیت پارٹی کے دیگر رہنماو¿ں جبکہ سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ارباب شہزاد نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ابتدائی100 دنوں کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان کی تبدیلی کی فہرستیں تیار کرلی گئیں۔100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے، عمران خان۔وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان کی تبدیلی کی سفارشات ارباب شہزاد نےمرتب کیں جنہیں منظور کرلیا گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹریز کے تبادلوں کی بھی فہرستیں تیار کی گئیں جبکہ سیاسی بنیادوں پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر، نیپرا، ریلوے، پی آئی اے سمیت کئی اداروں کےسربراہان کی تبدیلی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔سرکاری اداروں میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کو تعینات کیا جائے گا اور نئی تعیناتیاں 100 دن کےلیے ہوں گی۔100 دن بعد ان افسران کی کارکردگی جانچی جائے گی۔پی ٹی آئی کا 100 روزہ ایجنڈا ۔ انتخابات میں کامیابی سے قبل تحریک انصاف نے کومت میں آنے کی صورت میں 100 دن کے پلان کا اعلان کیا تھا۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ 100 روزہ ایجنڈے کے مطابق حکومت میں آنے والے بعد اصلاحات لائی جائیں گی، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کریں گے، بلوچستان میں ناراض لوگوں کو منا کر قومی دھارے میں لائیں گے۔جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا،کراچی کو ترقی دینا اور کراچی کے اداروں کو سیاست سے پاک کرتے ہوئے امن و عامہ اور سیکیورٹی معاملات کو بہتر کر کے بھتے اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کرنا ایجنڈے کا حصہ ہے۔تحریک انصاف کے مجوزہ پلان میں نوجوانوں کے لیے ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کرنا اور حکومتی اخراجات کو کم کرتے ہوئے آمدن بڑھانا بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 100 دن کی کامیاب حکمت عملی تیار
