لاہور(ایڈیٹررپورٹ) آنجہانی سابق بھارتیوزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی متعددکامیابیاں ہیں تاہم ان میں سے ایک مشہورزمانہ دہلی،لاہوربس چلانے کااقدام ہے ،جس کامقصدپاک بھارت تعلقات میں بہتری لانا تھا۔واجپائی 19فروری 1999ءکو اس سروس
کے افتتاح کے دوران بس میں ہی لاہورگئے جہاں ان کے پاکستانی ہم منصب نوازشریف نے ان کااستقبال کیا۔بھارتی مصنف کنگ شوک ناگ کی کتاب ”اٹل بہاری واجپائی “سے اقتباس کے مطابق 1960ءمیںواجپائی کے گروبھارتی ہجاناسنگھ اوردین دیال نے پاک بھارت متحدریاستوں کانظریہ متعارف کرایاجوایک طرح سے اکھنڈبھارت کے برعکس تھا،جس کی پیروکارانتہاپسندہندوتنظیمیں تھیں۔جب بھارت اورپاکستان ایٹمی طاقتیں بن گئیں توواجپائی نے محسوس کیاکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کیلئے کام کرنے کاوقت آگیاہے۔ان کے پاکستانی ہم منصب نوازشریف کابھی یہی خیال تھاچنانچہ انھوں نے واجپائی کودورہ پاکستان کی دعوت دی،جس پروہ 19فرروی 1999ءکوبس میں واہگہ بارڈرپاکرکے لاہورپہنچ گئے۔ان کے وفد میں صحافی کلدیپ نائر،اداکاردیوآننداورشاعرجاوید اختربھی شامل تھے۔ ان کے سفرکے بعدپاک ،بھارت عوامی بس سروس روزانہ کی بنیادوں پرشروع ہوگئی،جس کے ذریعے ان خاندانوں کوبھی آپس میں ملنے کاموقع ملاجوسرحدکے آرپاررہتے تھے۔واجپائی اورنوازشریف کے درمیان گفت وشنیدکے بعداعلامیہ لاہورجاری ہوا،جس میں دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیرسمیت باہمی تنازعات کے پرامن حل اوردوستانہ تجارتی وثقافتی تعلقات کے فروغ کے عزم کااظہارکیا۔انھوں نے نہ صرف میزائلوں کے تجربات سے پہلے ایک دوسرے کواطلاع دینے پراتفاق کیا بلکہ ایٹمی جنگ کے خطرات کم کرنے کیلئے قومی اقدامات کرنے کابھی عزم کیا۔ واجپائی نے اسلحے سے پاک خیالات سے پاکستانی عوام کادل موہ لیا اگرچہ انتہاپسند تنظیموں اورجماعتوں نے ان کے دورے کیخلاف مظاہرے کئے۔واجپائی اپنے دورے کے دوران مینارپاکستان بھی گئے ،ان کاکہناتھابہت سے لوگوں نے انھیں وہاں جانے سے روکاکہ اس طرح وہ پاکستان کی تخلیق پرمہرتصدیق ثبت کریں گے تاہم میں نے اس منطق سے اتفاق نہیں کیاکیونکہ پاکستان کواپنے وجودکی تصدیق کیلئے کسی مہرکی ضرورت نہیں۔واجپائی نے گورنرہاو ¿س میں استقبالیہ کے دوران اپنی مشہورزمانہ نظم ”اب جنگ نہ ہونے دیں گے“ پڑھی۔ انہوں نے شاہی قلعہ کے دورے کے دوران مشترکہ میراث کی نشاندہی کرتے ہوئے شاہ جہاں کی پیدائش اوراکبر دورپرروشنی ڈالی۔پاکستانی حاضرین ،واجپائی کی تقریرسے اس قدرمتاثرہوئے کہ نوازشریف بے اختیاربول اٹھے کہ واجپائی صاحب،اب توپاکستان میں بھی انتخابات جیت سکتے ہیں۔
جب نواز شریف بولے، واجپائی صاحب اب تو پاکستان میں بھی الیکشن جیت سکتے ہیں
