تازہ تر ین

چیف جسٹس نے ٹھیک کہا سندھ پا کستان کا دریا ، اس پر جگہ جگہ چھوٹے ڈیم بننے چاہئیں :ضیا شاہد ، آرمی چیف ، وزیراعظم کے دورہ میرانشاہ کا مقصد سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینا ہے : میجر جنرل (ر )اعجاز اعوان ، چینل۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان کا آرمی چیف کے ساتھ میران شاہ کا دورہ کرنا اہم ہے جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ اس وقت بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ آزادی کے 71 سال کے بعد فاٹا اور پاٹا پاکستان میں ضم ہوئے ہیں پاکستان کا بنیادی حصہ بن گئے۔ اور اب جو سب سے بڑا کام ہے وہ اس علاقے کی ڈویلپمنٹ ہے کہ ہم اس علاقے کو کس طرح ترقی دینی ہے اور ترقیاتی پراجیکٹس کس طرح سے بنانے ہیں اور وہاں ریفارمز کیسے کرنی ہیں تا کہ ان کو قومی دھارے میں لایا جا سکے ایک یہ اس کا مقصد تھا تا کہ وزیراعظم اور جو ادھر امن کی صورتحال میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں پاکستان آرمی اور یقینا پاکستان کے آرمی چیف تو ان کی موجودگی میں وہاں کی سکیورٹی کا پتہ لگائے جائے کہ کیا اقدامات کرنا ضروری ہیں کیونکہ وہاں کے جو ترقیاتی کام ہوں گے ان کی بنیادی طور پر نگرانی پاکستان آرمی کو کرنا پڑے گی۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ میں نے یہ بات سنی تھی کہ ان لوگوں کی زبانی بھی جو وہاں موجود تھے پاک فوج کے حضرات بھی سوات میں آپریشن کے کئی سال بعد تک یہی کہا جاتا تھا کہ جو شہری انتظامیہ ہے وہ اپنی ذمہ داریاں واپس لینے کے لئے تیار نہیں ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ ابھی فوج ہی کو چلانے دیں۔ کیا میران شاہ میں حالیہ واقعات بھی ہیں کیونکہ کوئی نہ کوئی ایسی صورت بنتی رہتی ہے کہ دوبارہ ضرورت محسوس ہو کہ وہاں ہماری آرمڈ فورسز جو ہیں وہ اپنا ایکشن مکمل کریں گے۔ کیا سول اختیار بحال ہو چکا ہے یا اس میں رکاوٹیں حائل ہیں۔
اعجاز اعوان نے کہا کہ اس علاقے کی جو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انڈین حکومت اور امریکہ کا بڑا گہرا عمل دخل ہے افغانستان میں اور تقریباً 55 فیصد علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے جس سے افغان آرمی اور امریکن آرمی کی کوئی رٹ نہیں ہے اور ہم بھارت کا وہاں پربڑا گہرا عمل دخل ہے تو وہاں سے جب تک مکمل بارڈر کی فٹنگ نہیں ہو جاتی اس وقت تک مداخلت کے امکاناتت بھی ہیں اور جو مہاجرین ہمارے ہاں رہتے ہیں ان علاقوں میں ان کے اندر بھی مشکوک افراد بھی ہو سکتے ہیں لہٰذا وہاں پر سکیورٹی فورسز کی وہاں موجودگی کچھ عرصہ تک رکھنا ناگزیر ہے سول انتظامیہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں ابھی کچھ وقت لے گی۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ مجھے خود آئی ایس پی آر نے مختلف مواقع پر بتایا کہ وہاں جو ہمارا بارڈر ہے افغانستان کے ساتھ وزیرستان کا وہ اتنا پورس کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ مجھے یہ بتایا گیا کہ اس میں میرے ساتھ اور بھی اخبار نواس تھے اور آئی ایس پی آر کے جنرل صاحب نے کہا کہ وہاں ایک گاﺅں ایسا بھی ہے جو آدھا گاﺅں پاکستان میں اور آدھا افغانستان میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیرستان سے لوگوں کا بڑی آسانی سے افغانستان جانا اور پھر واپس آ جانا یہ عین ممکن ہے۔ کیا اس قسم کا کوئی علاقہ جہاں بارڈر لائن بالکل آبادی کے درمیان میں سے گزر کر اسے دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے کیا ابھی تک بھی اس قسم کے مقامات موجود ہیں یا کوئی حصہ خالی کرایا جا سکتا ہے۔
جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا اس طرح کے گاﺅں ابھی تک وہاں موجود ہیں اور ان کی تقسیم اس لئے مشکل ہے کہ وہ لوگ ثقافتی اور سماجی طور پر اکٹھے رہتے ہیں اور باہم شادیاں ہوئی ہیں۔ ایک کی بیٹی ادھر بیاہی تو دوسرے کا بیٹا ادھر بیاہا ہوا ہے اور وہ لوگ مل کر زندگی گزار رہے تھے ان کی مکمل تقسیم فوری طور پر فی الحال نہیں ہو سکتی جب تک متبادل جگہوں پر جا کر آباد نہیں کیا جاتا ابھی تک جوں کی توں ہے لیکن وہاں پر جب باڑ لگائی ہے تو ہم نے اپنے گاﺅں سے تقریباً 500 گز پیچھے ہٹ کر فننگ کی ہے اور ہماری آبزرویشن پوسٹ اس گاﺅں کے اوپر ہی۔ وقتی طور پر کام چلایا جا رہا ہے تا کہ ایک دفعہ باڑ مکمل کر لی جائے تو مداخلت کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور پھر باہمی بات چیت سے اور لوگوں کی مرضی کو دیکھتے ہوئے پھر ان لوگوں کی آباد کاری کا ایک نیا پروگرام بنایا جائے گا اور پھر ان گاﺅں کے لوگوں کو اپنی سرحد کے اندر اندر وہاں پر آباد کیا جائے گا تو ابھی تک اس طرح کا تقریبا 10,8 گاﺅں ایسے ہیں جو آدھے پاکستان اور آدھے افغانستان میں ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ مجھے تو 2، 3 گاﺅں کا علم تھا جنرل صاحب نے 10,8 گاﺅں ایسے ہیں۔ ضیا شاہد نے موبائل فون کے کارڈ پر ٹیکس لگانے اور اسے ڈیم فنڈ میں منتقل کرنے پر فریقین مل بیٹھ کر طے کریں۔ جہاں تک دریائے سندھ کی بات ہے۔ اتفاق سے میں اس وقت بھی اس کتاب کا پورا ترجمہ کرایا ہے انڈس واٹر ٹریٹی کا۔ انڈس واٹر ٹریٹی سندھ ھاس کا وہ معاہدہ ہے جو 1960ءمیں جس پر دونوں ملکوں کی طرف سے دستخط ہوئے تھے ایک طرف ایوب خان تھے دوسری طرف پنڈت نہرو دونوں نے اس پر دستخط کئے تھے اس معاہدے کے تحت چناب اور جہلم دو دریا جو تھے پاکستان کے حصے میں آئے تھے اور ستلج اور راوی دو دریا جو تھے ان کا پانی جو تھا وہ پاکستان نہیں بلکہ وہ انڈیا کے حصے میں آیا تھا۔ سندھ جو ہے اس کو سندھ طاس اس لئے بھی کہتے ہیں کہ اور انڈس بیسن پلان بھی کہتے ہیں انڈس سب سے بڑا دریا ہے پاکستان کا۔ لیکن اس کا جو شمالی حصہ ہے وہ ان علاقوں سے گزرتا ہے جہاں انڈیا ہے چنانچہ جو اصل صورت حال ہے وہ یہ ہےکہ اس پر وقتاً فوقتاً خبریں آتی رہتی ہیں کہ انڈیا دریائے سندھ پر بھی فلاں بند باندھ رہا ہے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر وہ پانی کو موڑ لیتا ہے روکتا بھی ہے اور پھر چھوٹے چھوٹے پن بجلی کے کارخانے بھی لگاتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں بڑی واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ انڈس بیسن پلین جو تھا اور جو انڈس واٹر ٹریٹی تھا اس سے یہ بات واضح تھی کہ جناب اور جہلم کا پانی پاکستان کے حصے میں، ستلج راوی کا پانی بھارت کے حصے میں آیا تھا لیکن سندھ تو مکمل طور پر پاکستان کے حصے میں آیا تھا لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ سندھ ہمارا سب سے بڑا دریا ہے اور اس کے اوپر شمالی علاقوں میں جہاں انڈیا کی حکومت ہے ان کو کوئی حق حاصل نہیں ہے وہ اس پر چھوٹے بیراج بنا سکے۔ اس میں موجودہ صدر پاکستان عارف علوی یہاں تک کہہ چکے ہیں انڈس واٹر ٹریٹی پر صحیح طور پر عمل نہیں ہوا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس پر دوبارہ غور ہونا چاہئے اس پر نظرثانی ہونی چاہئے اس کی کلاز بائی کلاز سٹڈی ہونی چاہئے کیونکہ اس ویئرٹریٹی کو سارے کا سارا انڈیا نے اپنے فائدے کے لئے استعمال ہے۔ جس طرح میں بیان کر دوں کہ چناب اور جہلم کے بارے میں انڈیا یہ کہتا ہے اور اس نے ہم سے دستخط کروائے ہیں کہ جب تک یہ دریا انڈین علاقوں میں بہتے ہیں تو پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پن بجلی کا پانی، آبی حیات کا پانی اور ماحولیات کا پانی جو ہے انڈیا اس میں سے لے سکتا ہے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن یہی فارمولا وہ پاکستان میں آنے والے اور دریاﺅں جن کا پانی زرعی پانی انڈیا نے روکا ہوا ہے اس معاہدے کے تحت یعنی ستلج اور راوی کیا اس میں بھی یہی شرائط عائد ہونی چاہئیں تھے۔ جی معین الدین صاحب اس وقت اس کے نگران تھے انہوں نے اس کا مسودہ تیار کیا تھا اور امریکہ جا کر موصوف نے ایک شادی بھی کر لی تھی کہ امریکن دوشیزہ سے اور یہ کہا تھا کہ میرا مسودہ ٹائپ کرتی تھی اور یہیں سے ہماری دوستی شروع ہو گئی اچھا ابھی آپ کسی وکیل سے سوال کریں کہ اگر کسی معاہدے کا ایک حصہ اس بات کی دلالت کتا ہے کہ انڈیا میں جو دریا بہتے ہیں ان کے اردگر رہنے والوں کے لئے یہ حقوق ہیں تو کیا چناب ستلج اور راوی میں جو پانی آتا تھا اس کو انڈیا نے مکمل طور پر بند رکھا ہے۔ سو فیصد پانی بند کر رکھا ہے اور لکڑی کے شٹر لگا کر روک رکھا ہے پانی کی ایک بوند نہیں آنے دیتا۔ ہمارا پینے، گھریلو استعمال، ماحولیات اور آبی حیات کا پانی کہاں ہے، ہمارا صنعتی استعمال کا پانی کہاں ہے یہ خرابیاں ہیں جو انڈس واٹر ٹریٹی میں موجود ہیں اور ہماری لوگوں کی بے و قوفی ہے کہ انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی اور بعد میں آنے والی حکومتوں کی نالائقی ہے کہ انہوں نے کبھی انڈس واٹر پلان کو کبھی کھول کر نہیں دیکھا کہ اس میں کیا کیا شقیں ہیں جو پاکستان کے خلاف جا رہی ہیں۔ اس پر میں نے کتاب لکھی کہ ستلج اور راوی کا سارا پانی انڈیا نہیں لے سکتا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں میں نے ایک رٹ کر رکھی ہے کہ جس میں نوٹسز ہو چکے ہیں اس میں وفاقی پاکستان چیئرمین واپڈا انڈس واٹر ٹریٹی کے کمشنر کو اور آبی وسائل کی وزارت کے علاوہ وزارت خارجہ کو بھی نوٹس ہو گئے ہیں۔ اب پیشی کے موقع پر ان سارے محکموں کو جواب دینا پڑے گا کہ آپ اب تک کیوں خاموش رہے۔پہلی بات یہ کہ یہ معاہدہ دریاﺅں کے پانی کا نہیں تھا۔یہ غلط العام بات ہے کہ ہم نے دو دریا بیچ دئیے تھے۔ ہم نے کوئی دریا نہیں بیچے تھے۔ یہ معاہدہ زرعی پانی کا تھا۔ لیکن زراعت کے علاوہ بھی دریائی پانی کے پانچ مزید استعمال ہیں ۔میں بہاولنگر کے پاس دریائے ستلج کے قریب ایک گاﺅں کا رہنے والا ہوں اور یہ فیکٹ ہے کہ 70ہزار مچھیرے اپنے چھوٹے چھوٹے جھونپڑے بنا کر دریا کے کنارے بہاولپور تک آباد تھے۔ یہ دریا سے مچھلیاں پکڑ کر سارا سال بیچتے تھے۔ جب دریا میں پانی مکمل بند ہوگیا اور ریت اڑنے لگی تو 70ہزار مچھیرے اور ایک لاکھ سے زائد بہاولپورسے پنجند تک جہاں پانچوں دریا ملے ہیں، آباد لوگ بے روزگار ہوگئے۔ کسی ملک کو اسکا پڑوسی ملک اجازت نہیں دیتا کہ وہ اسکی آبادی کے ایک حصے کو بے روزگار کر دے۔
آشیانہ پیراگون سکینڈل میں قیصر امین بٹ کے وعدہ معاف گواہ بننے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اب خواجہ سعد رفیق کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔ اسکی وجہ یہ کہ انکا 50فیصد کا شراکت دار تمام معاملات دھڑا دھڑ بیان کر دے گا کہ ہم نے اس طرح سے کیا تھا، اتنے پیسے کس سے لیے تھے، اتنے پیسوں کی زمین کس کو بیچی تھی، یہ سہولت ہمیں کس طرح سے ملی تھی ، کس حکومت سے سہولت سے خریدی تھی۔ یہ سارا کچا چٹھا وہ بیان کر دے گا۔ چنانچہ سعد رفیق کے گرد گھیرا اور تنگ ہوگیا ہے۔ عبوری ضمانت معمولی چیزیں ہیں انکے خلاف کیس بہت ٹھوس ہیں۔ قیصر امین کے وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد خواجہ سعد رفیق کا صاف بچ نکلنا بہت مشکل ہوگا۔ خواجہ سعد رفیق کے خلاف فیصلہ آنے پر بھی وہ اسمبلی کے ممبر رہیں گے لیکن اگر وہ صادق اور امین نہ رہے تو نااہلی کا کیس انکے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ انکے خلاف ثبوت مل جائے تو وہ نااہل ہو کر اسمبلی سے باہر جا سکتے ہیں۔ لوگوں کی بے وقوفی ہوتی ہے ، انگریزی میں ایک محاورہ ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے بہت سارے لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔ محاورے کا دوسرا حصہ ہے کہ آپ ایک آدمی کو لمبی مدت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں۔ تیسرا حصہ یہ ہے کہ آپ سارے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔ کیونکہ جب دلائل ، ثبوت ،وعدہ معاف گواہیاں سامنے آتی ہیں تو پھر کوئی کیسے بچے گا۔ اس کیس کا نتیجے میںبالآخر خواجہ سعد رفیق کو جو سزا ہوگی وہ ہوگی ہی، لیکن انکے صادق اور امین نہ ہونے کیوجہ سے ، کہ لوگوں کی امانتوں سے ، جو زمینیں خریدیں ان سے فراڈ کیے تو یہ امین کہاں رہے۔ لہذا لگتا ہے کہ انکے لیے نااہلی کا کیس ضرور ہوگا۔
بھارت کی جانب فیصل آباد کے مدرسے میں پڑھنے والے طالب علموں کی تصویر پر انہیں دہشتگردبتانے کی بھارتی سازش پر ضیا شاہد نے کہا کہ انڈیا کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ اسکا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ کرتارپور راہداری کے مذاکرات باجپائی سے گفتگو میں شروع ہوئی۔ اب ایک طرف ہمارے وزیراعظم اس راہداری تقریب میں جا رہے ہیںاورہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب کو دعوت دی تو خاتون نے کہا کہ نہیں ، میرے پاس وقت نہیں ہے۔ پتا نہیں کونسی مصروفیت ہے انکی۔ ایک طرف خوشی کی خبر آتی ہے کہ سکھ علاقے میں جہاں سکھوں کی گوشالا بھی ہے ۔ اس خوشی کے موقع پر انڈیا آزاد کشمیر میں 6بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے۔ اس سے انڈیا کی نیک نیتی کا پتا چلتا ہے کہ ہم اسکے لیے ایک راہداری کھول رہے ہیں، جو خوشی اور خیر سگالی کا موقع ہے۔ اور انڈیا ایک ہی دن میں ہمارے 8شہریوں کو شہید کر رہا ہے۔
پروگرام میں اس حوالے سے جاوید ملک نے بتا یا کہ عالمی میڈیا میں کل رپورٹ شائع ہوئی جس میں 4وزراءاعظم یا صدور کو سب سے زیادہ مکار آدمی کہا گیا ہے۔ جن میں امریکی صدر ٹرمپ پہلے نمبر پر، دوسرے پر بھارتی وزیراعظم مودی، تیسرے پربرطانوی وزیراعظم اور چوتھے پر فرانسیسی صدر ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد فرانس میں مکمل پہیہ جام ہڑتال ہے ۔ اگر انڈیا کی طرف آئیں تو مسئلہ یہ ہے کہ اگلے چند مہینوں میں انڈیا میں الیکشن آرہے ہیںاور نظر آرہاہے کہ مودی کی جماعت بری طرح ہارے گی۔ اس پر بھارت کی جانب سے جو بونگیاں ماری جارہی ہیں اسکا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ فیصل آبادی مدرسے میں پڑھنے والے دو نوجوان محمد منیب اور محمد ندیم جو پانچویں اور ساتویں جماعت کے طالب علم ہیں ، انہوں نے آج اپنے محتمن اعلیٰ کیساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ بھارت میں جون میں 20کروڑ آدمیوں نے مودی کے خلاف جلوس نکالا۔ جسمیں طالب علم،تاجراور کسان شامل تھے۔ 20کروڑ انسانوں کا جلوس اس سے پہلے انسانی تاریخ میں کبھی انقلاب میں بھی نہیں نکلا۔ کسان جلوس میں 700میل پیدل اپنے بیوی بچوں کیساتھ دہلی کی طرف آرہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی طالب علموں کی ہڑتال کے باعث یونیورسٹیاں بند ہیں اور طالب علم کے جلوسوں کی دہلی آمد کو کنہیا کمار لیڈ کر رہا ہے ۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ بھارت سے آنے والے لنگور کے بارے میں کیا اطلاعات ہیں ۔ جس پر جاوید ملک نے کہا کہ بھارت سے آنے والا لنگور لاہور سے آج بھی نہیں پکڑا جا سکا۔ محکمہ جنگلی حیات والوں کو لیزر گن ، جال اور دیگر سامان مہیا کیا گیا لیکن ان سے لنگور نہیں پکڑا گیا۔جس پر ضیا شاہد نے کہا کہ اس پر پولیس کو ایوارڈ دیا جانا چاہئے کہ وہ ایک لنگور کو نہیں پکڑ سکے۔ میرا خیال ہے رینجرز یا فوج کے سپرد معاملہ کر دینا چاہئے۔ جاوید ملک نے کہا کہ ہمارے اداروں کے درمیان مفاہمت ہی نہیں ہے۔ جال وغیرہ لگائے گئے اور پھر پتا چلا کہ وہ لنگور بارڈر پر پہنچ گیا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آئی ایس آئی سے کہتے ہیں کہ ایک تگڑا سا لنگور ہی ہمیں ٹرینڈ کر دیں جو پکڑا نہ جائے اور امرتسر سے ہندوستانی علاقے میں داخل کروا دیا جائے۔ کیونکہ ہم سے تو بھارت سے آنے والا لنگور پکڑا نہیں جا سکا ۔
تحریک انصاف کی حکومت کے 100دنوں کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہ سو دن کسی حکومت کو جج کرنے کے لیے بہت کم عرصہ ہے۔ حکومتیں 5سال کے لیے ہوتی ہیں۔ حکومت کے پہلے 100دن برے نہیں گزرے ، ان میں اچھی باتیں بھی ہیں اور کمزور باتیں بھی ہیں۔ کمزور باتیں یہ ہیں کہ جگہ جگہ مہنگائی بڑہی ہے اور لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ کل ہی جو لاہور میں خیمہ بستر لگے ہیں وہ بہت پرانا آئیڈیا ہے جو میں نے شہباز شریف کو اور اس سے پہلے چوہدری پرویز الہیٰ کو دیا تھا۔ خیمہ بستیوں کے افتتاح کو مذاق نہ سمجھا جائے۔ جب میں امریکا علاج کے لیے گیا تو واشنگٹن سے ہم اٹلانٹک میں روزانہ ہسپتال چیک اپ کروانے جاتے تھے۔ اس شہر میں دیکھا کہ جہاں کھلی جگہ دیکھتے تھے وہاں ٹین کے شیڈ اور دیواریں لگا کر عارضی گھر بنائے گئے تھے ، جو برف سے محفوظ رکھتے تھے۔ اس وقت وہ خالی پڑے تھے۔ امریکا کے سب سے ماڈرن شہروں میں بھی میں نے عارضی قیام گاہیں دیکھی ہیں،جہاں برفباری کے موسم میں جگہ جگہ پناہ لینے والے اسکے نیچے آکر بیٹھ جاتے ہیں۔خیمہ بستی کے افتتاح سے حکومت نے ایک بہتر قدم اٹھایا ۔ اسکے علاوہ گورنر ہاﺅسز اوروزیراعظم ہاﺅس کی شان و شوکت، پروٹوکول کو ختم کیا اور سادہ زندگی کو ترجیح دی۔ پریس کانفرنسز میں کھانے کا سلسلہ ختم کیا صرف ایک چائے کا کپ ملتا ہے۔ گورنر کے پاس بھی جائیں تو صرف چائے کا ایک کپ ملتا ہے۔ ریل پیل شروع ہوئی ہے اور میں بعض کاموں سے بہت خوش ہوں۔ آئی ایم ایف کا قرض نہیں آیا، اب اسکے بغیر کوشش کی جارہی ہے۔ مالی مشکلات کے باعث بہت ساری چیزوں کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی سے چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ بجلی ، گیس ، پانی کی قیمتیں بڑھنے سے عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے ، قیمتیں بڑھیں گی تو لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ اس ایک ایشو کے سوا حکومت کے تمام کام اچھے کام ہیں۔ عمران خان اور انکے لوگ مجھے کہتے ہیں معاشی بحران پر قابو پانے میں ہمیں 6مہینے لگیں گے۔ جب یہ ہوجائے گا تو انکا دعویٰ ہےکہ ڈالر کار یٹ نیچے آنے سے چیزوں کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔ یہ میں نہیں جانتا ، انکا دعویٰ ہے۔ 6ماہ سے ایک سال میں قیمتوں کو نارمل کرنا چاہئے اور بجلی ، گیس وغیرہ کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لیکر عام آدمی کی زندگی کو آسان کرنا چاہئے۔ لوگ حکومت کی طرف اسلئے لپکتے ہیں کہ نئی حکومت ریلیف دیگی۔ اگر نئی حکومت میں عوام کے مسائل بڑھ جائیں تو کیا صرف عمران خان کے نعرے ہی لگاتے رہیں۔ اراضی واگزار کرانے کے معاملے پر ضیا شاہد نے کہا ریڑھیاں اور چھابے لگانے والوں کے لیے متبادل انتظام ہونا چاہئے تھا، انکے روزگار کو بالکل ختم تو نہ کیا جائے۔عمران خان کو ووٹ دینے کی بات کرنے والوں کو دیکھا جائے تو نتائج کچھ اور ہی ہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کیوجہ سے ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ ، شیخوپورہ اور سیالکوٹ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دئیے ہیں۔ مرکز میں بھی جنوبی پنجاب کیوجہ سے حکومت بنی ہے۔ لاہور اور اسکے وسطی علاقوں سے ووٹ شہباز شریف اور نواز شریف کو ملے ہیں۔ مگر گھر سے بے گھر اور چھابے سے بے چھابہ ہونے والا چاہے جس پارٹی سے بھی ہے میں اسکے ساتھ ہوں۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے ممبئی حملوں کی خبر دینے والے کے لیے انعام رکھے جانے کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہامریکا کے پیٹ میں پتا نہیں کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد انڈیا کا کوئی گھسا پٹا موضوع اٹھا لیتا ہے اور پاکستان پر چڑھائی کر دیتا ہے ۔ پچھلے دنوں اجمل قصاب کے بارے میں طوفان مچ گیا ۔ کہا گیا تھا وہ پاکستان سے تھا اور اسے پھانسی بھی لگا دی گئی۔ اور اب پتا چلا کہ وہ انڈیا کا ہی رہنے والا تھا ، اسکا ڈومیسائل ، بجلی کا بل، ٹیکس اور تمام دستاویزات ثابت کرتی تھیں کہ وہ انڈیا کا شہری ہے۔ اسکے باوجود انڈیا کے پیٹ میں درد اٹھ رہا ہے کہ ممبئی حملہ کیوں ہوا تھا۔ اس حملے پر اتنی کتابیں اور انکشافات بھارت میں ہوئے جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ حملہ انڈیا کا پلان تھا جسکا رخ بعد میں پاکستان کی طرف موڑ دیا گیا۔ ہم اتنی عدالتوں میں گئے کہاں نکلا کہ حافظ سعید نے بندے بھیجے ، تمام لوگ انڈیا کے تھے اور وہیں استعمال ہوئے۔ مگر سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا گیا۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain