تازہ تر ین

پاکستان بین الاقوامی این جی اوز کو نکالنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرے ، موجودہ حکومت کی سمت درست ہے، ہماری زیادہ فنڈنگ بلوچستان میں پانی کی قلت دور کرنے پر خرچ کی جارہی ہے : سفیر یورپی یونین کی چینل۵ پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں گفتگو

اسلام آباد ( انٹر ویو: ملک منظور احمد،تصاویر :نیکلس جان) یورپی یونین کے سفیر یژاں فوانسوا کوتاں نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے انٹر نیشنل این جی اوز کو بے دخل کر کے واپس بھیجنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بین الاقوامی این جی اوز کو پاکستان سے نکالے جانے کے اقدام کا بیرونی دنیا میں برا تاثر گیا ایک طرف حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف انٹرنیشنل این جی اوز کو اپنے آپریشن بند کر کے بیرونِ ملک واپس بھیجا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت ان انٹر نیشنل این جی اوز کو پاکستان سے بے دخل کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور ہم نے یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اٹھایا ہے۔ یورپین یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس معاہدے کے بعد پاکستان کی ایکسپورٹ میں 50%اضافہ ہوا ہے ۔پاکستان اور یورپین یونین کے درمیان تجارتی حجم 17بلین یورو ہے ۔یورپی یونین پاکستان کا اہم تجارتی پارٹنر ہے اور ہم پاکستان کے اقتصادی اور مالیاتی مدد جاری رکھیں گے ۔ یورپی یونین پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری حکومت کا حامی ہے پاکستان کے ساتھ ہمارا 5سالہ پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل فائیو کے پروگرام ”ڈپلو میٹک انکلیو“ میں خصو صی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون ایک طویل عرصہ سے چل رہا ہے اور ہم دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملا ہے جس کی وجہ سے تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ہمیں پاکستان کی نئی حکومت سے بہت توقعات ہیں پاکستانی ایکسپورٹ میں 50%اضافہ خوش آئند ہے اور اس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ جس میں ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات شامل ہیں ۔ پاکستان میں ہم ترقیاتی منصوبوں کو جارہ رکھیں گے پاکستان کی معشیت کا زیادہ انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کو ترقی دے کر غربت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں حالیہ انتخابات کا انعقاد ایک مثبت پیش رفت ہے یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے اس حوالے سے 30سفارشات تیار کر کے حکومت پاکستان کو دیں ہیں ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ان سفارشات پر عمل درآمد کرے گاجس سے انتخابی عمل ملک کو شفاف ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گے ۔ پاکستان میں 2008میں عام انتخابات میں 16خواتین نے براہ راست الیکشن میں حصہ لیا تھا جبکہ 2018میں صرف 8خواتین نے براہ راست عام انتخابات میں حصہ لیا۔ یورپی یونین چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین براہ راست منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہینچے اور یہ بات ہماری سفارشات میں شامل ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت قانو ن کی حکمرانی، گڈ گورننس غربت کے خاتمے ، کرپشن اور اختیارات سے ناجائز تجاوز کے خاتمے تعلیم اور صحت اور اقتصادی ترقی کے منشور کو سراہتے ہیں ۔ حکومتِ پاکستان کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کےلئے اپنے امیج کو بہتر بنانا ہو گا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنا ہو گا تاکہ بیرونِ ملک پاکستان کے تشخص بہتر ہوسکے کیونکہ اب بھی یورپی ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین چار سالوں کے درمیان سیکورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے، دہشتگردی کےخلاف پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یورپی ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں ۔ انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کےلئے یورپی یونین اہم کردار ادا کر رہے ہیں یورپی یونین نے گزشتہ تین سال سے پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کےلئے فلم فیسٹیول کا آغاز کر رکھا ہے اور جس میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں یونیورسٹیوں کے طلباو طالبات کو ان فلم فیسٹیول میں مدعو کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان یورپی یونین مشترکہ کمیشن کا اجلاس چند دن پہلے اسلام آباد میں ہوا جس میں جمہوریت ، سیاسی اور سفارتی معاملات تجارت اور دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال ہوا جس سے یورپین یونین اور پاکستان کے درمیا ن باہمی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ یورپی یونین موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ بہت تعاون کر رہا ہے۔ اور ہماری فنڈنگ کا 20%حصہ ان موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ چلینجوں کا مقابلہ کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ پاکستان ان موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ 2050تک پاکستان کی آبادی دگنا ہو جائے گی آبادی کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں آبی قلت کو دور کرنے کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ہم بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر پانی کی کمی کو دور کرنے کےلئے مختلف منصوبوں پرکام کر رہے ہیں ۔ ہماری زیادہ فنڈنگ بلوچستان میں پانی کی قلت کو دور کرنے پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ یورپی یونین کے سفیر کا کہنا تھا کہ مجھے موجودہ حکومت کی سمت درست نظر آرہی ہے اگر شہری ٹیکس نہیں دیں گے تو حکومت لوگوں کو کیسے سہولیات دے سکتی ہے۔ موجودہ حکومت اقتصادی اور معاشی مشکلات سے نپٹنے کےلئے کافی اقدامات کر رہی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت اقتصادہ بحران پر قابو پا لے گا۔ پاکستان کے ساتھ ہم لانگ ٹرم تعلقات چاہتے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain