لاہور (شعیب بھٹی )پا کستان کے مختلف مقاما ت پر نا با لغ لڑ کیو ں کو فیس بک پر جعلی اکاﺅنٹ بنا کر دوستی کی اور بعد ازاں ان کو اپنے عارضی ٹھکانوں پر بلانے کے بعد نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کر کے دوسرے شہر میں لاکھوں روپے لیکر فروخت کرنے والا ”خواجہ سرا “ گےنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔ جبکہ ےہ گرو ہ اسلحہ فرو خت کر نے اور ڈ کےتی کر نے کے مقد ما ت میں بھی ملو ث پا یا گیا ہے ۔ پو لیس کی جا نب سے کمزور گرفت کے با عث بعد حساس ادارو ں نے تفتےش کا دا ئر ہ وسع کرتے ہو ئے تحقیقات کا شروع کردی ہیں ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ پا کستان کے مختلف علاقوں اور خصو صی طو ر پرپنجا ب اور سند ھ کے شہروں ِلاہور ، فیصل آباد ، ملتا ن ،شیخوپورہ، جہلم ، سکھر سمےت کراچی میں سنگین وارداتیں کرنے والے ”خواجہ سرا “گےنگ نے پولیس کو چکرا دیا۔ پولیس جدید انویسٹی گیشن سہولیات، آلات اور دیگر مراعات کے باوجود گینگ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔جس کے با عث حسا س ادارو ں نے تفتےش کا دا ئر ہ وسع کرتے ہو ئے تحقیقات کا شروع کردی ہیں۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ خواجہ سراﺅں کے بھیس میں اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی اور قتل کی 59 سنگین وارداتوں میں ملوث 20 سے 25رکنی گینگ نے پولیس کو لوہے کے چنے چبوا دیے ہیں۔ لاہور کے علاقوں ڈیفنس، نشتر کالونی، شادمان، سمن آباد، ملت پارک، اچھرہ، لوئر مال، ٹبی سٹی اور شفیق آباد تھانوں میں گینگ کے خلاف مختلف نوعیت کے پندرہ مقدمات درج ہیں۔خواجہ سرا گینگ کے خلاف فیصل آباد میں 11، خانیوال میں 6، اوکاڑہ میں 9، شیخوپورہ میں 4، جہلم میں 3، سکھر میں 10، کراچی میں 18 اور ملتان میں 12 مقدمات درج ہیں جبکہ گینگ کا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کر کے دوسرے شہروں میں فروخت کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ذرا ئع کا مزید کہنا ہے کہ حساس ادارو ں کی جانب سے اعلیٰ پولیس افسروں کو بھجوائی گئی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ خواجہ سرا کا روپ بدل کر سنگین وارداتیں کرنے والا گینگ عرصہ سے کئی شہروں کی پولیس کو انتہائی مطلوب ہے۔ اس گینگ کے ارکان کا تعلق فیصل آباد، سرگودھا روڈ اور چک جھمرہ سے ہے۔ یہ گینگ پہلے نوسر بازی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث تھا جس کے بعد اس نے پارا چنار کے خطرناک پٹھان گروپ سے تعلق بنا لیا۔ پٹھان گروپ خواجہ سرا گینگ کو اسلحہ اور معلومات فراہم کرتا ہے۔ پٹھان گروپ کا لیڈر شیر زاد خان بتایا جاتا ہے جس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔خواجہ سرا گینگ کے ارکان جسمانی طور پر مضبوط ہیں، چالاکی سے واردات کرتے ہیں اور نشانہ بازی کی بھی مہارت رکھتے ہیں۔ تمام ارکان کے رنگ سفید اور قد درمیانے ہیں۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ مذکو ر ہ گرو ہ نے چند سال قبل معروف سیاسی شخصیت کے قریبی عزیز فیصل آباد کے مشہور تاجر کے بنگلے واقع پیپلز کالونی میں کروڑوں کی واردات کی تھی۔ ذرا ئع کا مزید کہنا ہے کہ مزکو ر ہ واردات کے بعد پو لیس نے گینگ کے دیگر ارکان سے ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں پوچھ گچھ کی اور ملزموں کا سراغ لگا کر چک جھمرہ کے نواحی گاو¿ں سے گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد معلوم ہو ا کہ مر کزی ملزموں کے اصلی نام فیصل احمد خان اور سلیمان ہیں جو تعلیم یافتہ بھی ہیںاور بے روز گا ر ی کی وجہ سے اس گینگ میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے دونوں ملزموں کی جیل میں پارا چنار کے پٹھان گروپ کے گینگ سے ملاقات ہوئی۔ جب جیل سے رہا ہوئے تو انہوں نے پارا چنار کے خطرناک گینگ کے ساتھ سنگین وارداتیں کرنا شروع کر دیں۔جبکہ اس حوالے سے ےہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد تھانہ گلبرگ میں چند سال قبل تعینات ایک پولیس بھی اس گینگ کا حصہ بن گیا۔ خواجہ سرا گینگ نے مختلف شہروں میں بھیس بدل کر اور پٹھان گروپ سے مل کر فیصل آباد کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، سکھر، لاہور، ملتان، اوکاڑہ، خانیوال، کراچی اور دیگر شہروں میں چوری ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کیں۔اس حوالے سے مزکور ہ گینگ کے خلا ف در ج مقد ما ت کی پو لیس ر یکا رڈ کے مطا بق تفصیل ہے کہ لاہور میں 15، سکھر 10، کراچی 18، ملتان میں 12 مقدمات درج ہیں ، اس کے علاوہ گروہ نے کراچی، لاہور، جہلم اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی کئی لڑکیوں سے فیس بک پر جعلی اکاﺅنٹ بنا کر دوستی کی اور بعد ازاں ان کو اپنے عارضی ٹھکانوں پر بلانے کے بعد نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کر کے دوسرے شہر میں لاکھوں روپے لیکر فروخت کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے گروہ نے کئی مغوی افراد کو تاوان نہ ملنے پر قتل بھی کیا۔پو لیس کی جا نب سے گرفتا ر ی عمل میں نہ لا ئی جا نے کے بعد مزکور ہ گرو ہ پر حساس ادارو ںنے تحقےقات شروع کردی ہیں۔





































