لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پرگرام ”ہاٹ لنچ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سی ٹی او لاہور کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی نے کہا ہے کہ ٹریفک نظام میں اصلاحات جاری ہیں۔ شہریوں کی جانوں کی حفاظت کرنا ہماری ترجیح ہے۔ چالان یا ویڈیو اکٹھا کرنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔ ای چالان الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ہے۔ سڑکوں پر لگائے گئے کیمروں میں سگنلز آنے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز بن جاتی ہے۔ اس سسٹم کا فائد یہ ہے کہ سڑکوں سے وارڈنز اور شہریوں کے پیج جھگڑے ختم ہوگئے، لوگوں نے سگنلز کی پابندی شروع کردی۔موٹر سائکلیں اور گاڑیاں اپنے نام کرانا شروع کردیں۔محکمہ ایکسائز میں کنتا ڈیٹا موجود ہے، سامنے آرہا ہے۔ لاہوریوں کے تعاون سے ای چالان سسٹم کا باب رہا ہے اس سسٹم میں مزید بہتری لائینگے۔ ہیلمٹ کی پابندی آج کی نہیں 1965کا قانون ہے اس لیے اب سختی سے عملدر آمد کرایا کہ اس میں شہریوں کی اپنی بھلائی ہے۔ ہیلمٹ پر سختی کا نتیجہ یہ ہے کہ 80سے 90 فیصد حادثات میں لوگ سر کی جان لیوا چوٹ سے محفوظ ہیں۔ 3ماہ تک ہیلمٹ کیلئے کمپین کی شہریوں نے نہ خریدے سختی ہوئی تو دھرا دھر خریدنے لگے جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ڈی سی کو درخواست بھیجی ہے کہ ہیلمٹ کی قیمت کنٹرول ریٹ پر اور معیار یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ شہریوں کی ٹریفک قوانین سے آگاہی کیلئے پروگرام دیتے ہیں۔ ہمارا یک ایجوکیشن یونٹ ہے کس کے ساتھ خود درسی گاہوں میں جاکر طالبعلموں کو لیکچر دیتا ہوں۔ 5ماہ میں 1لاکھ سے زائد طالبعلموں کو لیکچر دے چکے ہیں۔ 60ہزار ڈرائیوز کو بھی ٹریفک آگاہی پر لیکچرز دیے گئے۔ 3ماہ سے الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ہماری کمپین چل رہی ہے۔ 2006 میں 450گاڑیوں کیلئے ایک وراڈن تھا اب 1675 گاڑیوں کیلئے ایک وارڈن ہے نفری کی کمی کے باوجود ہم نے کبھی کام نہ کرنے کا بہانہ نہیں بنایا۔ ٹریفک وارڈن کی 8گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ ایمرجنسی میں ڈیوٹی اوقات بڑھ سکتے ہیں۔ ہم نے سفارش کی ہے کہ ڈینگی مہم کی طرح ٹریفک پولیس کا بھی کلاسز میں ایک پیریڈ رکھا جائے تاکہ بچوں کی شروع سے ہی تربیت کی جاسکے۔کرپشن پر ہمارا کوئی سمجھوتہ نہیں، ٹریفک وارڈنز میں 99فیصد کرپشن میں ملوث نہیں، پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے حکومت ہمیں اپنے وسائل کے مطابق ہی فنڈز دے سکتی ہے اس لئے انہیں فنڈز کو ہی ہم نے بہتر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ خود اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کم عمری میں ڈرئیونگ کریں جس سے انہی کے بچوں کی جان خطرے میں ہوتی ہے۔ ویلنگ کرنے والوں کا اس باعث بھی پیچھا نہیں کرتے کہی وہ ڈر کے باعث حادثات کر بیٹھے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس بارے سختی کررہے ہیں اس پر بالکل معافی نہیں ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر لائسنس بنوالے کے حوالے سے واضع اور آن لائن طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ ٹیسٹ کے بغیر اب لائسنس کسی صورت نہیں بن سکتا۔ شہر کی پارکنگ سے ٹریفک پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی احتجاجی دھرنے کی صورت میں سڑکیںبند ہونے کا ذمہ دار ٹریفک پولیس ہے۔ ٹریفک پولیس میں اصلاحات جاری ہیں۔ ای چالان کے بعد ایک ای ٹکٹنگ کی جانب جائیں گے۔ شہریوں کیلئے پیغام ہے کہ ٹریفک پولیس آپ کی ہے آپ کی جانوں کی حفاظت کیلئے ہے اس لئے ان سے جھگڑا نہ کریں۔ خود ٹریفک قوانین سے آگاہی حاصل کریں کہ مہذب قوموں کا ان کے ٹریفک کے نظام سے ہی پتہ چلتا ہے۔





































