تازہ تر ین

حکومت جتنے مرضی کارنامے انجام دے،معیشت سب پر پانی پھیر سکتی ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ معیشت کے معاملے میں موجودہ حکومت کا ریکارڈ کافی خراب ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں اس حکومت نے بہت سے اچھے اقدامات کئے ہیں وہاں ابھی تک معیشت کے معاملات پر کسی بھی طور پر قابو نہیں پا سکی۔ لگتا ہے کہ ہر آنے والا دن بلکہ آنے والا گھنٹہ اور منٹ جو ہے معیشت کے ضمن میں ہمارے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ دنیا کی ساری باتیں ایک طرف اور خراب معیشت دوسری طرف، جس پر عوام یہ کہتے ہیں کہ اچھا پچھلی حکومتیں بقول آپ کے خراب تھیں انہوں نے زیادہ قرضے لئے تھے لیکن کچھ تو آسانی تھی لیکن موجودہ حکومت اپنے اس موقف کو واضح نہیں کر سکی اور معیشت کی موجودہ صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ عوام کی مشکلات کا جو اضافہ ہو رہا ہے اس کا خیال کرنا ہو گا ورنہ حکومت خواہ کتنی ہی دعوے اور کتنے ہی میدان ایسے ہوں جن میں ان کی کارکردگی بہتر رہی ہو وہ ساری کارکردگی ایک طرف اور خراب ہوتی ہوئی معیشت دوسری طرف ہے۔ جن چیزوں پر فخر کیا جاتا تھا اب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے پرانے لوگ کھا گئے انہوں نے بہت قرضے لے لئے یا انہوں نے بہت لوٹ مار کر لی یا قرضے سے بنی ہوئی سکیموں سے پیسے زیادہ نکال لئے لیکن عام اادمی کی صورت حال جو تھی وہ حال کے مقابلے میں بہت بہتر تھی اور اس کو مہنگائی اور خراب معیشت کا سامنا نہیں تھا۔ موجودہ حالات میں حکومت کتنے ہی دعوے کر لے کہ فلاں فلاں میدان میں کوئی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے تو بھی خراب معیشت ان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے ایک طرف عمران خان بار بار یہ اعلان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آصف زرداری صاحب جیل میں ہوں گے دوسری طرف عدالتیں ہیں ان کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ روزانہ 7,5 یا 10 کیسز میں آصف زرداری کی ضمانت ہو رہی ہوتی ہے یا پچھلی ضمانتوں میں توسیع کی جا رہی ہوتی ہے۔ یہ ایک تضاد ہے۔ حکومت کے رویے میں کیونکہ عام آدمی جو ہے وہ عدالت کو بھی، نیب کو بھی حکومت سمجھتا ہے وہ ان کو علیحدہ علیحدہ نہیں سمجھتا کہ جناب عدالت الگ چیز ہے حکومت ایک الگ چیز ہے۔ سمجھا یہی جاتا ہے کہ بہت مقتدرہ جو کچھ کرتی ہے وہ بنیادی طور پر اس میں تضاد نظر ااتا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب مزید ثبوت، مزید دلائل، مضبوط جے آئی ٹیز سامنے نہ آئی ہوں جو بڑی بڑی شخصیات جیسے نوازشریف، حمزہ شہباز، شہباز شریف اوور ان کے دوسرے عزیز و اقارب کو مطعون قرار نہ دے رہی ہوں کہ انہوں نے کس طرح منی لانڈرنگ کی اور پیسہ باہر بھجوایا۔ دوسری طرف آصف زرداری کے فرنٹ مینوں نے جو گرفتار بھی ہو چکے ہیں کس طرح سے اس ملک سے لوٹ مار کی اور وہ اپنے پیسے باہر بھیجے لیکن دوسری طرف جو پکڑ ہوتی ہے اگر یہ سب کچھ کہا تھا تو حکومت کس کی ہے عام آدمی پوچھتا ہے کہ حکومت عمران خان کی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں یہ پھر آزاد کیوں گھوم رہے ہیں اور ان کی ضمانت پر ضمانت کیوں ہو رہی ہے اس تضاد کے بارے میں تجزیہ کاروں کی کیا رائے ہے۔
وزارتوں میں تبدیلی کے بعد مزید کیا تبدیلی ہو سکتی ہے کہ بہتری کا امکان ہو اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی کابینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں یا تو دانستہ طور پر ایسا کرتے ہیں یا ان کی سمجھ ہی اتنی ہے کہ جیسے فواد چودھری کے بارے ارشاد عارف صاحب نے بھی آپ دیکھتے کہ ابھی تو چاند نکلنے کا عید کا چاند نکلنے میں بڑی دیر ہے ابھی تو شاید یہ آج کا ایشو بھی نہیں تھا فواد چودھری نے اوپر نیچے ایسے بیانات دیئے اور علمائ کو کارنر کیا کہ 40 لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں 40 لاکھ روپے اگر واقعی بڑی رقم ہے کہ یہ چاند دیکھنے پر صرف ہوتی ہے اس کو ختم ہونا چاہئے پھر تو 40 لاکھ بچا کر بہت اچھا کیا۔ اگر بچا لئے ہیں انہوں نے ابھی تو اس پر بڑی بحث ہونی ہے لیکن بلاوجہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملک میں یہ ایسے طبقے کو جو حکومت کے خلاف بھی نہیں ہے اس کو کس طرح سے خلاف کیا جا رہا ہے اورجو ہمارے نادان دوست ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت اور پارٹی کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے دوستوں کو ہمارے کیبنٹ ممبرز کو تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ اس وقت تو ان کی اپنی حکومت ہے لہٰذا وہ کم سے کم متنازعہ چیزوں کو چیئرمین اور اپنے اور حکومت کے لئے مزید مسائل پیدا نہ کریں۔ بیٹھے بیٹھے اس کی ضرورت کیا تھی۔ اگر ہم چاند کا مسئلہ حل کر لیں گے سائنس کی مدد سے تو کر لیجئے گا اس کا پہلے سے ڈھنڈورا پیٹنا ضروری ہے کیا اس میں مولوی حضرات کو مطعون کرنا بھی ضروری ہے۔ کیا پورے سسٹم کو تلپٹ کرنے کے لئے اپنے خلاف محاذ کھلوانا بھی ضروری ہے۔ یہ عمران خان صاحب کو جو ان کے گلیڈی ایٹرز ہیں ان کے اور جو ہر وقت ہاتھ میں تلوار لے کر ہر شخص کے سر پر تلوار کا وار کرنے سے باز نہیں آتے ان کو چاہئے کہ ان کو ذرا سکون سے چلنے دیں۔ ایک پرانا محاورہ ہوتا ہےکہ سوئے ہو?ں کو سویا رہنے دو، پہلا موقع ہے کہ حکومت میں ہر چوتھے دن کوئی کنٹرورسی شروع کی جاتی ہے ایک دو یا چار طبقات کو حکومت کے خلاف کیا جاتا ہے۔ عمران خان صاحب اس صورت حال کا نوٹس لیں۔ آصف زرداری کا بیان کہ حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ ضرور چلائیں اپوزیشن کو حق حاصل ہے وہ جب چاہے تحریک چلائے لیکن آصف علی زرداری صاحب کا تحریک چلانا اس لئے متنازعہ ہو گا کہ اب جتنی جے آئی ٹی رپورٹس ہیں جتنے مقدمے ہیں جتنی نیب کی تحقیقات ہیں وہ سب ان کے خلاف جا رہی ہیں اور وہ اصل معاملے کا کوئی جواب دینے کو تیار نہیں وہ غیر متعلق باتیں کر رہے ہیں کبھی کہتے ہیں 18 ویں ترمیم میں دخل دیا جا رہا ہے کبھی کہتے ہیں سندھ کے صوبائی معاملات میں دخل اندازی ہو رہی ہے کبھی کہتے ہیں صدارتی نظام لایا جا رہا ہے بار بار عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم صدارتی نظام لا رہے ہیں نہ ہم نے بات کی ہے۔ ایسے نان ایشوز ان کو چھیڑا جا رہا ہے جو دراصل ایشوز ہے ہی نہیں۔سارا ملک اس طرف لگا ہوا ہے کہ ان ان پارٹیوں پر یہ یہ الزام ہے اور عدالتیں ان کو ریلیف دینے پر لگی ہوئی ہیں۔ میری سمجھ میں تو نہیں آتا۔ نیب والے کہتے ہیں کہ ہم ریفرنس کے لئے تیار ہیں ہم نے جے آئی ٹی بھی بنا لی تحقیقات بھی کر لی۔ اعداد و شمار بھی جمع کر لئے وعدہ معاف گواہ بھی بنا لئے دوسری طرف آپ مسلسل ملزموں کو ریلیف پر ریلیف دیئے جا رہے ہیں۔
آصف زرداری سندھ میں حکومت مخالف تحریک چلا سکتے ہیں، وہاں ان کی حکومت ہے اور پارٹی بھی مضبوط ہے، باقی تینوں صوبوں میں بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ پیپلزپارٹی سرکوں پر بڑے مظاہرے کرنے میں کامیاب نہیں ہو گی پنجاب میں بھی کچھ لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ بلاول بھٹو نازونعم میں پلے بڑھے ہیں،کبھی کوئی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کیا۔ والدین کی بے شمار دولت ان کے لئے کافی ہے، ان میں انگاروں پر چلنے کی صلاحیت فی الحال تو نظر نہیں آتی۔ نوازشریف اور آصف زرداری کیلئے مشکلات موجود ہیں جن میں کمی کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آ رہی تبدیلی ایک عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، نیب سمیت تمام اداروں میں مثبت تبدیلیاں لائی جانی چاہئیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved