تازہ تر ین

12روپے کی روٹی 20کانان ،غریب کہاں جائیگا ،وزیر اعلی نوٹس لیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان نے جو 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا تو اس میں دوچار بار خبریں آئیں بھی لیکن معلوم ہوتا ہے اس طرف توجہ دی جا رہی ہے اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے اگر وہس میں کامیاب ہو گئے 50 لاکھ گھر تو بہت دور کی باتت ہے 5 لاکھ میں بھی کامیاب ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو امید اور حوصلہ پیدا ہو گا پھر اس کے لئے اور زیادہ وسائل بھی بہم پہنچائے جائیں گے کیونکہ پوری دنیا میں ہاﺅسنگ کا جو سیکٹر ہے سارے کا سارا لون پر چلتا ہے بڑے بینک اور جو بڑے بڑے ادارے جو ہیں امریکہ، برطانیہ میں ہر جگہ لون پر گھر ملتا ہے جب قسطیں ختم ہو جاتی ہیں تو گھر آپ کا ہو جاتا ہے۔ آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ روٹی اور نان مہنگے ہو گئے اور 20 روپے کا نان اور 15 روپے کی روٹی چلی گئی ہے دوسری طرف ایک وزیر کا کہنا ہے کہ ہم یہ قیمتیں نہیں بڑھنے دیں گے جبکہ تنوروں والے اور نانبائی کہتے ہیں کہ ہم جس ریٹ پر حکومت کہتی ہے سابقہ نرخوں پر ہم روٹی اور نان فروخت کر سکتے ہیں۔ روٹی تو انسان کی ضروری ترین چیز ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وزراءکو شہری انتظامیہ کو طلب کریں اور یہ نانبائی کے نمائندوں اور فلور ملوں کے نمائندوں کو بلانا چاہئے اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے۔ جائزہ نیا ہو گا کہ جتنی چیزوں میں اضافے ہوئے ہیں کیا روٹی نان کی قیمت میں اصافہ اس اعتبار سے جائز ہے۔ ہو سکتا ہے کہ 10 پیسے کا اضافہ ہوتا ہے آپ ایک روپیہ کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس پر سارے فریقوں کو بلا کر ریٹ طے ہونے چاہئیں تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ چیئرمین سینٹ پر عدم اعتماد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کسی قانون دان سے پوچھنا چاہئے کہ ان سے پوچھ لیں کہ اگر سیکرٹ الیکشن ہے تو اس کے چانسز ہو سکتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے وہ لووگ بھی اس وقت کہہ رہے ہیں کہ ہم ووٹ دیں گے رہبر کمیٹی نے بھی حاصل بزنجو صاحب کا نام دیا ہے میر حاصل بزنجو صاحب بڑے معروف سیاستدان ہیں بلوچستان کے تاہم کیا ان کو جو لوگ ووٹ دے رہے ہیں اگر تو وہ کھل کر سب کے سامنے ہیں پھر ان کی پوزیشن محفوظ ہو گی لیکن اگر سیکرٹ بیلٹ ہے تو اس میں بڑی گنجائش موجود ہے کہ کچھ لوگ وہ کھسک جائیں گے۔ عددی برتری تو بزنجو صاحب کی ہے لیکن پتہ نہیں ہوتا فاٹا کے جو ارکان ہیں وہ ملے ہیں صادق سنجرانی صاحب سے۔ اس کے علاوہ ہو سکتا ہے بعض پارٹیوں سے ذاتی طور پر لوگ آگے پیچھے ہو جائیں اگر سیکرٹ بیلٹ ہو ان کو زیادہ سہولت ہو گی۔ میرے خیال میں ان ساری چیزوں کا اب چند روز ہیں کافی چیزیں سامنے آ جائیں گی اس لئے کہ بجائے قیاس اارائیوں کے اب تو اصل حقائق سامنے آنے ہیں اور دو اور دو چار ہونے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ ریلوے کا حادثہ بڑا افسوسناک ہے کہا جاتا ہے شیخ رشید نے اپنی وزارت میں آنے کے بعد بڑی بھاگ دوڑ کی اور محنت سے کام کیا البتہ خواجہ سعد رفیق کے زمانے کے جن افسروں کو انہوں نے سائیڈ لائن کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ریلوے کے اندر بھی کوئی سیاست چل رہی ہے اور کیوں اسش قسم کے واقعات پیش آتے ہیں جس میں ایک نہیں چار چار لوگوں کے پاس یہ معلومات ہوتی ہیں کہ کس پٹڑی پر کون سی گاڑی کھڑی ہے پر 4 جگہوں پر یہ معلومات ہیں جس میں سٹیشن ماسٹر بھی ہے جس میں دوسرے لوگ بھی ہیں پھر یہ واقعہ کیوں پیش آیا اب اس کی تحقیقات ہو تو پتہ چلے کہ خدانخواستہ کسی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی تو نہیں ہے۔ یا پھر جان بوجھ کر ایک وزارت کو رسوا کرنے کا بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ ار جن لوگوں نے پلان کیا ہوا ہے ان کو تو کوئی نقصان پہنچا وہ تو گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن اتنا جانی نقصان ہو گیا۔ ایک صحیح اور کڑی نگرانی اور انکوائری بتا سکتی ہے کہ یہ کیا واقعہ تھا اور کیوں پیش آیا۔ موجودہ چیئرمین بنے تھے تو پیپلزپارٹی نے تعاون کیا تھا اب ان سے کون سی غلطی سرزد ہو گئی ہے کہ ااپ ان کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved