تازہ تر ین

بھارت یکطرفہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا،مسئلہ کشمیر کا حل عالمی ذمہ داری ہے،سلامتی کونسل نے ہماری حمایت کردی، عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر دو ٹوک موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے ،بھارت یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا،کشمیر کے معاملے پر پاکستان سفارتی محاذ پر درست سمت میں آگے بڑھا ہے،سنگین معاملے پر پر دوست ممالک کی حمایت پر شکر گزار ہیں،پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا،دنیا کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف سن اور سمجھ رہی ہے۔ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان سے ڈاکٹر بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں کشمیر سے متعلق عالمی صورت حال اور قانونی معاملات پر مشاورت پر بات چیت کی گئی ،ملکی تازہ سیاسی، قانونی اور آئینی امور پر بھی گفتگوکی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا،دنیا کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف سن اور سمجھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان سفارتی محاذ پر درست سمت میں آگے بڑھا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگین معاملے پر پر دوست ممالک کی حمایت پر شکر گزار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گزشتہ روز تفصیلی بات ہوئی،امریکی صدر معاملے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، کریک ڈاو¿ن اور ممکنہ نسل کشی کے خدشے سے آگاہ کر دیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر دو ٹوک موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے ،بھارت یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔بابر اعوان نے کشمیر کاز کے لئے وزیراعظم کے دلیرانہ اقدامات کو سراہا۔بابر اعوان نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر لے جانا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بھارت کے بیانیہ کو شکست ہوئی،عالمی فورم پر اس شرمندگی کے خلاف خود بھارت سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے جے پی حکومت کو کشمیر کا معاملہ اقوام عالم تک پہنچنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنجیدہ صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 50 برس میں پہلی بار ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر بات کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے پر زور دیا گیا، حالیہ اجلاس ان قراردادوں کی نئے سرے سے توثیق تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کی مشکلات کا تدارک کرنا اس عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل یقینی بنائے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 50 سال میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، کشمیریوں کی تکالیف کا ازالہ کرنا اور تنازعے کا حل عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سےقانون داں بابر اعوان کی ملاقات ہوئی جس میں کشمیر سے متعلق عالمی صورتحال اور قانونی معاملات پر مشاورت ہوئی، ملاقات میں سیاسی، قانونی اور آئینی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کمزور طبقے کی مدد کرنا ہمارا ویژن ہے، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔اسلام آباد میں خصوصی افراد کے لیے صحت سہولت پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوموں کے بھی نظریے ہوتے ہیں، پاکستان کا بننا ایک عظیم خواب تھا۔ ہم اس سے بہت دور چلے گئے ہیں، واپس اسی ویژن پر آنا ہے، نوجوانوں کے لیے بار بار یہ دہراتا ہوں کہ یہ عظیم خواب کیا تھا، پاکستان بننے کا کیا مقصد تھا۔ ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانا تھا جو مدینہ کی ریاست پر عمل پیرا ہونے سے ہی بن سکتا تھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں لوگ غریب تھے، جنگ کے دوران 313 لوگوں (صحابہ) کے پاس ہتھیار نہیں تھے، نبی پاکؓ دنیا کے بہترین انسان تھے، لوگوں کو سٹیو جابز اور بل گیٹس کو نہیں نبی پاکؓ کی زندگی کو پڑھنا چاہیے۔ سب کو کہنا چاہتا ہوں انہی کی زندگی سے سیکھیں، ہم سے پہلے لوگوں نے عمل کر کے دکھایا اور ہزار سال تک مسلمانوں کے پاس حکمرانی رہی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانیت کا نظام لانا چاہتے ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے غریب لوگوں کو بھی برابری کے حقوق دیں، ہم کوشش کریں گے غریبوں اور کمزور طبقے کو اوپر لانا اور انکی مدد کریں، یہ احساس پروگرام کے ذریعے مدد کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بیگ پر پابندی مہم میں عوام کا مثبت ردعمل نہایت حوصلہ افزا ہے ماحولیات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ماحول کے تحفظ کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات میں ہرطبقے کی شمولیت کو یقینی بنانا عوام میں اس بارے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کوہدایت کی ہے کہ ماحولیات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے مختلف اقدامات میں ہر طبقے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے وفاقی دارالحکومت کو ماڈل سٹی بنایا جائے اور اس مہم کو ملک کے دیگر شہروں تک پھیلایا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیرکی تشویشناک صورتحال دیگرسیاسی سرگرمیاں محدودکردیں ، وزیراعظم کا حکومتی کارکردگی اور سلامتی کونسل میں کشمیر ایشو پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق قوم کو آگاہ کرنے کیلئے آج قوم سے خطاب بھی موخر کردیا تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرکی تشویشناک صورتحال وزیراعظم عمران خان کی ترجیح بن گئی اور عمران خان نے دیگر سیاسی سرگرمیاں محدود کردیں اور آج ہونے والا دورہ لاہور منسوخ کرنے کے ساتھ آج قوم سے خطاب بھی موخر کردیا آج قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے حکومتی کارکردگی اور سلامتی کونسل میں کشمیر ایشو پر ہونے والی پیش رفت اور تازہ ترین علاقائی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینے کے ساتھ آگاہی فراہم کرنا تھی ذرائع وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فوری طور پر قوم سے خطاب نہیں کریں گے۔وزیر اعظم آج بھی عالمی رہنماوں اور مختلف سربراہان مملکت سے رابطے کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بننے کے لئے نہیں بلکہ ریاست مدینہ کے اصولوں اور شریعت پر عمل درآمد کے لئے بنا تھا، ماضی کے سربراہ حکومت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی باتیں کرتے تھے،کسی کا وژن صرف یہی تھا کہ لاہور کو پیرس بنانا ہے، ریاست مدینہ رحم، عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم کی گئی تھی، ان اصولوں پر عمل کرنے سے ہی اللہ پاکستان کو اٹھائے گا ، پاکستان جس وژن پر بنا تھا ہم اس سے بہت دور چلے گئے ہیں، ہمیں واپس اسی وژن پر آنا ہے، ہمارے لیے بہت اہم ہے کہ غربت کی لکیر کے نیچے افراد کو ہیلتھ انشورنس دیں،مجھے ہر ہفتے، ہر وزارت ایک چیز ضرور بتائے گی جو وہ کرے گی اور اس سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہوگی۔وہ ہفتہ کو یہاں خصوصی افراد کےلئے صحت سہولت پروگرام کے آغاز کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ڈاکٹر ظفر مرزا بھی تقریب میں موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افراد کی طرح قوموں کا بھی وژن ہوتا ہے، پاکستان بھی ایک وڑن کے تحت بنا، جبکہ اس سے دور چلے گئے، پاکستان نے مدینہ کی ریاست کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا،ریاست مدینہ جدید وژن کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی، ریاست مدینہ انسانیت اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہوئی تھی، حضور انسانیت کے معراج تھے، یونیورسٹیز میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو پڑھایا جائے گا، پاکستان کو ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں رحم، انصاف اور انسانیت ہو، صحت سہولت اور احساس پروگرامز ریاست مدینہ کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے، احساس پروگرام سوچ سمجھ اور مکمل تیاری سے شروع کیا جا رہا ہے، بیماری غریب کو مزید غربت میں دھکیل دیتی ہے، 25 سے 40فیصد لوگ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، جس معاشرے میں غربت اور نادار کےئے رحم نہ ہو وہ تباہ ہو جاتے ہیں، ہمارا وژن تمام غریب افراد کو صحت بیمہ پروگرام میں لانا ہے، ہر وزارت کےلئے لازمی کر دیا گیا ہے کہ وہ عام افراد کےلئے اقدامات کی رپورٹ دے، ہم نے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے،کوئی کہتا تھا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر اور لاہور کو پیرس بنادوں گا، پاکستان ایشین ٹائیگر بننے کےلئے معرض وجود میں نہیں آیا تھا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ غریبوں کےلئے آسانیاں پیدا کرے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved