تازہ تر ین

روزانہ سیب کھانے کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

ٹوکیو(ویب ڈیسک)روزانہ ایک سیب کھانے کی عادت نمونیا کو آپ سے دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود وٹامن سی جراثیموں کے خلاف جسمانی مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے جس سے نمونیا سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیکٹریا ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کو استعمال کرکے جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں جس سے نمونیا کا خطرہ بڑھتا ہے۔ہائیڈروجن پرآکسائیڈ عام طور پر ہیئر کلر یا صفائی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے اثرات سے بچانے میں وٹامن سی اہم کردار ادا کرتا ہے جو پھلوں میں پایا جاتا ہے، اس حوالے سے سیب کافی اہمیت رکھتا ہے۔سیب ایک جادوئی پھل ہے جو اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، فائبر اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے جس کی دنیا بھر میں ساڑھے 7 ہزار سے زائد اقسام دستیاب ہیں۔یہ پھل صحت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ اس کے ساتھ مٹھاس کی خواہش کو بھی پوری کرتا ہے جبکہ پیٹ کو بھرنے میں میں بھی مدد دیتا ہے۔اس سے قبل رواں سال جولائی میں آسٹریا کی گراز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک عام سیب میں 10 کروڑ سے زائد بیکٹریا ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ جراثیم صحت مند معدے کے ماحول کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسے سیب جن پر کیڑے مار ادویات کا استعمال نہ ہوا ہو، وہ دیگر سیبوں کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ کروڑوں جراثیم معدے کو صحت مند رکھتے ہیں جس سے الرجی کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دماغی صحت میں بہتری آتی ہے جبکہ صحت کو دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر سیب میں ہی بیکٹریا کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے مگر اورگینک سیب (کیڑے مار ادویات سے محفوظ) میں یہ بیکٹریا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔2016 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک کیلا یا ایک سیب خون کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے لاحق ہونے والے امراض سے موت کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم کردیتا ہے۔تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پھل تازہ ہونے چاہئے کیونکہ پراسیس شدہ پھل میں سے بیشتر طبی فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران چین کے 5 لاکھ کے لگ بھگ بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ چینی شہریوں میں پھلوں کے استعمال کا رجحان کافی کم ہے۔محققین کے مطابق پھلوں کے کم استعمال کی وجہ سے پھلوں کے استعمال اور ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ کم ہونے کے حوالے سے جانے میں مدد ملی اور خاص بات یہ ہے کہ وہ لوگ پراسیس کی بجائے تازہ پھلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ان پھلوں میں پوٹاشیم، فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ان مہلک امراض کی روک تھام کیسے کرتے ہیں۔محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اکثر پھلوں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں امراض قلب یا فالج کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے تو روزانہ کسی ایک پھل کو کھانا عادت بنالینی چاہئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved