تازہ تر ین

رات کے وقت بھارتی فوجی کیمپوں سے کشمیریوں کی دردناک چیخ و پکار کشمیریوں کیساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ دل دہلا دینے والے انکشافات

،سرینگر(ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے ضلع شوپیاں کے مختلف دیہات سے نوجوانوں کو گرفتار کر رکھا ہے اور انہیں دیگر لوگوں کیلئے نشانہ عبرت بنانے کیلئے فوجی کیمپوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رات کے وقت بھارتی فوجی کیمپوں میں نظربند کشمیریوں کی چیخ و پکار کی ا?وازیں سنائی دیتی ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شوپیاں کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے 24کے قریب کشمیری نوجوانوں نے میڈیا کو انکے ساتھ فوجی کیمپوں میں روا رکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک کے بارے میں بتایا ہے۔ شوپیاں کے ایک رہائشی جنہوں نے متاثرہ کشمیری نوجوانوں کیایک فہرست تیار کی ہے بتایا کہ فوج ہر گاﺅں کے دو سے تین نوجوانوں کو دوسروں کیلئے نشانہ عبرت بنا رہی ہے۔ ضلع شوپیاں کے گاﺅں ہرپورہ کے رہائشی عابد خان نامی ایک شہری نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں پر ظلم و تشدد کا مقصد بھارت کی طرف سے 5اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کئے جانے کے بعد مقبوضہ علاقے میں خوف وہراس کا ماحول قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجیوں نے انہیں اوران کے بھائی کو14اگست کو گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکالا اور ا?نکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ عابد نے بتایا کہ فوجیوں نے اس کے بھائی کو بجلی کے جھٹکے دیئے او اس کی چیخ و پکار دوردور تک سنائی دی اور اس کے بازﺅں، ٹانگوں اور پیٹھ پر زخم کے نشانات موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ چوگام میں واقع فوجی کیمپ میں فوجیوں نے انہیں برہنہ کر کے اس کی ٹانگیں اور بازو باندھ کر لاٹھیوں سے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔بھارتی فوجیوں کے مظالم کی داستان یہی ختم نہیں ہوتی جس کو جاری رکھتے ہوئے عابد خان کہتے ہیں کہ کیمپ کے میجر نے ان پر بھارتی تسلط سے ا?زادی کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کے ریاض نائیکو کواپنی شادی میں شرکت کی دعوت دینے کا الزام لگایا۔ عابد نے مزید بتایا کہ بھارتی میجر نے اس کے جسم اور مخصوص اعضا پر بجلی کے جھٹکے دیے اور زخمی کردیا۔انہوں نے بتایا کہ صبح انہیں فوجی کیمپ سے رہا کردیاگیا اور وہ بمشکل کھڑا ہوپاتے تھے ، 10 دن تک متلی ہوتی رہی اور 20 دن بعد وہ چلنے کے قابل ہو ئے۔بھارتی فوج کے مظالم کا نشانہ بننے والے کشمیری نوجوان نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق کھانا نہیں کھا سکتااوردیگربنیادی کام انجام نہیں دے سکتا،اس طرح کا ظلم سہنے سے تو بہتر تھا وہ گولی سے مرجاتا۔مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوجیوں کی طرف سے گھروں میں چھاپے مارنا، شناختی کارڈ اور موبائل لے لینا اور نوجوانوں کو واپسی کے لیے فوجی کیمپ میں جا کر رپورٹ کرنے کی ہدایات دینا توروزکا معمول بن گیاہے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک کشمیری نوجوان نے اپنے زخموں کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ انہیں 27 اگست کے بعد سے اب تک تین مرتبہ پنہو کیمپ میں طلب کیاگیا ہے اورہر مرتبہ انہیں فوجیوں نے ظلم و تشددکا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر نے ان پر الزام لگایا کہ ا?پ کشمیری مجاہدین کو کھانا فراہم کرتے ہیں اور معلومات کے عوض پیسے کی پیش کش کی جبکہ دوسری مرتبہ اس کے سابق ساتھی طالب علم کے بارے میں پاچھ گچھ کی جو اب مجاہدبن گیاہے۔ اپنے بازوں پر تشدد کے نشانات دکھاتے ہوئے نوجوان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے تاریک کمرے کے اندر دو گھنٹوں تک اسے بجلی کے جھٹکے دیے۔گگلورا گاو?ں سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ عبید خان نے ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم کی دردناک کہانی سناتے ہوئے کہاکہ وہ 26 اگست کو اسی فوجی کیمپ سے اپنا شناختی کارڈ واپس لینے گئے تھے۔ فوجیوں نے سلاخوں سے انہیں وحشیانہ تشد د کا نشانہ بنایا اور ان سے بھارتی فوجیوں پر پتھراﺅکرنے والے نوجوانوں کا نام بتانے کیلئے زور دیتے رہے۔پنجورا گاو?ں کے مقامی سرکاری عہدیدار سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس اور فوج کی جانب سے صرف شوپیاں سے گرفتار کیے گئے ایک ہزار 800 افراد کی فہرست دیکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ا?ستینوں پر ‘کمانڈو’ کی پٹیاں سجائے اور رائفلز اٹھائے ہوئے پانچ فوجی شوپیاں ٹاو?ن میں ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر لوگوں کی تفصیلات اکٹھی کر رہے تھے۔ سجاد حیدر خان نے کہا کہ میں اپنی دبی ہوئی مخلصانہ ا?واز میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگوں کو احتجاج سے دور رکھنے کے لیے دباو? بڑھایا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست کے بعد سے اب تک مقبوضہ علاقے میں فوجیوں پر کوئی پتھراو? نہیں ہواہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved